دنیا کشمیر کا نوٹس لے: پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے اقوام متحدہ، اسلامی ملکوں کی تنظیم اور عالمی برادری سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے ’معصوم افراد کی ہلاکت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں‘ کا نوٹس لینے کے بارے میں کہا ہے۔ بدھ کے روز ہفتہ وار بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے کہا کہ ان اداروں کو باضابطہ طور پر پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کردیا گیا ہے۔ ایک سوال پر کہ بھارت نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر دیے جانے والے بیان کو مداخلت قرار دیا ہے، ترجمان نے کہا کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور عالمی برادری اس بات کو تسلیم بھی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب نہیں کیا گیا۔
جنوبی وزیر ستان میں ہونے والے میزائیل حملے کے بارے میں دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اُنہیں اس کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ امریکی اداروں کی تحویل میں پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ حکومت پاکستان نے امریکی انتظامیہ سے ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کے حوالے سے بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں بھی آئی ہیں کہ مذکورہ پاکستانی ڈاکٹر کے بچے بھی امریکی اداروں کی تحویل میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کے بچوں کی بھی وطن واپسی کے حوالے سے امریکی حکام سے کہا گیا ہے۔ ترکی کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس وقت 1700 پاکستانی ترکی کی مختلف جیلوں میں قید ہیں جن میں سے 475 پاکستانیوں کو واپس لایا جا چکا ہے جبکہ مزید چار سو پاکستانیوں کو تئیس اگست تک دو خصوصی پروازوں کے ذریعے وطن واپس لایا جائے گا۔ محمد صادق کا کہنا ہے کہ چودہ پاکستانی ہلاک ہوچکے ہیں جن کی میتیں پاکستان واپس لائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اُن ٹریول ایجنٹوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں جو اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ بھارت یا افغانستان کے حکام نے کابل میں بھارتی سفارتخانے کے باہر خودکش حملے کے بارے میں کوئی ثبوت پاکستان کو فراہم نہیں کیا۔ بھارت اور افغانستان نے الزام کے عائد کیا تھا کہ کابل میں بھارتی سفارتخانے کے باہر ہونے والے خودکش حملے میں پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی ملوث ہے۔ محمد صادق کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بے بنیاد الزامات سے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علاقے میں امن اور استحکام کے لیے کوئی مدد نہیں ملے گی۔ | اسی بارے میں ’تحریک آزادیِ کشمیر کا نیا شہید‘11 August, 2008 | انڈیا شیخ عزیز ہلاک، سرینگر میں کرفیو 11 August, 2008 | انڈیا ’پاکستان دخل نہ دے‘: ہندوستان 12 August, 2008 | انڈیا کشمیر بھر میں کرفیو اور جنازے13 August, 2008 | انڈیا 13 مظاہرین ہلاک، کرفیو جاری12 August, 2008 | انڈیا ڈاکٹر عافیہ کا جیل میں طبی معائنہ13 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||