قومی اسمبلی میں بلدیات نظام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں ملک میں قائم بلدیاتی اداروں کے کردار پر تفصیلی بحث کی گئی اور وقفہ سوالات میں حکومت کے وزراء نے پی ائی اے کی مالی حالت اور سکیورٹی امور سے متعلق سوالات کا جواب دیا۔ ملک میں قائم بلدیاتی اداروں کے کردار پر تفصیلی بحث کے دوران اراکان نے صدر پرویز مشرف کے نافذ کردہ اس نظام کی خوبیوں اور خامیوں کا احاطہ کیا تاہم غیر متوقع طور پر بیشتر ارکان نے اس نظام کو برقرار رکھنے پر اصرار کیا۔ ’ضلعی حکومتی نظام میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور اس کی ناکامی‘ کے موضوع پر تحریک التوا کی ذیل میں ہونے والی اس بحث میں حزب اقتدار اور اختلاف کے کئی اراکین نے حصہ لیا۔ تحریک پر بحث کا وقت ختم ہونے کے باوجود ارکان کی اس موضوع میں دلچسپی کے باعث حکومت نے ایک تحریک کے ذریعے اس بحث کو مزید وقت کے لیے جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ متحہدہ قومی موومنٹ کے رکن عبدالقادر خانزادہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں جتنے ترقیاتی کام ان اداروں کے ذریعے ہوئے ہیں ان کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں کو ختم کرنے کے بجائے ان کے اختیارات بڑھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ندیم افضل گوندل نے کہا کہ اس نظام میں بہت خرابیاں ہیں لیکن اسے سرے سے ختم کر دینا مسئلےکا حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اس نظام کے خلاف ہے لیکن وہ اس کی خامیاں ختم کر کے اس برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔ پیپلز پارٹی ہی کہ سید حیدر علی شاہ نے کہا کہ منتخب ارکان کی کمیٹیاں بنا کر اس نظام کی اصلاح کی جائے۔ پاکستان مسلم لیگ قاف کے ریاض فتیانہ نے کہا کہ اس نظام کی وجہ سے عوام کو انگریز راج کی یاد ڈپٹی کمشنر سے نجات ملی اور عوام کے منتخب نمائندے ان کی قسمت کے مالک قرار پائے۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام میں کچھ خامیاں ہیں جنہیں درست کیا جانا چاہئے۔ پیلز پارٹی کے میر نور علی کھوسہ نے کہا کہ سرکار کے پیسے جو ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونے چاہئے تھے، حکومت کے منظور نظر افراد کے انتخابی جلسوں پر صرف کی جاتے رہے۔ مسلم لیگ قاف کی کشمالہ طارق نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی بلدیاتی نظام کا جائزہ لےکر اس کا مقابلہ موجودہ بلدیاتی نظام سے کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کا مقصد ہے ’مقامی مسائل مقامی حل‘ اور اس نعرے کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔ وقفہ سوالات، پی آئی اے، بم حملے یہ بات بدھ کے روز قومی اسمبلی کو وقفہ سوالات کے دوران وزیر دفاع احمد مختا نے ایک سوال کے تحریری جواب میں بتائی۔ وزیر دفاع نے کہا کہ گزشتہ ایک برس سے پی آئی اے کے جہازوں کی یورپی یونین کی حدود میں پرواز کرنے پر عائد اس پابندی سے پی آئی اے کو ایک ارب اڑسٹھ کروڑ کا محصولاتی نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس نوعیت کی پابندیوں کے نفاذ سے بچنے کے لیے پی آئی اے نے متعدد اقدامات کیے ہیں جن میں یورپی معیارات سے آگاہی، جہاز سے متعلق دستاویزات کی جامع اور تکنیکی تیاری، یورپی کمیشن کے ساتھ بہتر مواصلاتی رابطہ۔ معیار کی بہتری کے نظام کی تشکیل نو اور طیاروں کی ظاہری خوبصورتی میں بہتری اور ان کی اڑان میں نکھار پیدا کرنا شامل ہے۔ وزیر دفاع نے ایک اور سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ پی آئی اے کے کُل اثاثہ جات ایک سو چھیانوے ارب روپے جبکہ اس پر کُل واجبات کی مالیت ستتر ارب روپے ہے۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ سال دو ہزار پانچ سے پہلے پی آئی اے ایک سے ڈیڑھ ارب روپے سالانہ نفع کما رہی تھی جبکہ دو ہزار پانچ کے پہلے چھ ماہ میں قومی ائیرلائن کو دو ارب روپے کا نقصان ہوا۔ سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران ملک میں امن و امان کے حوالے سے مختلف سوالات کے تحریری جواب میں مشیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا کہ اٹھارہ فروری کے روز ہونے والے عام انتخابات کے دوران پُر تشدد واقعات میں اٹھارہ افراد ہلاک اور ایک سو نوے زخمی ہوئے تھے۔ مشیر داخلہ کے مطابق صوبہ پنجاب کا محکمہ داخلہ ان افراد کے لواحقین کو معاوضے کی رقم دینے کی تجویز پر غور کر رہی ہے جبکہ باقی صوبوں میں ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ رحمٰن ملک نے بتایا کہ سنہ دو ہزار چار کے بعد سے ملک میں آٹھ سو بتیس بم دھماکے ہو چکے ہیں جن میں تین سو تئیس افراد ہلاک اور گیارہ سو نوے زخمی ہو چکے ہیں۔ ان ہلاک شدگان کو معاوضے کی رقوم بھی ادا کی جا رہی ہیں اور اس بارے میں ہر صوبے کی الگ پالیسی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں ہر فوت ہونے والے فرد کے لواحقین کو ڈھائی لاکھ روپے کے حساب سے ایک کروڑ ستاسی لاکھ روپے ادا کیے گئے ہیں۔ مشیر داخلہ نے بتایا کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام کے تحت ملک بھر سے گزشتہ پانچ برس کے دوران گیاہ ہزار سے زائد افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد میں، تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار اغیر ملکی صوبہ سرحد سے گرفتار کیے گئے ہیں۔ |
اسی بارے میں آئینی پیکج بجٹ کے بعد اسمبلی میں03 June, 2008 | پاکستان پاکستان: متعدد قوانین میں ترمیم04 June, 2008 | پاکستان پُرانا بلدیاتی نظام بحال ہوگا: وزیر 31 May, 2008 | پاکستان ’نجکاری کا فی الحال ارادہ نہیں‘28 May, 2008 | پاکستان وفاقی بجٹ سات جون کو 26 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||