BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 May, 2008, 03:05 GMT 08:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پُرانا بلدیاتی نظام بحال ہوگا: وزیر

وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک
فاروق ایچ نائیک کے مطابق بلدیاتی نظام صوبائی معاملہ ہے اور اسے صوبوں کے پاس ہی رہنا چاہیے
وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کا کہنا ہے کہ ملک میں پُرانا بلدیاتی نظام بحال کیا جائے گا اور پاکستان کے چاروں صوبوں نے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے متعارف کروائے ہوئے بلدیاتی نظام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

قومی تعمیر نو بیورو کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے متعارف کروائے گئے ناظمین کے سسٹم کو آئین کی شق چھ کے تحت آئینی تحفظ حاصل ہے اور اس کو ختم کرنے کے لیے آئین میں ترمیم ضروری ہے۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ اس حوالے سے نکات موجوزہ آئینی پیکج میں شامل کیے جا رہے ہیں اور اس آئینی پیکج کو حکمراں اتحاد میں شامل دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کرنے کے بعد اسے پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام صوبائی معاملہ ہے اور اسے صوبوں کے پاس ہی رہنا چاہیے۔

اجلاس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور چاروں صوبوں کی پولیس کے سربراہوں کے علاوہ متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں پولیس آرڈر سنہ دو ہزار دو میں بھی تبدیلیاں لانے کے حوالے سے بھی مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں موجود پولیس افسران نے بتایا کہ پولیس آرڈر سنہ دو ہزار دو میں شہر کی پولیس کے سربراہ کو ضلعی ناظم کے ماتحت کر دیا گیا جو کہ اُن کی کارکردگی کے حوالے سے اُن کی رپورٹیں بھی لکھتے ہیں۔ ان پولیس افسران کا کہنا تھا کہ اس سے پولیس کے محکمے میں سیاست کا عمل دخل شروع ہوگیا ہے جس سے پولیس کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔

اجلاس میں اُس آڈٹ رپورٹ پر بھی غور کیا گیا جس میں صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کے دور حکومت میں ناظمین کی طرف سے کی جانے والی مالی بدعنوانی کا ذکر کیا گیا ہے۔

اجلاس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ اس نئے نظام کی وجہ سے صوبوں کو شدید نقصان اُٹھانا پڑا اور ناظمین نے ریاست میں اپنی ریاست قائم کر رکھی تھی۔

اجلاس میں ملک میں مجسٹریسی نظام کی دوبارہ واپسی کی تجویز بھی دی گئی اور اس ضمن میں چیف سیکرٹری سندھ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کا اجلاس دس جون کو کراچی میں ہوگا۔

اجلاس میں قومی تعمیر نو بیورو کے موجودہ ڈھانچے میں تبدیلی کے حوالے سے بھی مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اس میں صوبوں کو بھی نمائندگی دی جائے گی۔

ادھر وزیر اعظم سید یو سف رضا گیلانی نے بلدیات اور دیہی ترقی کی وزارت کو ہدایت کی ہے کہ وہ قومی تعمیر نو بیورو کے ساتھ ملکر مختلف منصوبے تیار کریں تاکہ دیہی اور شہری علاقوں میں ترقی کے فرق کو کم کیا جاسکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد