’صدر محترم، مگر مشن بھی عزیز ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ وہ صدر کا بے حد احترام کرتے ہیں اور کسی تصادم کی بات نہیں کرتے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنی پارٹی کی پالیسی، بے نظیر بھٹو کے منشوراور ذوالفقار علی بھٹو کے مشن کی بات کرتےہیں جو ان کے لیے اہم ہے۔ یہ بات انہوں نے لاہور کے سٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق پالیسی کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوئے اور اب ان کی حکومت ہتھیار پھینک دینے والوں سے گفت و شنید کرے گی اور انہیں مرکزی سیاسی دھارے میں لے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مذاکرات ان لوگوں سےکیے جائیں گے جو انتہاپسند اور عسکریت پسند نہیں ہونگے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی پالیسی ہے کہ بنیادی وجوہات کو دیکھنا ہے آیا کہ جو دہشت گردی یا انتہا پسندی ہے اس کی زمینی حقائق کیا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، برطانیہ سمیت سب یہ جانتے ہیں کہ سابق پالیسیوں کو کچھ زیادہ نتائج نہیں مل سکے۔ پاکستان کے وزیر اعظم نےکہا کہ ساتھ ساتھ ان علاقوں میں صحت و تعلیم کی سہولیات میں اضافہ کیا جائے گا۔ لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے،علاقے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام ہوگا اور ترقی کے ذریعے ان علاقوں میں انقلاب لایا جائے گا۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا کہ فورسز ان علاقوں میں بدستور موجود رہیں گی اور جب ان کی ضرورت محسوس ہو تو انہیں استعمال کیا جائے گا۔ پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ ہفتے مشرق وسطیٰ میں امریکی صدر بش سے ملاقات کی تھی جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے سے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ان کی حکومت کی پالیسی کو پوری دنیا میں سراہا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہماری نیت ہے کہ ملک میں امن وامان ہو۔‘ وزیر اعظم نے پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت لانے کےعزم کا اظہار کیا اور اسی سلسلے میں مجوزہ آئینی ترامیمی پیکج کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہاں تک ایوان صدر کا تعلق ہے ہم صدر صاحب کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ ہم اپنی پارٹی کی پالیسی، بے نظیر بھٹو کے منشوراور ذوالفقار علی بھٹو کے مشن کی بات کرتےہیں۔ہم کسی تصادم کی بات نہیں کرتے۔‘ یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ انیس سو تہترکے آئین پارلیمانی طرز حکومت پر مبنی تھا لیکن جب اس میں ترامیم کی گئیں تو وہ نہ پارلیمانی رہا نہ صدارتی رہا۔اب اس میں توازن لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ’ان کا عوام سے وعدہ ہے کہ انیس سو تہتر کا آئین بحال کیا جائے گا اور اس کا مقصد(آئینی پیکیج کا) اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے وہ کسی سے تصادم نہیں چاہتے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس آئینی پیکج کے حوالے سے پارٹی کی قیادت کو اعتماد میں لے لیا گیا ہے اورتمام اتحادی جماعتوں سے رائے لی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان ترامیم کے نفاذ کے لیے قرارداد لائی جائے گی یا کوئی دوسرا طریقہ استعمال ہوگا اس کا فیصلہ وزارت قانون کرے گی اور پارٹی یہ فیصلہ کرے گی کہ یہ آئینی پیکج بجٹ سے پہلے آنا چاہیے یا اس کے بعد پارلیمان میں پیش کیا جائے۔ بلوچستان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ چاہتےہیں کہ وہاں طاقت کا استعمال نہ کیا جائے اور مذاکرات کیے جائیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلائی جارہی ہے۔ |
اسی بارے میں ایوان صدر سے تصادم کے راستے پر؟23 May, 2008 | پاکستان ’مشرف کو آئینی صدر نہیں مانا‘24 May, 2008 | پاکستان باسٹھ نکاتی آئینی پیکج تیار: آصف23 May, 2008 | پاکستان اقوامِ متحدہ سے تحقیقات کا اعلان 22 May, 2008 | پاکستان مشرف کی ایوان صدر میں منتقلی 23 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||