اقوامِ متحدہ سے تحقیقات کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومتِ پاکستان نے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوامِ متحدہ سے کرانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اس بات کا اعلان پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیرِ قانون فاروق نائیک نے اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس بریفنگ میں کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ باضابطہ درخواست اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم دے دیں گے اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے (شاہ محمود قریشی اور فاروق نائیک کی) ملاقات کے لیے وقت مانگیں گے۔ ان کے بقول جیسے ہی ملاقات طے ہوگی وہ دونوں وزراء نیو یارک جائیں گے اور ان سے ملیں گے۔ ’ہم اقوام متحدہ میں پاکستان کے دوست ممالک کے نمائندوں سے بھی ملیں گے تاکہ جلد سے جلد کمیشن بنے اور اپنا کام مکمل کرے۔‘ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں سے متفقہ طور پر بینظیر بھٹو کے قتل کی جانچ اقوام متحدہ سے کرانے کے بعد ان کی وزارت نے وزارت قانون اور وزارت داخلا سے مشاروت کے بعد وزیراعظم سے منظوری حاصل کی اور اب باضابطہ طور پر سیکریٹری جنرل سے رجوع کر رہی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ’بینظیر بھٹو کا قتل قومی سانحہ ہے اور یہ کوئی عام روایتی قتل نہیں ہے، اس لیے قاتلوں کی نشاندہی کے لیے اقوام متحدہ سے تحقیقات کرائی جا رہی ہیں‘۔ ان کے بقول حکومت نے ایسا طریقۂ کار طے کیا ہے جس سے ملکی وقار اور خودمختاری پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔ وزیر قانون فاروق نائیک نے کہا کہ اس قتل میں بیت اللہ محسود کا نام لیا گیا ہے اور ان کا تعلق القاعدہ سے ہے اور القاعدہ دنیا کے کئی ممالک میں پھیلی ہوئی ہے، اس لیے بین الاقوامی تحقیقات کروائی جا رہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ فی الوقت بیت اللہ محسود کو بینظیر کا قاتل قرار نہیں دیتے کیونکہ اس بات کا تعین عالمی تحقیقات کے بعد عدالت نے کرنا ہے۔
’اقوام متحدہ سے تحقیقات کرانے کا مقصد کسی کو انتقام کا نشانہ بنانا یاپگڑی اچھالنا نہیں ہے بلکہ اصل قاتلوں کو بے نقاب کرنا اور اس کے حقائق قوم کے سامنے لانا ہے۔‘ دونوں وزراء سے کافی تیز و تند سوالات ہوئے اور یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا اس طرح کرنا اپنی سکیورٹی ایجنسیز پر عدم اعتماد نہیں ہے تو انہوں نے ایسے تاثر کو رد کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اب پیپلز پارٹی کی اپنی حکومت ہے اور تاحال انہوں نے ثبوت مٹانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی تو شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ معاملہ غیر جانبدار رہے اور یہ ساری باتیں کہ جائے وارادت کس کے حکم پر دھوئی گئی اور ٹبوت کس نے مٹائے، یہ سوالات اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کے سامنے اٹھائیں جائیں گے۔ جب انہیں یاد دلایا گیا کہ بینظیر بھٹو نے صدر مشرف کو لکھے گئے خط میں کچھ نام بھی لیے تھے تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ خط، ویڈیو ٹیپ اور دیگر تمام ثبوت اقوام متحدہ کے کمیشن میں پیش کیے جائیں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تحقیقات مکمل کرنے کے لیے مدت مقرر ہوگی اور ٹرمز آف ریفرنس قاتلوں کی نشاندہی کرنا، ان کی مدد اور معاونت کرنے اور منصوبہ سازوں کا پتہ چلانا ہوگا۔ جب ان سے پوچھا کہ اگر اقوام متحدہ کے تفتیش کار بینظیر بھٹو کی نعش نکالنے پر اسرار کریں تو وزیر قانون نے کہا کہ اس کی ضرورت اس لیے نہیں ہوگی کیونکہ یہ طے پاچکا ہے کہ محترمہ کو قتل کیا گیا ہے اور اب یہ دیکھنا ہے کہ قاتل کون ہیں اور اس سازش کے پیچھے کون ہیں؟۔ فاروق نائیک نے ایک سوال پر بتایا کہ پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ایک کمیشن بنائیں گے۔ ان کے مطابق کمیشن بننے کے بعد دنیا کے مختلف ممالک کے تفتیش کاروں کا پینل تشکیل دیا جائے گا اور وہ تحقیقات کرنے کے بعد اپنی رپورٹ کمیشن کو پیش کرے گا۔ دریں اثنا ہندوستان کے سرکاری خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے بتایا ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھارت کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی سے درخواست کی ہے کہ پاکستان اور بھارت مل کر بینظیر بھٹو کے قتل کی جانچ اقوام متحدہ سے کرانے کی قرار داد اقوام متحدہ کے فورم پر پیش کریں۔ واضح رہے کہ پاکستان کے صدر پرویز مشرف بینطیر بھٹو کے قتل کی جانچ اقوام متحدہ سے کرانے کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور خیال ہے کہ حکومت کے اس فیصلے کے بعد دونوں میں اختلافات کی خلیج بڑھ سکتی ہے۔ | اسی بارے میں بی بی قتل، تحقیق اقوام متحدہ سے09 May, 2008 | پاکستان ’بینظیر قتل کی تحقیقات ہوں گی‘29 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||