BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 April, 2008, 09:53 GMT 14:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکیوں کو براہِ راست رسائی نہیں‘

شاہ محمود قریشی
حکومت نے اسٹرٹیجک پلانز ڈویژن بھی قائم کر دیا ہے
پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں کوئی ایسا امریکی اہلکار تعینات کیا جا رہا ہے جسے جوہری اثاثوں کا انتظام چلانے والے ادارے نیشنل کمانڈ اتھارٹی تک براہ راست رسائی حاصل ہوگی۔

انہوں نے یہ بات قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران حزب اختلاف کے اراکین ڈاکٹر عطیہ عنایت اللہ، میاں ریاض حسین پیرزادہ، بیگم شہناز شیخ اور بیگم نوشین سعید کی جانب سے اس بابت توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہی۔

ان کا کہنا کہ یہ ایک غلط اخباری خبر تھی جس کی تردید پہلے ہی جاری کی جا سکی ہے۔ وزیر خارجہ نے ایوان کو یقین دلایا کہ حکومت پاکستان کو امریکی کی جانب سے ایسی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی پاکستان ایسی رسائی دینے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے اور تشویش کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

اس پر میاں ریاض حسین نے کھڑے ہو کر کہا کہ اچھا ہے اب حکمراں جماعتوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ جوہری پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے ورنہ اس سے قبل وہ اس بابت شک کا اظہار کرتے رہتے تھے۔

وزیر خارجہ نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے اسٹرٹیجک پلانز ڈویژن قائم کردیا ہے جو کہ سیکریٹریٹ کی ذمہ داری پوری کرے گا جہاں جوہری پروگرام سے متعلق عالمی خدشات کو دور کرنے کے لیئے غیرملکی سفیروں کو بریفنگ دی جا چکی ہے۔

’جوہری پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے اور تشویش کی کوئی ضرورت نہیں‘

یاد رہے کہ پاکستان میں بعض اخبارات میں ایسی خبریں شائع ہوئی تھیں کہ امریکی جنرل ہوڈ کو جو پہلے بدنام امریکی قید خانےگوانتانامو بے میں بھی رہ چکے ہیں،’این سی اے‘ تک براہ راست رسائی کی غرض سے اسلام آباد میں تعینات کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر عطیہ عنایت اللہ نے توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرتے ہوئے حکومت کو یاد دلایا کہ اس نے خارجہ پالیسی پارلیمان میں تیار کرنے کا وعدہ کیا ہے اور وہ اس پر قائم رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی خواہش ہے کہ امریکہ کو ملک کے داخلی امور سے بے دخل کیا جائے۔

وزیر خارجہ نے ایوان کو ایک اور توجہ دلاؤ نوٹس پر بھی یقین دلایا کہ بھارت کے ساتھ دریائے چناب اور جہلم پر متنازعہ آبی منصوبوں کی تعمیر پر مذاکرات جاری ہیں اور اس بابت ملکی مفاد اور حقوق کے تحفظ کو ترجیح دی جائے گی۔

شاہ محمود قریشی نے ایوان کو بتایا کہ وولر بیراج کا معاملہ اب پاک بھارت جامع مذاکرات کا حصہ ہے جس پر مئی میں بات ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارت کو اس بابت اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا ہے۔

ایوان میں ایک اور اہم پیش رفت مسلم لیگ (ن) کے چوہدری برجیس طاہر کی جانب سے ضلعی حکومتوں میں مبینہ بدعنوانی اور ناکامیوں پر بحث کے لیے ایک تحریک التوا پیش کی جو ایوان نے منظور کر لی۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف فاروق ایچ نائیک نے بھی اس قرار داد کی مخالفت نہیں کی۔ صدر پرویز مشرف کے متعارف کردہ ضلعی حکومتوں کے نظام پر یہ بحث بعد میں متوقع ہے۔

بعد ازاں اجلاس سوموار شام چار بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد