’جوہری ہتھیاروں کو خطرہ نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے امریکی خفیہ ایجنسیوں کی ان حالیہ رپورٹوں کو بھی مسترد کیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ ملک کے جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول کو خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے جائزے کے لیئے پانچ سو کے لگ بھگ غیرملکی مبصرین کو ویزے جاری کر دیئے گئے ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے بدھ کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران صحافیوں کے امریکی سکیورٹی اہلکار کے ایک حالیہ بیان پر کہ پاکستان کے جوہری اثاثوں کی فوجی حفاظت میں ہونے کے باوجود خطرات موجود ہیں کہا کہ یہ شکوک و شبہات اور تشویش بےبنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کی حفاظت پاکستانی حکومت اور عوام کے لیئے ایک چیلنج ہے اور وہ اس بارے میں سنجیدہ ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنا موقف پوری طرح سے واضح کر چکا ہے لہذا اس بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مقابلہ کے لیئے پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں جوکہ اس کے خلوص کا واضح مظہر ہے۔ انتخابات کی نگرانی کے لیئے آنے والے غیر ملکی مندوبین کی تعداد بتاتے ہوئے محمد صادق نے کہا کہ یہ اب تین سو سے بڑھ کر پانچ سو تک پہنچ گئی ہے۔ ترجمان نے ان مبصرین کی جزوی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ان میں ڈیموکریسی انٹرنیشنل نامی تنظیم کے 35 چار او آئی سی کے چار مبصر شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیرملکی مبصرین کو اسلام آباد اور چاروں صوبائی دارلحکومتوں کے علاوہ کہیں جانے کے لیئے حکومت کو سکیورٹی کے لیے درخواست دینا ہوگی۔ تاہم انہوں نے ایک بھارتی صحافی کی اجازت سے متعلق شکایت پر کہا کہ صحافیوں کے لیئے ایک طریقہ کار ہے جس پر عمل کیا جاتا ہے۔ دولت مشترکہ کے بارے میں ترجمان کا کہنا تھا کہ چونکہ انہوں نے پاکستان کی رکنیت معطل کی ہوئی ہے لہذا انہیں مبصرین بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ترجمان نے ان اطلاعات کو غلط قرار دیا جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بس سروس کو ختم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسافروں کی کمی کی وجہ سے ایک سروس کو ختم کرنے یا اس کا روٹ تبدیل کرنے پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان جلد مشاورت ہوگی۔ ترجمان نے بھارتی حکومت کی جانب سے گوادر منصوبے کی مخالفت کو بھی بےجا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بلوچستان کی عوام کی بہبود کے اس منصوبے کا کسی دوسرے ملک سے کوئی کام نہیں۔ | اسی بارے میں صدرمشرف کا دورہ ’ورکنگ وزٹ‘ ہے 23 January, 2008 | پاکستان ’غیر ملکی کارروائی حملہ تصور ہوگی‘16 January, 2008 | پاکستان بینظیر کیس میں مدد کو تیار: فرانس02 January, 2008 | پاکستان کرزئی کی چھبیس کو پاکستان آمد19 December, 2007 | پاکستان ’مشرف ریٹائرمنٹ سے فرق نہیں پڑیگا‘28 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||