جوہری پلانٹ سے زہریلی گیس خارج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واقع اٹامک انرجی پلانٹ میں زیریلی گیس کے اخراج سے دو افراد ہلاک جبکہ کئی متاثر ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق گیس سے متاثرہ افراد کو قریبی ہسپتالوں میں علاج کے لیے پہنچایا گیا ہے۔ یہ پلانٹ وسطی پنجاب کے ضلع خوشاب میں واقع ہے جہاں جوہری توانائی کے لیے درکار بھاری پانی تیار کیا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ آج دوپہر ڈھائی بجے اس وقت پیش آیا جب پلانٹ کی سالانہ دیکھ بھال کا کام جاری تھا اور پلانٹ بند تھا۔ حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ صورتحال اب مکمل قابو میں ہے اور تشویش کی کوئی بات نہیں۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ واقعے کی وجوہات کا فوری طور پر علم نہیں ہو سکا البتہ تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق پلانٹ پر کام کرنے والے ملازمین کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور احتیاطاً تمام عملے کو پلانٹ سے باہر نکال دیا گیا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ زہریلی گیس کے اخراج سے مقامی آبادی کو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ پلانٹ کے خودکار نظام نے اس زیرہلی گیس کو فضا میں جلا کر ختم کر دیا ہے۔ سرکاری طور پر ہلاک شدگان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے ہیں تاہم جوہری توانائی کے ادارے کے ترجمان نے تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والے دونوں پلانٹ کے ملازمین تھے جو اخراج پر قابو پانے کی کوشش میں جان کھو بیٹھے۔غیر سرکاری ذرائع کے مطابق مرنے والوں کے نام محمد انور شمس اور لعل بتائے گئے ہیں۔ یہ پلانٹ جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کے حفاظتی قواعد کے دائرے میں نہیں آتا۔ یہ پلانٹ چین کے تعاون سے مارچ انیس سو چھیانوے میں مکمل ہوا تھا۔ یہ پلانٹ پاکستان کے جوہری پروگرام کا ایک اہم حصہ ہے جہاں جوہری ہتھیاروں کے لیے درکار اجزاء تیار کیا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں ’پاکستان تیسرا ری ایکٹر بنا رہا ہے‘23 June, 2007 | پاکستان خوشاب میں تیسرا ری ایکٹر22 June, 2007 | پاکستان پاکستانی ری ایکٹر پر رپورٹ مُسترد04 August, 2006 | پاکستان ’پاکستان جوہری پروگرام بڑھا رہا ہے‘24 July, 2006 | پاکستان ایٹمی فضلہ ’ڈمپ‘ کرنے پر تشویش26 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||