پاکستان: متعدد قوانین میں ترمیم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکومت نے قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کو آسان بنانے، سٹاک مارکیٹ سے بڑے بروکروں کی اجارہ داری ختم کرنے اور الیکشن پٹیشنز پر جلد فیصلوں کو یقینی بنانے سمیت متعدد قوانین میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری بدھ کو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں دی گئی۔ کابینہ کے اجلاس کے فیصلوں کی بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت نے گریڈ ایک سے پندرہ کے تمام وفاقی عارضی ملازمین جن کی ملازمت دو سال یا اس سے زائد ہوچکی ہے ، انہیں مستقل کرنے کا اصولی فیصلہ بھی کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ابھی تفصیلات طے ہونی ہیں اور وزیراعظم نے عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کے معاملے کو جلد حتمی شکل دے کر کابینہ کو پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
شیری رحمٰن نے بتایا کہ کابینہ نے ’پی آئی اے‘ میں یونین سازی پر عائد پابندی ختم کر دی ہے اور اس ادارے کے ایسے عارضی ملازمین جن کی مدت ملازمت نو ماہ ہوچکی ہے انہیں مستقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کابینہ نے ضابطہ فوجداری میں ترمیم کی منظوری دی ہے، جس کے تحت سزائے موت والے مقدمات میں دو برس تک قید رہنے والے ایسے قیدی جن کے مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوسکا یا جن کی اپیلیں اعلیٰ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں انہیں ضمانت پر رہا کیا جاسکے گا۔ جبکہ دیگر مقدمات کے قیدی ایک سال قید کی صورت میں ضمانت کے حقدار قرار پائیں گے۔ وزیر کے مطابق کابینہ نے الیکشن پٹیشنز کے جلد فیصلے کے لیے 1976 کے عوامی نمائندگان ایکٹ میں ترمیم کی منظوری بھی دی ہے۔ جس کے تحت ان کے بقول الیکشن پٹیشن کا چار ماہ میں فیصلہ کرنا لازم ہوگا اور اس دوران شنوائی میں دو بار سے زیادہ التویٰ نہیں کیا جائے گا۔ بصورت دیگر مجوزہ ترمیم کے بعد فی التویٰ دس ہزار روپے فیس ادا کرنی ہوگی۔
تاہم یہ انہوں نے واضح نہیں کیا کہ فیس کون کرے گا اور یہ رقم پٹیشنر کو ملے گی یاکہ عدالت کو۔ وزیر اطلاعات کے مطابق یہ ترمیم اس لیے کی گئی ہے کیونکہ ماضی میں اسمبلی کی مدت ختم ہوجاتی ہے یا پھر توڑ دی جاتی ہے لیکن الیکشن پٹیشن کا فیصلہ تک نہیں ہوتا۔ سٹاک مارکیٹوں میں بڑے بروکروں کی اجارہ داری کم کرنے کے بارے میں متعلقہ قانون میں ترمیم کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجوزہ ترمیم کے تحت بروکرز کی رجسٹریشن فیس تیرہ کروڑ روپے سے کم کر کے ایک کروڑ روپے کردی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے گوادر پورٹ اتھارٹی کے قانون میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے اور اس بارے میں بلوچ سیاسی رہنماؤں کی مشاورت سے تبدیلی لائی جائے گی۔ شیری رحمٰن نے بتایا کہ وزیراعظم نے پانی و بجلی کے وزیر کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملک میں جاری بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دوران ٹیکسٹائل، پاور لومز اور زرعی ٹیوب ویلز کو زیادہ سے زیادہ بجلی کی فراہمی یقینی بنائیں تاکہ ان صنعتوں کو کم سے کم نقصان ہو۔ وزیر کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے چند روز قبل ڈنمارک ایمبیسی میں ہلاک ہونے والوں کو ایک لاکھ روپے فی کس امداد دینے کی بھی منظوری دی ہے۔ | اسی بارے میں بار کونسل ایکٹ، ترمیمی آرڈیننس25 November, 2007 | پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی آرڈیننس جاری10 November, 2007 | پاکستان ’ماتحت ادارہ آئین میں کیسے ترمیم کر سکتا ہے‘ 17 September, 2007 | پاکستان قوانین میں ترمیم: ماہرین میں اختلاف16 September, 2007 | پاکستان پنجاب:حکومت سازی کا فارمولا طے05 April, 2008 | پاکستان سوات انتخابات شیڈول کے مطابق 24 November, 2007 | پاکستان نگراں حکومت کا سب سے بڑا چیلنج17 November, 2007 | پاکستان کشمیر کابینہ: اسلام آباد میں حلف07 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||