BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 June, 2008, 16:09 GMT 21:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان: متعدد قوانین میں ترمیم

وزیر اطلاعات شیری رحمٰن
وزیراعظم نے عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کے معاملے کو جلد حتمی شکل دے کر کابینہ کو پیش کرنے کی ہدایت کی ہے
پاکستان میں حکومت نے قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کو آسان بنانے، سٹاک مارکیٹ سے بڑے بروکروں کی اجارہ داری ختم کرنے اور الیکشن پٹیشنز پر جلد فیصلوں کو یقینی بنانے سمیت متعدد قوانین میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔

یہ منظوری بدھ کو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں دی گئی۔

کابینہ کے اجلاس کے فیصلوں کی بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت نے گریڈ ایک سے پندرہ کے تمام وفاقی عارضی ملازمین جن کی ملازمت دو سال یا اس سے زائد ہوچکی ہے ، انہیں مستقل کرنے کا اصولی فیصلہ بھی کیا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ابھی تفصیلات طے ہونی ہیں اور وزیراعظم نے عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کے معاملے کو جلد حتمی شکل دے کر کابینہ کو پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پی آئی اے یونین پر پابندی ختم
 کابینہ نے پی آئی اے میں یونین سازی پر عائد پابندی ختم کر دی ہے اور اس ادارے کے ایسے عارضی ملازمین جن کی مدت ملازمت نو ماہ ہوچکی ہے انہیں مستقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے
شیری رحمٰن

شیری رحمٰن نے بتایا کہ کابینہ نے ’پی آئی اے‘ میں یونین سازی پر عائد پابندی ختم کر دی ہے اور اس ادارے کے ایسے عارضی ملازمین جن کی مدت ملازمت نو ماہ ہوچکی ہے انہیں مستقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کابینہ نے ضابطہ فوجداری میں ترمیم کی منظوری دی ہے، جس کے تحت سزائے موت والے مقدمات میں دو برس تک قید رہنے والے ایسے قیدی جن کے مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوسکا یا جن کی اپیلیں اعلیٰ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں انہیں ضمانت پر رہا کیا جاسکے گا۔ جبکہ دیگر مقدمات کے قیدی ایک سال قید کی صورت میں ضمانت کے حقدار قرار پائیں گے۔

وزیر کے مطابق کابینہ نے الیکشن پٹیشنز کے جلد فیصلے کے لیے 1976 کے عوامی نمائندگان ایکٹ میں ترمیم کی منظوری بھی دی ہے۔ جس کے تحت ان کے بقول الیکشن پٹیشن کا چار ماہ میں فیصلہ کرنا لازم ہوگا اور اس دوران شنوائی میں دو بار سے زیادہ التویٰ نہیں کیا جائے گا۔ بصورت دیگر مجوزہ ترمیم کے بعد فی التویٰ دس ہزار روپے فیس ادا کرنی ہوگی۔

بروکرز کی رجسٹریشن فیس میں کمی
 سٹاک مارکیٹوں میں بڑے بروکروں کی اجارہ داری کم کرنے کے لیے بروکرز کی رجسٹریشن فیس تیرہ کروڑ روپے سے کم کر کے ایک کروڑ روپے کردی جائے گی
شیری رحمٰن

تاہم یہ انہوں نے واضح نہیں کیا کہ فیس کون کرے گا اور یہ رقم پٹیشنر کو ملے گی یاکہ عدالت کو۔ وزیر اطلاعات کے مطابق یہ ترمیم اس لیے کی گئی ہے کیونکہ ماضی میں اسمبلی کی مدت ختم ہوجاتی ہے یا پھر توڑ دی جاتی ہے لیکن الیکشن پٹیشن کا فیصلہ تک نہیں ہوتا۔

سٹاک مارکیٹوں میں بڑے بروکروں کی اجارہ داری کم کرنے کے بارے میں متعلقہ قانون میں ترمیم کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجوزہ ترمیم کے تحت بروکرز کی رجسٹریشن فیس تیرہ کروڑ روپے سے کم کر کے ایک کروڑ روپے کردی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے گوادر پورٹ اتھارٹی کے قانون میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے اور اس بارے میں بلوچ سیاسی رہنماؤں کی مشاورت سے تبدیلی لائی جائے گی۔

شیری رحمٰن نے بتایا کہ وزیراعظم نے پانی و بجلی کے وزیر کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملک میں جاری بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دوران ٹیکسٹائل، پاور لومز اور زرعی ٹیوب ویلز کو زیادہ سے زیادہ بجلی کی فراہمی یقینی بنائیں تاکہ ان صنعتوں کو کم سے کم نقصان ہو۔

وزیر کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے چند روز قبل ڈنمارک ایمبیسی میں ہلاک ہونے والوں کو ایک لاکھ روپے فی کس امداد دینے کی بھی منظوری دی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد