BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 November, 2007, 14:16 GMT 19:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بار کونسل ایکٹ، ترمیمی آرڈیننس

وکلاء(فائل فوٹو)
ترمیم کے تحت کسی وکیل کو بےضابطگی کا مرتکب پانے پر سزا دی جا سکتی ہے
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے جاری کردہ ایک آرڈیننس کے ذریعے لیگل پریکٹیشنرز اور بار کونسل ایکٹ سن انیس تہتر میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت اب اعلیٰ عدالتوں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی وکیل کو بےضابطگی کا مرتکب پانے پر سزا دے سکتی ہے۔

نئے ترمیمی قانون کے تحت اگر کوئی شخص بار کونسل یا بار ایسو سی ایشن کی زیادتی کا شکار ہو تو وہ بار کونسل کے چیئرمین کے پاس اپیل کر سکتا ہے اور ان کا فیصلہ حتمی ہوگا۔

عہدے کے لحاظ سے بار کونسل کے چیئرمین ملک کے ایڈوکیٹ جنرل ہوتے ہیں اور اس وقت یہ عہدہ اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم کے پاس ہے۔

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے یہ آرڈینیس سنیچر کی شام کو جاری کیا جس کے ذریعے اس ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے۔ اس ترمیمی قانون کے تحت بار ایسوسی ایشن سے کسی وکیل کی رکنیت اس وقت تک ختم نہیں کی جا سکے گی یا اسے نکالا نہیں جا سکے گا جب تک کہ اس رکن کا موقف نہ سن لیا جائے گا اور اس پر بار کونسل کے چیئرمین کی پیشگی منظوری حاصل نہ کر لی جائے۔

اس قانون کے تحت سپریم کوٹ اور ہائیکورٹ کو پیشہ وارانہ یا کسی اور بےضابطگی کا مرتکب ہونے والے وکیل کو سزا دینے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شکایت پر یا دیگر ذرائع سے معلومات کی بنیاد پر سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے پاس یہ اخذ کرنے کے لیے معقول وجوہات موجود ہوں کہ کوئی وکیل پیشہ وارانہ یا کسی اور بےضابطگی یا بداعمالی کا مرتکب ہوا ہے تو عدالت کو یہ اختیار ہو گا کہ وہ رکن کو صفائی کا موقع دینے کے بعد شکایت کو رد کرسکتی ہے، وکیل کی سرزنش کر سکتی ہے اور جب تک مناسب سمجھے معطل بھی کر سکتی ہے جب تک عدالت مناسب سمجھے۔ اس کے علاوہ اس کے علاوہ عدالت ایڈوکیٹ کا نام وکلا’ کے فہرست سے خارج کرسکے کرسکتی ہے۔

سپریم کورٹ بار ایوسی ایشن کے نائب صدر سخی سلطان ایڈوکیٹ نے ترمیمی قانون کو غیر آئینی قراردیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ہنگامی حالت کی آڑ میں ملک میں مارشل لاء نافذ کیا ہے اور عبوری آئینی حکم نامہ جاری کیا جس کا مقصد عدلیہ کو اپاہج کرنا اور ججز اور وکلاء کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ میڈیا کے خلاف کارروائی کرنا تھا۔

انہوں نے کہا اب وکلاء کی آزادی سلب کرنے اور ان کو دبانے کے لیے قانون میں ترمیم کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان وکلاء کو تحفظ فراہم کرنا چاہتی ہے جو بار کونسل اور بار ایسوسی ایشن کے فیصلے کے خلاف پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججز کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ غلط فہمی ہے کہ ہم اس طرح کے ہتھکنڈوں سے خوفزدہ ہو جائیں گے اور حکومت اپنے عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ’ہم آمریت کے خاتمے، آئین کی بحالی اور ایمر جنسی سے پہلی والی عدالتوں کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے‘۔

فائل فوٹوجسٹس کی حمایت
ملک بھر میں وکلاء کا احتجاج تحریک بن گیا
احتجاجسندھ احتجاج
سندھ کی تمام عدالتوں کا بائیکاٹ اوراحتجاج
عاصمہ جہانگیروکلاء پر’ تشدد‘
جیلوں میں بند وکلاء نمائندوں پر تشدد کا الزام
جیلپابندِ سلاسل
وکلاء سے ملاقات کی اجازت، دوائیوں کی نہیں
احتجاجمظاہرے، احتجاج
ایمرجنسی کے خلاف مظاہرے جاری
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد