BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 November, 2007, 21:58 GMT 02:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وکلاء پر قابو پانے کے لیے آرڈیننس‘

وکلاء
وکلاء کی جانب سے عدالتی کارروائیوں کے باعث گزشتہ ایک ہفتے سے عدالتی معمولات ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں

پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ اور ججوں کی معطلی کے خلاف سراپا احتجاج وکلاء برادری کو کمزور کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ایک آرڈیننس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے بعد عدالتوں کو وکلاء کے لائسنس کی منسوخی کے اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔

پاکستان کے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے کہا ہے کہ اس آرڈیننس کا اجراء جلد کیا جائیگا جس کے بعد عدالتوں کو یہ اختیار حاصل ہوں گے کہ وہ توہین عدالت یا قانون کی خلاف ورزی کرنے والے وکلا کے خلاف کارروائی کر سکیں گی۔

ملک قیوم نے مقامی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس آرڈیننس کے تحت عدالت کو وکلاء کا لائسنس منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہوجائےگا۔ ان کا کہنا تھا کہ قانونی کی پیروی کرنے کے لیے جاری کیا گیا لائسنس ججوں کی توہین کی اجازت نہیں دیتا۔

اس ممکنہ آرڈیننس کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ بار کے سابق صدر اختر حسین کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بھی بار کونسل ایکٹ میں ترمیم کی کوششیں ہوتی رہی ہیں جس کی وکلاء برداری نے سخت مزاحمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بار کونسل ایکٹ کے تحت وکیلوں کے نظم و ضبط، اخلاق اور کردار کے حوالے سے بار کونسل کو اختیارات حاصل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں عدلیہ اور ججوں کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ وکلاء کے خلاف تادیبی کارروائی کریں یا ان کے لائسنس کو منسوخ یا معطل کریں اور یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

وکلاء تنظیموں کی جانب سے عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کی عدالتوں کے غیر اعلانیہ مدت تک بائیکاٹ کے اعلان کے بعد حکومت کا یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔

اختر حسین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے وکلا کی تحریک میں مزید تیزی آئےگی، ان کا کہنا تھا کہ ہر فوجی حکومت میں ایسی کوششیں کی گئی ہیں موجودہ مارشل لاء کی صورتحال ہے اور’اگر وہ سمجھتے ہیں کہ جن وکلاء نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو بائیکاٹ کیا ہوا ہے وہ اس آرڈیننس کے ذریعے انہیں ڈرا دھمکا کر عدالتوں میں لا سکتے ہیں تو یہ ان کی غلط فہمی ہے‘۔

پاکستان بھر میں وکلا کی جانب سے عدالتی کارروائیوں کے باعث گزشتہ ایک ہفتے سے عدالتی معمولات ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں۔

اسی بارے میں
سندھ: عدالتوں میں مقدمے خارج
09 November, 2007 | پاکستان
حکومت کب تک روکےگی: بینظیر
09 November, 2007 | پاکستان
سندھ احتجاج، پولیس کی شیلنگ
09 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد