BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 November, 2007, 21:18 GMT 02:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پانچ سو کی گرفتاری کا دعٰوی

پشاور
پشاور میں اے این پی کے کارکنوں اور پولیس کے مابین جھڑپ ہوئی
پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ اور ججوں کی برطرفی کے خلاف جمعہ کو آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائنس کے اعلان پر صوبہ سرحد میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں ہوئی ہیں جبکہ سیاسی جماعتوں نے پانچ سو سے زائد کارکنوں کی گرفتاری کا دعوٰی بھی کیا ہے۔

جمعہ کی نماز کے بعد اے پی ڈی ایم میں شامل عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے سینکڑوں کا رکنوں نے صوبہ سرحد کے تقریبا تمام اضلاع میں احتجاجی مظاہرے کیے جس میں بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ان مظاہروں میں وکلاء نے بھی شرکت کی۔

صوبائی دارلحکومت پشاور کے قصہ خوانی اور آس پاس کے علاقوں میں کئی مقامات پر اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے ٹولیوں کی صورت میں احتجاجی جلوس نکالے اور انہوں نے جنرل مشرف اور ایمر جنسی کے نفاذ کیخلاف سخت نعرے بازی کی۔

اے پی ڈی ایم میں شامل پارٹیوں کے قائدین مختلف مقامات پر رک رک کر دس دس منٹ تک تقریر کرتے اوربعد میں پولیس کی آمد کے ساتھ ہی وہاں سے کسی اور مقام کی طرف نکل جاتے۔ اس موقع پر پولیس نے مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر انور کمال مروت سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا۔پولیس اور مظاہرین کے درمیان تین گھنٹوں تک آنکھ مچولی جاری رہی اوراس دوران قصہ خوانی چوک میں مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔

اس طرح صوبہ سرحد کے دیگر اضلاع میں بھی جلسے جلوس ہوئے ہیں۔صوابی میں کرنل چوک پر صبح دس بجے نکالے گئے۔ ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی اور پولیس لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے پھینکنے کے بعد مظاہرین کومنتشر کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ اس جھڑپ میں ایک پولیس اہلکار سمیت چار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ تاہم کچھ دیر بعد کرنل چوک سے چند فرلانگ کے فاصلے پرتقریباً پانچ سو افراد پر مشتمل ایک جلسے کا انعقاد ہوا جس میں شرکاء نے جـنرل پرویز مشرف اور ایمر جنسی کے نفاذ کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔

ضلع بٹگرام میں بھی احتجاجی جلوس کے دوران پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس میں دو درجن سے زائد افراد کے معمولی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔چارسدہ، دیر، بنوں، مردان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، لکی مروت، سوات، نوشہرہ اور صوبے کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں بھی احتجی مظاہرے منعقد ہوئے ہیں جس میں اطلاعات کے مطابق مجموعی طور پر سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔

جمعہ کے احتجاج میں عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کے ارکان کی تعداد قدرے زیادہ نظر آئی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلات زاہد خان نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دعوی کیا کہ جمعہ کے مظاہروں میں ان کے پانچ سو کے قریب ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے تاہم سرکاری سطح پر اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

دوسری طرف جمعہ کو پشاور میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور پولیس کے مابین اس وقت جھڑپ ہوئی جو پولیس نے انہیں راولپنڈی میں پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام جلسے میں شرکت کے لیے جانے سے روک دیا۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے آٹھ کارکنوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔چارسدہ اور مردان میں بھی پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو راولپنڈی جانے سے روکا گیا ہے اور متعدد افراد کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔

دریں اثناء ملک کے دیگر علاقوں کی طرح صوبہ سرحد میں بھی نجی ٹیلی ویژن چینلز کی نشریات کی بندش کے خلاف صحافیوں نے یوم سیاہ منایا جبکہ ایبٹ آباد میں صحافیوں نے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

 احتجاجاحتجاج تھما نہیں
ایمرجنسی کے خلاف طلبا، وکلاء سراپا احتجاج
کراچی میں گرفتار ہونے والے وکیلوکلاء کا احتجاج
ملک بھر سے احتجاج اور ہڑتال کی جھلکیاں
احتجاجسندھ احتجاج
سندھ کی تمام عدالتوں کا بائیکاٹ اوراحتجاج
فائل فوٹوجسٹس کی حمایت
ملک بھر میں وکلاء کا احتجاج تحریک بن گیا
موبائل’گو مشرف گو‘
صدر کے خلاف احتجاج ’موبائل‘ ہو گیا
وکلاء احتجاج مصور کی آنکھ سے ’جوبچا تھامقتل میں‘
وکلاء کا احتجاج مُصوّر کی آنکھ سے
احتجاجی مظاہرےمعطلی کیس
وکلاء برادری کے احتجاج کی تصویری جھلکیاں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد