بینظیرکی نظربندی کے احکامات واپس، پانچ ہزار کارکنوں کی گرفتاری کا دعٰوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومتِ پاکستان نے بینظیر بھٹو کی تین دن کی نظر بندی کے احکامات واپس لے لیے ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پنجاب بھر سے پیپلز پارٹی کے پانچ ہزار کارکن گرفتار کیےگئے ہیں۔ بینظیر کی نظر بندی کے حوالے سے اسلام آباد کے قائم مقام ڈپٹی کمشنر عامر احمد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ اب وہ آزاد ہیں اور کہیں بھی جا سکتی ہیں۔ تاہم ضلعی انتظامیہ ان کی حفاظت کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات کرے گی۔ اپنی ایک روزہ نظربندی کے خاتمے کے بعد بینظیر بھٹو آج اپنے گھر سے نکل کر اسلام آباد میں پی پی پی کے دفتر گئی ہیں جہاں وہ سول سوسائٹی کے کارکنوں سے ملاقات کریں گی۔ ادھر پی پی پی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے دعوٰی کیا ہے کہ صوبہ پنجاب کے متعدد شہروں سے پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور عہدیداروں کو حراست میں لے کے تھانوں اور حوالات میں بند کر دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب تک ایک اندازے کے مطابق پیپلز پارٹی کے پانچ ہزار کارکنوں کو پکڑا جا چکا ہے۔ اس سے پہلے بینظیر بھٹو کو اسلام آباد میں ان کے گھر پر تین دن کے لیے نظربند کر دیا گیا تھا اور ان کےگھر کے گرد سکیورٹی دستوں کا گھیرا تھا جبکہ لیاقت باغ کے قریب پی پی پی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی اور سینکڑوں کارکنوں کوگرفتار کیا گیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق جمعہ کو بینظیر بھٹو نظر بندی کے احکامات کے باوجود دو بار رکاوٹیں توڑ کر نکلنے کی کوشش کی اور ایک بار مین روڈ پر لگائی گئی خاردار تاروں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں، جہاں سے وہ اپنی پارٹی کے ان کارکنوں سے خطاب کرنا چاہتی تھیں لیکن پولیس نے بکتر بند گاڑیاں کھڑی کر کے سڑک بند کر دی اور بینظیر علاقے سے نہ نکل سکیں اور کارکنوں کو آنسو گیس کے گولے پھینک کر منتشر کر دیا گیا۔ امریکہ نے حکومت کے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بینظیر بھٹو کو نقل و حرکت کی آزادی دے دی جانی چاہیے۔ ہمارے نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق بینظیر بھٹو نے پہلے میگا فون پر پولیس اہلکاروں کو وہاں سے ہٹنے کو کہا اور بعد رکاوٹیں توڑتی ہوئی اپنےگھر سے نکل گئیں۔ بعد میں وہ واپس زرداری ہاؤس واپس چلی گئیں۔
بینظیر بھٹو کی گاڑی نے پولیس کی طرف سے گھڑی کی گئی چند رکاوٹیں عبور کر لی تھیں لیکن پولیس نے آخری حربے کے طور پر ایک بکتر بند گاڑی اور ایک جیل وین کھڑی کر کے راستہ بند کر دیا۔ اس دوران پولیس اور صحافیوں کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے بینظیر بھٹو نے پولیس اہلکاروں سے کہا کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر کان دھریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ دہشت گرد اسلام آباد آ کر کارروائیاں کریں اور پاکستان کا حشر بھی عراق جیسا ہو جائے۔ اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ اسلام آباد کی انتظامیہ نے بینظیر بھٹو کو تیس دن کے لیے ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا ہے تاہم بعدازاں اسلام آباد کے ایک مجسٹریٹ رانا اکبر حیات نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ انہیں بینظیر بھٹو کو تین دن کے لیے اپنی رہائش گاہ پر نظر بند کرنے کے احکامات موصول ہوگئے ہیں۔ بینظیر بھٹو نے ٹیلی فون پر بی بی سی کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے گھر سے نکلنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے انہیں روک لیا۔
پی پی پی کے سینیٹر صفدر عباسی کے اخبار نویسوں کو بتایا کہ بینظیر کے ساتھ تیس دیگر رہنما وہاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پولیس کی طرف کھڑی کی گئی ایک رکاوٹ عبور کر لی تھی لیکن انہیں دوسری بیرئر پر روک لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو جلسہ گاہ پہنچنے پر اصرار کر رہی ہیں۔ دوسری طرف مری روڈ پر پولیس اور پی پی پی ورکروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور لیاقت باغ کو چاروں طرف سے مسلح پولیس اہلکاروں نے گھیرے میں لیے رکھا اور اس طرف جانے والی سبھی سڑکوں کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔ مری روڈ پر موجود ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق کمیٹی چوک اور لیاقت باغ کے درمیان پولیس اور پی پی پی کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔نامہ نگار کے مطابق پی پی پی کارکن چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں مری روڈ پر آتے ہیں، جئے بھٹو کے نعرے لگاتے، پولیس پر پتھراؤ کرتے اور تنگ گلیوں میں غائب ہو جاتے۔ نامہ نگار کے مطابق پولیس نے کمیٹی چوک کے قریب پی پی پی ارکانِ قومی اسمبلی شمشاد ستار باچانی، شگفتہ جمانی اور ارکان سندھ اسمبلی سسی پلیجو اور مہرین بھٹو کو گرفتار کر لیا۔ انہیں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ لیاقت باغ پہنچنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ بعدازاں انہیں اسلام آباد کے مارگلہ تھانے میں پہنچا دیا گیا۔ جن دیگر افراد کو لیاقت باغ کے علاقے سے گرفتار کیا گیا ان میں پی پی پی آزاد کشمیر کے صدر چودھری عبدالمجید اور سیکرٹری جنرل چودھری لطیف اکبر شامل ہیں۔
اس سے قبل راولپنڈی میں جلسہ گاہ کے قریب موجود ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا تھا کہ لیاقت باغ کا علاقے مکمل طور پر ویران دکھائی دے رہا ہے۔ مری روڈ پر ٹریفک بہت کم ہے اور جلسہ گاہ کی طرف سے جانے والے تمام راستے بند ہیں۔ راولپنڈی کے سٹی پولیس آفیسر سعود عزیز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی پی پی کا جلسہ غیر قانونی ہے اور اگر بینظیر بھٹو کسی طور جلسہ گاہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں تو ان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آیا حکومت انہیں گرفتار کرے گی یا نہیں۔ سعود عزیز کے مطابق پی پی پی کے جلسہ کے اعلان کے پیشِ نظر راولپنڈی میں آٹھ ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تاہم انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ جلسہ گاہ کی طرف آنے والے راستوں کو بلاک کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف علاقے میں آنے والے لوگوں کی چیکنگ کی جا رہی ہے۔ اب تک جن اہم سیاسی لیڈروں کو بینظیر کی رہائش گاہ کے باہر سے گرفتار کیا گیا ہے ان میں سرحد پی پی پی کے سیکرٹری جنرل اور سابق رکن اسمبلی نجم الدین خان، اے آر ڈی کے سیکریٹری عبدالقدیر خاموش، سندھ سے ایم پی اے فریحہ رزاق، پیپلز یوتھ آرگنائزیشن نذیر تنولی اور پنڈدادن خان سے پی پی کی کارکن ناہید خاتون شامل ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے راولپنڈی کا دورہ کیا اور کہا کہ شہر میں ہر طرف پولیس اہلکار گشت کر رہے ہیں اور پولیس نے لیاقت باغ کی طرف جانے والی تمام سڑکیں رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کردی تھی۔ پولیس اہلکار پیدل چلنے والوں سے بھی پوچھ گچھ کر رہے تھے اور جن پر شک گزرتا تھا ان کو حراست میں لے رہے تھے۔ ضلعی ناظم جاوید اخلاص نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی طرف سے لیاقت باغ میں جلسہ کرنے کی درخواست آئی تھی لیکن اس کو مختلف بنیادوں پر مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ ہے پورے شہر میں دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ ہے صوبہ پنجاب میں جلسے جلوسوں پر پابندی ہے اور سب سے اہم یہ کہ خود کُش حملے کا خطرہ ہے۔ ضلعی ناظم نے کہا کہ حکومت لوگوں کی جانوں کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتی۔ اسلام آباد میں بینظیر بھٹو کی رہائش کے چاروں طرف پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ جمعہ کی صبح پارٹی کے رہنماؤں نے صحافیوں کو مختلف ذرائع سے پیغام بھیجے کہ وہ سیدھا لیاقت باغ جانے کی بجائے اسلام آباد میں بینظیر بھٹو کےگھر کے باہرجمع ہوں تاکہ وہ پارٹی رہنما کاگھر سے نکل کر جلسہ گاہ پہنچنے کی کوشش کا مرکز خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔ دوسری طرف وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ بے نظیر بھٹواب اتنی مقبول نہیں رہیں، وہ بھٹو کی بیٹی ضرور ہیں لیکن بھٹو جسی مقبول نہیں ہیں۔ اُن کہنا تھا کہ ملک انتخابات کی طرف جا رہا ہے اور بینظیر بھٹوانتخابات کی بجائے ملک کو تصادم کی طرف لے جانا چاہیں گی اور اس کی سزا بھی وہ خود ہی بھگتیں گی۔ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ ساری دنیا کا میڈیا یہاں آ چُکا ہے اور پیپلز پارٹی کی رہنما کو بھی پتہ ہے لوگ اُن کے ساتھ نہیں ہیں، وہ تو بس اپنا فوٹو سیشن کروانا چاہ رہی تھیں۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی پر صدر مشرف کی بی ٹیم ہونے کی جو چھاپ لگ گئی تھی اُسے ختم کرنے کے لیے اب انہیں بہتر مواقع مل رہے ہیں۔ تاکہ پاکستان کے لوگوں کو یہ تاثر دیا جائے کہ بے نظیر اپنے اوپر بنے ہوئے کیسوں کی معافی کے بغیر آئی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں کہ ایمرجنسی کتنا عرصہ رہے گی شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ اگر بے وقوفیاں نہ کی گئیں تو یہ پاکستان میں سب سے پہلے اُٹھنے والی ایمرجنسی ہو گی اور اگر کسی نے بے وقوفی کی تو اس کا خیمازہ بھی اُن کو ہی بھگتنا پڑےگا۔ |
اسی بارے میں سرحد میں وکلاء کی ہڑتال جاری08 November, 2007 | پاکستان پی پی پی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے08 November, 2007 | پاکستان پی پی پی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے اور گرفتاریاں08 November, 2007 | پاکستان بان کی مون پر پاکستان ناراض07 November, 2007 | پاکستان چیف الیکشن کمشنر بھی سرگرم07 November, 2007 | پاکستان سندھ میں ہڑتال، وکلاء کی گرفتاریاں08 November, 2007 | پاکستان جنرل اسمبلی میں بحث کا امکان08 November, 2007 | پاکستان میڈیا پابندیاں، احتجاج کا اعلان07 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||