’نجکاری کا فی الحال ارادہ نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے بدھ کو دفاع سے متعلق سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ اس کا قومی فضائی کمپنی، پی آئی اے کی نجکاری کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں لیکن اس سلسلے میں تمام آپشنز کھلے ہیں۔ دفاع اور دفاعی پیدوار سے متعلق سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نثار اے میمن کی صدارت میں آج پی آئی اے کی نئی انتظامیہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئی اور بڑھتے ہوئے خسارے پر قابو پانے کے لیے اپنے منصوبے کے بارے میں آگاہ کیا۔ تاہم وفاقی وزیر دفاع احمد مختار، جوکہ پی آئی اے کے چیئرمین بھی ہیں، اجلاس طلب کرکے اس میں بغیر کوئی وجہ بتائے شریک نہیں ہوئے جس کا کمیٹی نے سختی سے نوٹس لیا۔ پی آئی اے کے مینجنگ ڈائریکٹر کیپٹن محمد اعجاز ہارون نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کو پی آئی اے کی نج کاری کا انہیں نہ تو کوئی حکم ہے اور نہ ان کا ارادہ ہے۔ ان کا موقف تھا کہ نج کاری کسی کمپنی کی انتظامیہ کی ناکامی ہوتی ہے اور وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ تاہم اس موقع پر سیکرٹری دفاع کامران رسول نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ ارب روپے ماہانہ کا نقصان اٹھانے والی کمپنی کے لیے حکومت نے تمام آپشنز کھلی رکھی ہوئی ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے خود بھی پائلٹ اعجاز ہارون نے قومی کمپنی کو بحران سے نکالنے کے لیے اپنے اہداف میں سب سے پہلے کپمنی میں غیر یقینی صورتحال کے خاتمے سے ملازمین کا گرتا مورال بحال کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اخراجات میں کمی کے لیے کمپنی کے اعلی عہدوں میں کمی کی گئی ہے۔اب ڈائریکٹرز کی تعداد بارہ سے کم کرکے آٹھ جبکہ جی ایمز کی تعداد تریسٹھ سے سینتالیس کر دی گئی ہے۔ کمیٹی نے پی آئی اے کے موجودہ اور سابق چیئرمینوں کی مراعات کی تفصیل بھی طلب کی۔ اجلاس میں پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تعیناتی پر بھی سوال اٹھے اور سیکرٹری دفاع نے ان کے جواب دیئے۔ حج اور عمرہ کے کرائے میں اضافے کے سوال کے جواب میں اعجاز ہارون نے کہا کہ انہیں چند روز انتظار کرنا ہوگا تواہم انہوں نے کہا کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں انہوں نے اپنی تجاویز حکومت کو دے دیں ہیں۔ انہوں نے شکایت کی کہ سول ایویشن اتھارٹی غیرملکی فضائی کمپنیوں کو ہوائی اڈوں کے استعمال میں ان پر ترجیح دیتی ہے جس سے انہیں نقصان ہو رہا ہے۔ کپٹن اعجاز پی آئی اے کی تاریخ میں پہلے پائلٹ ہیں جو اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔ تاہم ان کے بقول دنیا میں اس طرح کی تعیناتیاں معمول ہیں۔ موجودہ وقت میں برطانوی فضائی کمپنی برٹش ائرویز کے سربراہ بھی ایک پائلٹ ہیں۔ اعجاز ہارون کا کہنا تھا کہ وہ اپنا پائلٹ لائسنس برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے جس کے لیے لازم ہوتا ہے کہ وہ چھ ماہ میں چھ لینڈنگ اور ٹیک آف کریں۔ انہوں نے سینٹر آصف جتوئی کے سوال پر اعتراف کیا کہ ماضی کی انتظامیہ نے 747 طیاروں کی ان کی قیمت سے زیادہ خرچہ کر کےمرمت کے بعد انہیں گراونڈ کر دیا۔ اس سے اسی فلائٹ انجینئرز کو ملازمتوں سے بھی فارغ کیاگیا لیکن اب ان طیاروں کو استعمال میں لانے سے یہ انجنیئر واپس لے لیےگئے ہیں۔ نئی انتظامیہ نے پی آئی اے کا نیا بزنس پلان آئندہ ماہ کے اختتام تک تیار کرنے کا وعدہ کیا۔ قومی فضائی کمپنی میں ماضی میں سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی تقرریوں سے شدید مالی نقصانات اٹھانے پڑے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ پی آئی اے کا اپنا آدمی جیسے اس کے نشیب و فراز کا اندازہ ہے اسے کس حد تک بحرانی کیفیت سے باہر لا سکتا ہے۔ | اسی بارے میں پی آئی اے: فوجی بھرتی کرنے پر تنقید24 April, 2007 | پاکستان پی آئی اے کے جہاز دوسروں کے حوالے؟13 October, 2003 | پاکستان پی آئی اے، برطانیہ میں بھی’پابندی‘03 March, 2007 | پاکستان ’پابندی امتیازی سلوک ہے‘06 March, 2007 | پاکستان ’پی آئی اے ہوٹل نہ بیچے جائیں‘15 September, 2007 | پاکستان پی آئی اے انجینیئرز کی ہڑتال ختم03 November, 2007 | پاکستان پی آئی اے پروازوں سے پابندی ختم28 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||