| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پی آئی اے کے جہاز دوسروں کے حوالے؟
کیمن آئی لینڈ (جزیرۂ کیمن) ٹیکس کے نظام سے ماوراء ادارے قائم کرنے اور کالا دھن استعمال میں لانے کے حوالے سے ساری دنیا میں مشہور ہے۔ ایک نیا ادارہ ’فلائی پی آئی اے‘ کے نام سے اسی جزیرے پر قائم کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پی آئی اے کے لگ بھگ پینتالیس چھوٹے بڑے جہازوں کا پورا فضائی بیڑہ اس نئے ادارے کے نام کر دیا گیا ہے۔ تاہم پی آئی اے کے سربراہ چوہدری احمد سعید نے اس نئے ادارے کے قیام کی وضاحت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے۔ چوہدری احمد سعید نے بی بی سی کو بتایا ’یہ بینک کا ایک طریقۂ کار ہے۔ اس میں کچھ غلط نہیں۔ آپ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ مجھے سردست یاد نہیں ہے۔ دفتر میں سارا ریکارڈ ہوگا۔ یہ سب باقاعدہ درست ہے۔ لکھ کر پوچھ لیں، دفتر میں سب کچھ ہوگا۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں۔۔۔اگر آپ کو لگتا ہے تو جی دفع کریں میں تو سمجھتا ہوں کہ جو ہوا ٹھیک ہوا۔۔۔ ‘ بتایا جاتا ہے کہ پی آئی اے نے جزیرۂ کیمن پر نیا ادارہ امریکہ کے ’امپورٹ ایکسپورٹ بینک‘ (جسے عرف عام میں ایگزم بینک بھی کہا جاتا ہے) سے اس قرضے کے حصول کے لئے بنایا ہے جو پی آئی اے خود امریکی ادارے بوئنگ سے ہی نئے بوئنگ سات سو ستتّر جہازوں کی خریداری کے لئے حاصل کر رہی ہے۔ پی آئی اے کو نئے جہازوں کی خریداری کے لئے ڈیڑھ ارب ڈالر کے لگ بھگ یہ قرضہ سٹی بینک دے رہا ہے اور ایگزم بینک امریکی حکومت کی جانب سے اس قرضے پر ضامن ہے۔ لیکن اس طرح بیرون ملک ایک ادارہ قائم کرکے جہاز اس کے نام منتقل کرنے کا پی آئی اے کو کیا نقصان ہوگا؟ اس سوال کی وضاحت اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پی آئی اے کے ہی ایک واقف حال نے اس طرح کی: ’پاکستان کی بحریہ کے ایک سابق سربراہ کو اسی چکر میں سزا مل چکی ہے۔ کہ کس طرح یہ ادارے بیرون ملک بنائے جاتے ہیں۔ ایسے ادارے پیسے بیرون ملک منتقل کرنے کے طریقے ہوتے ہیں۔ بحریہ میں بھی یہ طریقہ استعمال کیا گیا تھا اور اب یہ جو پورا بیڑہ کسی ادارے کو منتقل کرنے کا مطلب ہے کہ ادارہ ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا ہے۔‘ پی آئی اے پاکستان میں قائم اور رجسٹرڈ ادارہ ہے جس کے تمام اثاثے پاکستان میں ہیں اور قانون کے تحت کسی بھی کاروباری مقصد کے لئے استعمال ہوسکتے ہیں۔ پی آئی اے کا کہنا ہے کہ اس کو بوئنگ طیاروں کی خریداری کے ڈیڑھ ارب ڈالر کی فوری ضرورت تھی اور اس کے لئے یہ انتظام کیا گیا ہے۔ پی آئی اے کے ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر کلیم ملک کا کہنا ہے: ’پی آئی اے نے بوئنگ کمپنی کو پری ڈلیوری پے منٹ (خریداری سے قبل قیمت کی ادائیگی) کا انتظام کرنے کے لئے اسلامی طریقۂ مالیت کے تحت ایسا کیا۔ اور جیسے ہی ایگزم بینک کا قرضہ آئے گا تو یہ اجارہ کی سہولت ادا ہوجائے گی۔‘ لیکن سوال یہ ہے کہ اس نئے ادارے میں وہ کیا اضافی خاصیت تھی جو خود پی آئی اے میں نہیں تھی۔ کلیم ملک اس کے جواب میں کہتے ہیں ’وہ ان کو قابل قبول نہیں تھا۔ اصل میں بات یہ ہے کہ فلائی پی آئی اے لمیٹڈ ایک کاغذی ادارہ ہے جو قانونی ڈھانچے کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے اسلامی طریقۂ مالیت کے تحت ہے۔‘ تاہم ایک اہم سوال یہ ہے کہ فلائی پی آئی اے کے نام رجسٹرڈ ہونے والا جہاز پاکستان میں کیسے چل سکے گا؟ اگرچہ پی آئی اے کے حکام مصر ہیں کہ جہاز پاکستان ہی میں رجسٹرڈ ہیں لیکن ان کی اس بات پر اعتراض بھی کیا جارہا ہے۔ کمپنی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس غیر ملکی ادارے کے بڑے دور رس نتائج ہوں گے۔ ’ان سب جہازوں کی رجسٹریشن بدلنا ہوگی۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ جیسے ایک لفتانزا کا یا کے ایل ایم کا جہاز آرہا ہے یا امریکی ادارے کا جہاز آرہا ہے تو اس حساب سے پھر ہمارے ملک کو کلیئرنس وغیرہ کی پابندی بھی کرنی ہوگی۔ اور اگر وہ چاہتے ہیں کہ اس کو نظرانداز بھی کیا جائے اور پی آئی اے کا نام بھی رکھا جائے تو پھر اس ادارے کو وہاں درج بھی کرانا پڑے گا۔ یعنی رعایتیں تو یہ ساری لیں گے پی آئی اے کا نام پر، پاکستانی قوم کے نام پر اور فائدہ پہنچائیں گے اپنے ان کرم فرماؤں کو جن کے نام انہوں نے فرنٹ پر رکھے ہیں۔‘ اصل صورتحال کچھ بھی ہو یہ سوال بہرحال اپنی جگہ باقی رہے گا کہ آخر پی آئی اے کے ہوتے ہوئے کالے دھن کے حوالے سے بدنام ایک غیر ملکی جزیرے پر ایک نیا ادارہ بنانا اور پی آئی اے کے جہاز اس کے نام کرنا کیا واقعی ناگزیر تھا؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||