پی آئی اے: فوجی بھرتی کرنے پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے بیشتر جہازوں کی یورپی ممالک میں داخلے پر پابندی، یورپی ایوی ایشن کے جائزہ مشن کی جس رپورٹ کی بنیاد پر لگائی گئی ہے، اس میں ان جہازوں کی حالت سے زیادہ پی آئی اے کے شعبۂ انجینیئرنگ کی حالت زار پر تنقید کی گئی ہے جہاں رپورٹ کے مطابق سول ایوی ایشن کے معاملات سے نا بلد فوجی افسربھرتی کیے گئے ہیں۔ اس سال مارچ میں یورپی ایوی ایشن ماہرین کی ایک کمیٹی نے پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن ( پی آئی اے) کے بیڑے میں شامل چالیس میں سے تینتیس جہازوں کے فضائی سفر کے یورپی معیار پورے نہ کرنے کے باعث یورپ کے ستائیس ممالک میں داخلے پر، تاحکم ثانی پابندی عائد کر دی تھی۔ یہ پابندی ان عمر رسیدہ جہازوں پر لگائی گئی ہے جو تکنیکی لحاظ سے فضائی سفر کے لئے موزوں نہیں ہیں۔ تاہم یورپی ایوی ایشن کے جائزہ مشن کی رپورٹ جہاں چند جہازوں میں معمولی نوعیت کی فنی خرابیوں کی نشاندہی کرتی ہے وہاں اس کا اصل ہدف پی آئی اے کا شعبۂ انجیینئرنگ معلوم ہوتا ہے جس کی کارکردگی، بھرتیوں کے طریقۂ کار، کارکنوں کی تنخواہوں اور فنی صلاحیتوں، فوجی افسران کے مالی اختیارات اور دیگر متعلقہ امور پر متعدد اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔
پی آئی اے کی انتظامیہ نے اس رپورٹ کی روشنی میں انجینئیرنگ کے شعبے میں تبدیلیوں کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یورپی یونین نے جن فوجی افسران پر اعتراض کیا تھا انہیں فضائیہ میں واپس بھیج دیا گیا ہے اور پی آئی اے کے پرانے انجینئیرز کو واپس لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی آئی اے ملازمین کو دی جانے والی تنخواہیں دیگر نجی اور غیرملکی کمپنیوں کی نسبت کم ہونے کے باعث قابل انجینئیرز اس ایئرلائن کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس شعبے میں پچھلے کچھ عرصے کے دوران دو سو چوبیس انجینیئرز پی آئی اے کو خیر باد کہ چکے ہیں جبکہ ان کی جگہ صرف بیالیس نئے انجینیئرز بھرتی کیے گئے ہیں۔ باقی ماندہ سٹاف کو ترقیاں دے کر ان آسامیوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جہاز کی باڈی کی مرمت اور دیکھ بھال کرنے والے شعبے میں فوج سے افسران لا کر تعینات کیے گئے ہیں جن کا کمرشل اور سول ایوی ایشن کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سب کچھ پی آئی اے کو وسعت دینے اور نئے جہاز خریدنے کے مستقبل کے اس پروگرام سے مطابقت نہیں رکھتا جس کے بارے میں کمیشن کو بریفنگ دی گئی ہے۔ کیونکہ ان اقدامات سے ضروری تکنیکی افرادی قوت کی تعداد میں دراصل کمی واقع ہو رہی ہے۔ پی آئی اے انجینیئرنگ میں رونما ہونے والے یہ اقدامات فائدے سے زیادہ نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔ البتہ حال ہی میں انجینیئرز کی تنخواہوں میں ہونے والا پچیس فیصد اضافہ مستقبل میں قابل لوگوں کے کمپنی چھوڑنے کے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پی آئی اے میں کوالٹی کنٹرول کا دقیانوسی نظام رائج ہے اور اس بارے میں یورپی معیارات کے بارے میں فراہم کردہ ہدایات کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔ کوالٹی مینجرز کی اپنی کوالٹی کے علاوہ رپورٹ میں ان کے مالی اختیارات اور آڈٹ نظام کی عدم موجودگی پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں پائلٹ، فضائی میزبانوں اور ان کی تربیت کے معیار کو بےحد سراہا گیا ہے اور اسے اعلی ترین بین الاقوامی معیار کے مطابق بتایا گیا ہے۔ اسی طرح گراؤنڈ آپریشن اور سٹاف کی مہارت کو بھی سراہا گیا ہے۔ جہاز کی اندرونی سجاوٹ کے بارے میں متعدد سطحی نوعیت کے اعتراضات کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک جہاز میں معائنہ ٹیم نے قالین کے گندے ہونے پر اعتراض کیا ہے اور ایک دوسرے جہاز میں انہوں نے دیکھا کہ ہدایت نامے میں بتایا گیا کہ لائیف جیکٹ نشست کے نیچے ہے جبکہ دراصل وہ نشست کے بازو میں پائی گئی۔ ایک جگہ رپورٹ میں جہازوں کی مرمت کے ریکارڈ کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ جہاز کے عملے نے انجینیئرنگ کے شعبہ کو جہاز کے ایک پر کے بند نہ ہونے کی نشاندہی کی لیکن اسکے باوجود وہ جہاز کئی ہفتوں تک اس خرابی کے ساتھ ہی اڑتا رہا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ رپورٹ میں فلائیٹ سیفٹی دپارٹمنٹ کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ معائنہ ٹیم کے پاس اس شعبے کا تفصیلی جائزہ لینے کا وقت نہیں تھا۔ واضح رہے کہ فلائیٹ سیفٹی کے یورپی معیار کے مطابق نہ ہونے کے باعث ہی پی آئی اے پر مزکورہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے جہازوں پر یورپی یونین کا اعتراض تکنیکی سے زیادہ سیاسی ہوسکتا ہے۔ ایوی ایشن کی صنعت پر گہری نظر رکھنے والے ایئر مارشل (ریٹائرڈ) علی الدین کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے جہازوں پر عمر رسیدہ ہونے کا اعتراض بے جا ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سابق سربراہ نے کہا کہ سابق روسی ریاستوں کے دہائیوں پرانے جہاز آج بھیں یورپ جاتے ہیں اور اگر ان کی عمر پر کسی کو اعتراض نہیں تو پی آئی اے کے جہاز ان سے بہت بہتر پوزیشن میں ہیں۔ یورپی ایوی ایشن کی اس رپورٹ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے پی آئی اے کے ترجمان ناصر جمال نے بی بی سی کو بتایا کہ یورپی یونین کی طرف سے اٹھائے گئے تمام اعتراضات کو دور کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ انجینیئرنگ کے شعبے میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں اور ایئر فورس سے لائے گئے افسران کی خدمات واپس کرکے کمرشل ایوی ایشن سے متعلق سینیئر انجینیئرز بھرتی کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس رفتار سے ان اصلاحات پر عمل کیا جا رہا ہے اس کے مطابق پی آئی اے انتظامیہ کو خاصی امید ہے کہ جون کے وسط میں اس پابندی پر نظر ثانی کی غرص سے آنے والا وفد اس مرتبہ مثبت رپورٹ دے گا۔ |
اسی بارے میں پی آئی اے، برطانیہ میں بھی’پابندی‘03 March, 2007 | پاکستان بیشتر پروازیں 27 ملکوں میں ممنوع 05 March, 2007 | پاکستان ’پابندی امتیازی سلوک ہے‘06 March, 2007 | پاکستان پی آئی اے کا بحران، ہزاروں پریشان08 March, 2007 | پاکستان طارق کرمانی پی آئی اے سے مستعفی26 March, 2007 | پاکستان پی آئی اے:گرتی ساکھ کا ذمہ دار کون؟27 March, 2007 | پاکستان کراچی: طیارے کے ٹائر ناکارہ ہوگئے17 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||