BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 April, 2007, 14:55 GMT 19:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی آئی اے: فوجی بھرتی کرنے پر تنقید

ای یو رپورٹ میں پی آئی اے کے گندے قالینوں پر بھی تنقید کی گئ ہے
پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے بیشتر جہازوں کی یورپی ممالک میں داخلے پر پابندی، یورپی ایوی ایشن کے جائزہ مشن کی جس رپورٹ کی بنیاد پر لگائی گئی ہے، اس میں ان جہازوں کی حالت سے زیادہ پی آئی اے کے شعبۂ انجینیئرنگ کی حالت زار پر تنقید کی گئی ہے جہاں رپورٹ کے مطابق سول ایوی ایشن کے معاملات سے نا بلد فوجی افسربھرتی کیے گئے ہیں۔

اس سال مارچ میں یورپی ایوی ایشن ماہرین کی ایک کمیٹی نے پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن ( پی آئی اے) کے بیڑے میں شامل چالیس میں سے تینتیس جہازوں کے فضائی سفر کے یورپی معیار پورے نہ کرنے کے باعث یورپ کے ستائیس ممالک میں داخلے پر، تاحکم ثانی پابندی عائد کر دی تھی۔

یہ پابندی ان عمر رسیدہ جہازوں پر لگائی گئی ہے جو تکنیکی لحاظ سے فضائی سفر کے لئے موزوں نہیں ہیں۔

تاہم یورپی ایوی ایشن کے جائزہ مشن کی رپورٹ جہاں چند جہازوں میں معمولی نوعیت کی فنی خرابیوں کی نشاندہی کرتی ہے وہاں اس کا اصل ہدف پی آئی اے کا شعبۂ انجیینئرنگ معلوم ہوتا ہے جس کی کارکردگی، بھرتیوں کے طریقۂ کار، کارکنوں کی تنخواہوں اور فنی صلاحیتوں، فوجی افسران کے مالی اختیارات اور دیگر متعلقہ امور پر متعدد اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔

شعبۂ انجینیئرنگ پر تنقید
 یورپی ایوی ایشن کے جائزہ مشن کی رپورٹ جہاں چند جہازوں میں معمولی نوعیت کی فنی خرابیوں کی نشاندہی کرتی ہے وہاں اس کا اصل ہدف پی آئی اے کا شعبۂ انجیینئرنگ معلوم ہوتا ہے جس کی کارکردگی، بھرتیوں کے طریقۂ کار، کارکنوں کی تنخواہوں اور فنی صلاحیتوں، فوجی افسران کے مالی اختیارات اور دیگر متعلقہ امور پر متعدد اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔
جائزہ مشن نے یہ رپورٹ جنوری میں پی آئی اے کے مختلف شعبوں اور جہازوں کے معائنے کے بعد مرتب کی تھی اور بی بی سی نے اس کی کاپی اپنے ذرائع سے حاصل کی ہے۔

پی آئی اے کی انتظامیہ نے اس رپورٹ کی روشنی میں انجینئیرنگ کے شعبے میں تبدیلیوں کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یورپی یونین نے جن فوجی افسران پر اعتراض کیا تھا انہیں فضائیہ میں واپس بھیج دیا گیا ہے اور پی آئی اے کے پرانے انجینئیرز کو واپس لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی آئی اے ملازمین کو دی جانے والی تنخواہیں دیگر نجی اور غیرملکی کمپنیوں کی نسبت کم ہونے کے باعث قابل انجینئیرز اس ایئرلائن کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس شعبے میں پچھلے کچھ عرصے کے دوران دو سو چوبیس انجینیئرز پی آئی اے کو خیر باد کہ چکے ہیں جبکہ ان کی جگہ صرف بیالیس نئے انجینیئرز بھرتی کیے گئے ہیں۔

باقی ماندہ سٹاف کو ترقیاں دے کر ان آسامیوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جہاز کی باڈی کی مرمت اور دیکھ بھال کرنے والے شعبے میں فوج سے افسران لا کر تعینات کیے گئے ہیں جن کا کمرشل اور سول ایوی ایشن کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سب کچھ پی آئی اے کو وسعت دینے اور نئے جہاز خریدنے کے مستقبل کے اس پروگرام سے مطابقت نہیں رکھتا جس کے بارے میں کمیشن کو بریفنگ دی گئی ہے۔ کیونکہ ان اقدامات سے ضروری تکنیکی افرادی قوت کی تعداد میں دراصل کمی واقع ہو رہی ہے۔ پی آئی اے انجینیئرنگ میں رونما ہونے والے یہ اقدامات فائدے سے زیادہ نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔ البتہ حال ہی میں انجینیئرز کی تنخواہوں میں ہونے والا پچیس فیصد اضافہ مستقبل میں قابل لوگوں کے کمپنی چھوڑنے کے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پی آئی اے میں کوالٹی کنٹرول کا دقیانوسی نظام رائج ہے اور اس بارے میں یورپی معیارات کے بارے میں فراہم کردہ ہدایات کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔ کوالٹی مینجرز کی اپنی کوالٹی کے علاوہ رپورٹ میں ان کے مالی اختیارات اور آڈٹ نظام کی عدم موجودگی پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔

پی آئی اے کے اقدامات
 یورپی یونین کی طرف سے اٹھائے گئے تمام اعتراضات کو دور کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے انجینیئرنگ کے شعبے میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں اور ایئر فورس سے لائے گئے افسران کی خدمات واپس کرکے کمرشل ایوی ایشن سے متعلق سینیئر انجینیئرز بھرتی کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہازوں میں پرواز کے وقت تکنیکی معلومات کے فارمز، ان کی مرمت سے متعلق دستاویز، یورپی یونین کی حدود میں جہاز لےجانے کے لئے ضروری انشورنس سرٹیفیکٹ اور دیگر دستاویز یا تو سرے سے موجود نہیں اور یا پھر انہیں اہمیت نہیں دی جاتی۔ بعض مواقع پر جہازوں کے معائنے کے دوران ٹیم کے ارکان نے ایسی دستاویز دیکھیں جن کی مدت افادیت دو برس پہلے ختم ہوچکی تھی۔

رپورٹ میں پائلٹ، فضائی میزبانوں اور ان کی تربیت کے معیار کو بےحد سراہا گیا ہے اور اسے اعلی ترین بین الاقوامی معیار کے مطابق بتایا گیا ہے۔ اسی طرح گراؤنڈ آپریشن اور سٹاف کی مہارت کو بھی سراہا گیا ہے۔

جہاز کی اندرونی سجاوٹ کے بارے میں متعدد سطحی نوعیت کے اعتراضات کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک جہاز میں معائنہ ٹیم نے قالین کے گندے ہونے پر اعتراض کیا ہے اور ایک دوسرے جہاز میں انہوں نے دیکھا کہ ہدایت نامے میں بتایا گیا کہ لائیف جیکٹ نشست کے نیچے ہے جبکہ دراصل وہ نشست کے بازو میں پائی گئی۔

ایک جگہ رپورٹ میں جہازوں کی مرمت کے ریکارڈ کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ جہاز کے عملے نے انجینیئرنگ کے شعبہ کو جہاز کے ایک پر کے بند نہ ہونے کی نشاندہی کی لیکن اسکے باوجود وہ جہاز کئی ہفتوں تک اس خرابی کے ساتھ ہی اڑتا رہا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ رپورٹ میں فلائیٹ سیفٹی دپارٹمنٹ کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ معائنہ ٹیم کے پاس اس شعبے کا تفصیلی جائزہ لینے کا وقت نہیں تھا۔ واضح رہے کہ فلائیٹ سیفٹی کے یورپی معیار کے مطابق نہ ہونے کے باعث ہی پی آئی اے پر مزکورہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے جہازوں پر یورپی یونین کا اعتراض تکنیکی سے زیادہ سیاسی ہوسکتا ہے۔

ایوی ایشن کی صنعت پر گہری نظر رکھنے والے ایئر مارشل (ریٹائرڈ) علی الدین کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے جہازوں پر عمر رسیدہ ہونے کا اعتراض بے جا ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سابق سربراہ نے کہا کہ سابق روسی ریاستوں کے دہائیوں پرانے جہاز آج بھیں یورپ جاتے ہیں اور اگر ان کی عمر پر کسی کو اعتراض نہیں تو پی آئی اے کے جہاز ان سے بہت بہتر پوزیشن میں ہیں۔

یورپی ایوی ایشن کی اس رپورٹ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے پی آئی اے کے ترجمان ناصر جمال نے بی بی سی کو بتایا کہ یورپی یونین کی طرف سے اٹھائے گئے تمام اعتراضات کو دور کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ انجینیئرنگ کے شعبے میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں اور ایئر فورس سے لائے گئے افسران کی خدمات واپس کرکے کمرشل ایوی ایشن سے متعلق سینیئر انجینیئرز بھرتی کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس رفتار سے ان اصلاحات پر عمل کیا جا رہا ہے اس کے مطابق پی آئی اے انتظامیہ کو خاصی امید ہے کہ جون کے وسط میں اس پابندی پر نظر ثانی کی غرص سے آنے والا وفد اس مرتبہ مثبت رپورٹ دے گا۔

 پی آئی اے PIA کی گرتی ساکھ
’غیر متعلقہ افراد ادارے کے زوال کے ذمہ دار‘
PIA غیر محفوظ؟
یورپی یونین میں PIA کے اکثر طیارے ممنوع
صوابی میں کیا گرا؟
’پُراسرار چیز بم نہیں، جہاز کا کّور یا پینل‘
پی آئی اےفلائی پی آئی اے
نئے نام سے فضائی کمپنی کیوں بنائی گئی؟
قاضی برادرپشاوری جہاز
پشاور کے بھائی ہیلی کاپٹر بنانا چاہتے ہیں
خواتین بری فوج میں
بری فوج کے شعبوں میں خواتین کی بھرتی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد