پی آئی اے:گرتی ساکھ کا ذمہ دار کون؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے میں غیر متعلقہ افراد کی اہم عہدوں پر تقرری کی وجہ سے ہی ادارے کو مالی نقصان پہنچا اور یورپی یونین نے پابندی عائد کی۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن خسارے میں تو خاصے عرصے سے تھی مگر یورپی ایوی ایشن اتھارٹی کی پابندی نے اس کی ساکھ کو بھی شدید متاثر کیا۔ سوسائٹی آف ایئر کرافٹ انجینئرنگ کے صدر شوکت جمشید کا کہنا ہے’نان پروفیشنل‘ لوگوں کی وجہ سے ہی یورپی یونین نے پابندی عائد کی ہے۔ ان کے مطابق پی آئی اے میں کچھ ایسے لوگ آگئے تھے جنہیں کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے ایک کمرشل ایئر لائن ہے جس کے چیف انجینیئر اور ڈائریکٹر سمیت بڑے عہدوں پر تقرری کے کچھ تقاضے ہیں مگر ان عہدوں پر جو لوگ تعینات کیے گئے وہ یہ تقاضے پورے نہیں کر رہے۔ شوکت جمشید کے مطابق ان افراد نے سول ایوی ایشن کی ہدایات کی بھی پرواہ نہیں کی اور اسی وجہ سے خرابیاں ہوئیں اور یورپی ایوی ایشن نے بھی پابندی عائد کر دی۔ پی آئی اے کے سابق چیئرمین عارف عباسی اس پابندی کو توہین قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب پاکستانی جہاز یورپ نہیں جا سکتے اور اس کی ذمے دار پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی ہے نہ کہ یورپی ایوی ایشن۔ ان کے مطابق اتنے سالوں سے جب وارننگ مل رہی تھی تو یہ خود کو درست کر لیتے تاکہ پابندی نہ لگتی۔ قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بھی پی آئی اے میں خسارہ پر تشویش کا اظہار کیا تھا، اور اس کی کارکردگی رپورٹ طلب کی تھی۔ کمیٹی کے رکن قمر زمان نے بتایا کہ طارق کرمانی کے آنے کے بعد پی آئی اے کے خسارے میں کئی ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ قمر زمان کے مطابق کمیٹی کو اس پر سخت تحفظات تھے مگر چیئرمین پی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ اس نقصان کی وجہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے رکن کا کہنا تھا کہ’ اگر یہ قیمتیں بڑھیں تو کم بھی ہوئی تھیں اور پی آئی اے تو ویسے بھی ڈیوٹی فری تیل لیتی ہے‘۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ طارق کرمانی نے کئی ملازمین کو برخاست کیا اور بااثر لوگوں کی سفارش پر بھرتیاں کیں۔
پی آئی اے کے چیئرمین ہر سیاسی حکومت کے ساتھ تبدیل بھی ہوتے رہے اور یہ تاثر عام ہے کہ یہ چیئرمین پسند، ناپسند کی بنیاد پر مقرر کیے جاتے ہیں۔ پی آئی اے کے سابق چیئرمین عارف عباسی بتاتے ہیں کہ چیئرمین کی تقرری صدر یاوزیراعظم کرتے ہیں اور اگر وزیراعظم بااختیار ہے تو چیئرمین اسے ہی رپورٹ کرتا ہے۔ ان کے مطابق پی آئی اے اہم اور حساس ادارہ ہے اور اس میں تقرری کے لیے پہلے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور پھر انٹیلیجنس بیورو سے نام کلیئر ہوتا ہے تب جا کر کہیں یہ تقرری ہوتی ہے۔ سوسائٹی آف ایئر کرافٹ انجنیئرنگ کے صدر شوکت جمشید کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایئر لائن میں تجربہ کی اپنی اہمیت ہے اور جب باہر سے لوگوں کو لا کر بٹھایا جاتا ہے تو جو نیچے کے لوگ ہوتے ہیں وہ اس کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے رکن قمر زمان بھی ان کی تائید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے طارق کرمانی کے استعفے کے بعد ان کی جگہ لینے کے لیے مختلف نام گردش میں ہیں جن میں سابق بینکر، بیورو کریٹس اور ریٹائرڈ فوجی جنرلوں کے نام شامل ہیں مگر ابھی تک کسی ایسے شخص کا نام سامنے نہیں آیا ہے جسے ہوابازی کے شعبے میں کوئی تجربہ حاصل ہو۔ | اسی بارے میں طارق کرمانی پی آئی اے سے مستعفی26 March, 2007 | پاکستان پی آئی اے کا بحران، ہزاروں پریشان08 March, 2007 | پاکستان ’پابندی امتیازی سلوک ہے‘06 March, 2007 | پاکستان بیشتر پروازیں 27 ملکوں میں ممنوع 05 March, 2007 | پاکستان پی آئی اے، برطانیہ میں بھی’پابندی‘03 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||