پی آئی اے کا بحران، ہزاروں پریشان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی ایئر لائن ’پی آئی اے‘ کے بیشتر جہازوں کی یورپ آمد پر پابندی لگ جانے سے پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں پی آئی اے کے ایسے ہزاروں مسافر پھنس کر رہے گئے ہیں جن کا سفر غیرمتوقع تاخیر کا شکار ہورہا ہے۔ پی آئی اے نے متعدد پروازیں معطل یا منسوخ کردی ہیں اور اس کے کئی جہاز مرمت کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ پی آئی اے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مسافروں کو متبادل روٹس اور پروازیں فراہم کر رہے ہیں اور جہاں ضرورت پڑتی ہے مسافروں کو دوسری ایئر لائنوں کے جہاز پر سفر کروایا جارہا ہے۔ پاکستان ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن کی چیئر پرسن مسز نشاط مموکہ نے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق پاکستان اور دنیا کے مختلف ممالک میں پھنس جانے والے مسافروں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ پی آئی اے ان کے لیے متبادل بندوبست کر رہی ہے لیکن تاخیر سے پی آئی اے کے مسافر پریشان ہیں کیونکہ متعدد کوخدشہ ہے کہ اگر وقت پر نہ پہنچے تو انہیں بیرون ملک ملازمتوں سے جواب ملنے سمیت مختلف مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ لاہور میں پی آئی اے کے مرکزی بکنگ سینٹر میں آنے والی ایک خاتون مسز تسلیم کوثر اپنے آٹھ اور نوبرس کے دوبیٹوں کے ہمراہ پریشانی کے عالم میں بیٹھی تھیں وہ اپنی بیمار ماں سے ملنے کے بعد واپس امریکہ جانا چاہتی تھیں اور ان کے پاس پی آئی اے کا دوطرفہ ٹکٹ تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں ان کے بچوں کے سکول کی انتظامیہ نے واضح طورپر کہہ دیا تھا کہ اگروہ سات ہفتوں کے اندر واپس نہ آئے تو ان کا نام سکول سے خارج کر دیا جائے گا۔ کئی مسافروں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ میں پی آئی اے کے بارے میں خبروں سے وہ بھی پریشان ہیں۔ نیویارک جانے کے خواہشمندایک مسافر عرفان اظہر نے کہا کہ وہ قومی زبان اور ہلال کھانے کی وجہ سے پی آئی اے سفر کو ترجیح دیتے ہیں تاہم موجودہ صورتحال میں وہ دوسری ایئر لائن سے سفر کو ترجیح دیں گے۔
لاہور میں چھیٹاں گزار کر واپس کوپن ہیگن جانے کے خواہشمند مسافرساجد نے کہا کہ انہیں علم نہیں کہ ان کے ساتھ پی آئی اے کیا کرنے والی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اگر انہیں ٹکٹ کے پیسے واپس مل جائیں تو وہ بخوشی کسی دوسری ایئر لائن پر چلے جائیں گے۔ ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن کی چیئر پرسن نے کہا کہ پاکستانی ٹریول ایجنٹس کی خواہش ہوتی ہے کہ نصف سے زائد ٹکٹیں ملکی ایئر لائن کی فروخت کی جائیں تاہم اگر پی آئی نے جلداس بحران پر قابو نہ پایا تو پی آئی اے کی جگہ دوسری فضائی کمپنیاں لے لیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دوماہ کے آف سیزن ہونے کی وجہ سے ان دنوں پی آئی اے پر مسافروں کا رش نہیں ہے ورنہ حالات زیادہ خراب ہوسکتے تھے۔ یورپی یونین نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے بیڑے میں شامل بیالیس میں سے تینتیس جہازوں کوبین الاقوامی حفاظتی معیار پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے یورپ آمد پر پابندی لگا دی تھی اور صرف ٹرپل سیون جہازوں کے معیار کو تسلی بخش قرار دیا تھا۔ پی آئی اے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے تمام ٹرپل سیون جہازوں کا رخ یورپ کی طرف موڑ دیا ہے اور جن جہازوں کو یورپ آنے کی اجازت نہیں ان کی پروازیں دوسرے ممالک کی طرف کر دی گئی ہیں۔ لمبے سفر کے لیے ایسے روٹس بنائے جارہے ہیں جہاں کسی یورپی ملک میں سفر نہ کرنا پڑے ا س کے علاوہ مسافروں کو دوسری ائرلائنوں میں سفر کروایا جارہا ہے۔ ان تمام انتظامات کے لیے پی آئی اے کو بھاری مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے حالانکہ گزشتہ برس اسے لگ بھگ دس ارب روپے کے خسارے کا سامنا تھا۔ ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن کی مسز نشاط مموکہ نے کہا کہ پی آئی اے نے شکاگو کی ایک فلائٹ منسوخ کرکے اس کے مسافروں کو دوسری فلائٹ کے ذریعے نیویارک پہنچایا جہاں سے ایک دوسری ایئر لائن نے کرایہ وصول کرکے انہیں شکاگو پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ اس ایئر لائن کو ادائیگی پی آئی اے نے کی اور نتیجہ کے طور پر اسے یقینی طور پر اس فلائٹ پر نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مداخلت کی اپیل کی اور کہا کہ پی آئی اے میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ یورپی یونین سے بھی بات کی جائے کیونکہ ان کے بقول وہ بھی یورپ جاتی رہتی ہیں اور انہوں نے دیکھا ہے کہ پی آئی اے سے بہت کمتر معیار کے یورپی اور دیگر جہاز انہی ہوائی اڈوں پر اترتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’پابندی امتیازی سلوک ہے‘06 March, 2007 | پاکستان پی آئی اے، برطانیہ میں بھی’پابندی‘03 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||