ہیلی کاپٹر بنا کر اڑائیں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور کے قاضی بردارن اپنی مدد آپ کے تحت انتہائی ہلکا جہاز تیار کرنے کے بعد اب ایسا ہی ایک ہیلی کاپٹر تیار کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ اس دو نشستوں اور تین پہیوں والے طیارے کے انجن کو سٹارٹ کریں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی موٹر سائیکل یا سکوٹر سٹارٹ ہوا ہے۔ تاہم ایسا کچھ نہیں یہ تقریبًا چھ لاکھ روپے میں تیار کیا گیا ایک چھوٹا طیارہ الٹرا لائٹ ایئر کرافٹ ہے جو پشاور کے چند نوجوانوں کے شوق کا نتیجہ ہے۔ پشاور کے مضافات میں لنڈی ارباب سے تعلق رکھنے والے قاضی بردارن گزشتہ پچیس برس سے اس منصوبے سے منسلک ہیں اور انہوں نے اپنی ذہانت کے بل بوتے پر یہ ہوائی جہاز تیار کیا ہے۔
اپنے ایک بانی ساتھی کی جان گنوا کر بھی ان نوجوانوں کے ولولے میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ اسی طیارے کے ایک حادثے میں ہلاک ہونے والے قاضی فرہاد کے بیٹے قاضی محمد اصغر سے اس خطرناک کھیل کو جاری رکھنے کے بارے میں دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایک تو انہیں شوق ہے اور دوسرا وہ اپنے والد کا نام زندہ رکھنا چاہتا ہے۔ ’میرے والد وہ پہلے پاکستانی تھے جنہوں نے یہ طیارہ خود بنایا اور خود اڑایا۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہی ہماری پہچان ہے بین الااقوامی سطح پر بھی۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ہمیں تمغہ امتیاز بھی ملا۔‘ ہم مختلف ممالک سے انجن کے پرزے جمع کرکے اس طیارے کے ذریعے فضاوں کو چھونے کا شوق پورا کر رہے ہیں۔‘ دو نشستوں والا یہ طیارہ کن پرزوں پر مشتمل ہے۔قیصر سہیل نے مجھے بتایا کہ اس طیارہ المونیم راڈز، سکوٹر کے تین ٹائروں اور پہلے سوزوکی انجن پر مبنی تھا لیکن اب انہوں نے آسٹریا سے خصوصی انجن منگوا کر نصب کیا ہے۔
فضائیہ کے پائلٹوں کی طرح سبز رنگ کا ڈانگری پہنے ہوئے قاضی طفیل نے اسے اڑانے کی تربیت آسٹریا سے حاصل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ہلکے سے طیارے میں پرواز کرنے کا اپنا ہی ایک مزا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کئی وزراء اعلی اور اعلی اہلکاروں کو مدعو کرکے اس طیارے کا مظاہرہ دکھایا لیکن انہوں نے اس منصوبے کو آگے لیجانے کے لیئے کوئی مدد نہیں کی۔ قاضی برداران کبھی کبھی شوق کو پورا کرنے کے لیئے پشاور کے مضافات میں ناگمان کے مقام پر فصلوں پر سپرے کے لیئے استعمال ہونے والی ہوائی پٹی کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اب یہ پٹی بھی خطرے میں ہے۔ وہاں محمکہ زراعت ایک عمارت تعمیر کر رہی ہے۔
قاضی طفیل کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس پٹی کو حکومت کی مدد سے ایک نجی فلائنگ کلب میں تبدیل کیا جائے۔ ’اس سے صوبہ سرحد کے نوجوانوں کو ایک اچھی تفریح میسر آسکتی ہے۔’ اس پٹی پر آس پاس کے دیہات کے بچے بڑی تعداد میں اس طیارے کو دیکھنے کے چکر میں جمع ہوجاتے ہیں۔ انہیں طیارے کی پرواز کے علاوہ پیراگلائڈنگ بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس تمام منصوبے کے بانی اور اب ایک قدم آگے ہلکہ ہیلی کاپٹر کی تیاری کی سوچ میں گم قاضی اعجاز نے اس منصوبے کے آغاز کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم کو مالی امداد اور سرپرستی کے لیئے ایک خط تحریر کیا تھا جس کے بعد وزارت دفاعی پیداوار میں ان کا ایک انٹرویو بھی ہوا تاہم اس کے بعد کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ ’اس ہیلی کاپٹر کے منصوبے پر میں چھ برسوں سے کام کر رہا ہوں اور تقریباً پندرہ لاکھ روپے میں تیار ہونے والے ہیلی کاپٹر کو جلد یا بدیر میں مکمل کر لوں گا۔‘ قاضی بردارن کا دعویٰ ہے کہ ان کے شوق سے قومی مفاد کے کام بھی لیئے جاسکتے ہیں۔ یہ ٹریفک پر نظر رکھنے، ایمرجنسی صورتحال، سرحدی نگرانی اور دیگر کئی مقاصد کے لیئے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں وہ سرکاری سرپرستی کے منتظر ہیں۔ سرکاری اہلکاروں سے اس سلسلے میں کئی ملاقاتیں اب تک بےسود ثابت ہوئی ہیں۔ | اسی بارے میں بحریہ کے جہاز میں آگ، چھ ہلاک10 March, 2005 | پاکستان فائٹنگ فیلکن سب سے قابل اعتماد25 March, 2005 | پاکستان فضائیہ کا لڑاکا جہاز گر کر تباہ25 August, 2005 | پاکستان ’ایف 16 دو ملے اور مفت ملے ہیں‘14 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||