BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی میں طالبان کا خوف

ہم لوگ خوف کے سائے میں جی رہے ہیں، روز صبح گھر سے نکلنے کے بعد معلوم نہیں ہوتا کہ گھر بھی واپس پہنچ سکیں گے یا نہیں: ایک شہری
پاکستان کے صنعتی و تجارتی شہر کراچی میں کچھ عرصے سے بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کراچی میں طالبان موجود ہیں یا نہیں۔

متحدہ قومی مومنٹ کا اس بات پر پُرزور اصرار ہے کہ طالبان کراچی پہنچ چکے ہیں جبکہ حکومت نے پہلے تو کراچی میں طالبان کی موجودگی سے بالکل ہی انکار کردیا تھا لیکن اب اگر حکومت اس امکان کو تسلیم نہیں کرتی تو مسترد بھی نہیں کرتی۔

تاہم کراچی کے بیشتر لوگ جو پہلے ہی کئی مصیبتیں جھیل چکے ہیں اب شہر میں طالبان کی ممکنہ موجودگی نے ان پر ایک نیا خوف طاری کردیا ہے اور ان کے خیال میں حکومتِ وقت کو اس سلسلے میں اقدامات کرنے چاہیں۔

کراچی کی سب سے بڑی سیاسی قوت ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی میں طالبان کی موجودگی کی دعوی، حکومت کی جانب سے قدرے خاموشی، اور بندرگاہ کے قریب واقع ٹرک سٹینڈ پر آئل ٹینکروں کے مالکان کو دھمکیاں ملنا، ان سب واقعات کا اس شہر کے عام لوگوں منفی اثر پڑ رہا ہے۔

ایک شہری اسلم خان کا کہنا ہے کہ طالبان کو ابھی تک تو دیکھا نہیں لیکن اگر وہ کراچی آبھی گئے تو ان کا کوئی کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔ ’حکومت نے اب تک کیا کرلیا ہے، بس خودکش حملہ آور کا سر ڈھونڈ کر اس کے ٹیسٹ کراتی رہتی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم لوگ خوف کے سائے میں جی رہے ہیں، روز صبح گھر سے نکلنے کے بعد معلوم نہیں ہوتا کہ گھر بھی واپس پہنچ سکیں گے یا نہیں‘۔

ایک دوسرے شہری اقبال احمد نے کہا کہ کراچی میں کاروبار ویسے ہی ختم ہوگیا ہے اور اب طالبان کے خوف کی وجہ سے کاروبار پر مزید منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک طالبان کی موجودگی کے آثار تو نظر نہیں آرہے لیکن کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

سعید جان نے کہا کہ ’ہوسکتا ہے کہ طالبان کراچی میں موجود ہوں، خبروں میں ہی سنا ہے ویسے تو نظر نہیں آئے، اگر حکومت کو معلوم ہوجائے تو وہ فوری طور پر ان کے خلاف کارروائی کرے تاکہ یہاں کے شہری محفوظ رہ سکیں‘۔

ایم کیو ایم کے رہنماء اور سندھ اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ انتہا پسندوں کی حرکات و سکنات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ یہاں منظم ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم جو طوفان کھڑا ہوتا دیکھ رہی ہے تو بجائے اس کے کہ خاموش رہے اور جب طوفان سر پر آجائے تو تدبیر کی جائے، اس نے حکومت کو پہلے ہی آگاہ کردیا ہے۔ ان کے بقول کراچی نے ماضی میں بدترین فرقہ واریت دیکھی ہے اور آج کی انتہا پسندی اس فرقہ واریت کی ہی پیداوار ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی نے ڈینئیل پرل کے قتل سے لے کر القاعدہ کے اہم رہنماؤوں کی گرفتاری دیکھی ہے۔ ’کراچی میں بدترین خودکش بم دھماکے ہوئے ہیں، کئی ہزار کلوگرام گولہ بارود یہاں سے پکڑا گیا ہے، جبکہ کالعدم تنظیموں کے اہم رہنماؤں کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ہمدرد بھی موجود ہیں اور ان کی پشت پناہی کرنے والے بھی یہاں موجود ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے واقعے کے بعد پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا یکسر تبدیل ہوگئی ہے اور اب دنیا پہلے جیسی نہیں ہوسکے گی۔’ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تمام پاکستانی، تمام مسلمان آج بیٹھ کر طے کریں کہ کسی کی بھی غلطیوں کا جواب ہماری انتہا پسندی نہیں ہوسکتی۔

فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ چند روز پہلے ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی وزیرِاعظم کے مشیرِ داخلہ رحمان ملک سے ملاقات ہوئی تھی اور ایم کیو ایم نے یہ معاملہ حکومت کی صوابدید پر چھوڑا ہے۔

مشیرِ داخلہ رحمان ملک نے کراچی میں طالبان کی موجودگی کو تسلیم تو نہیں کیا لیکن اس سے انکار بھی نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں خرابیِ حالات کے سبب پانچ لاکھ افراد نے ملک کے مختلف شہروں کی جانب ہجرت کی ہے اور ان میں سے کچھ کراچی بھی آئے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ان کی آڑ میں طالبان بھی مختلف شہروں میں داخل ہوئے ہوں تاہم حکومت نظر رکھے ہوئے ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ نیٹو افواج کے لئے درآمد کردہ بکتر بندگاڑیاں ایک ٹرالر کے ذریعے افغانستان جانے کے لئے کراچی بندرگاہ کے قریب ماری پور ٹرک سٹینڈ پر تیار کھڑی تھیں اور چند نامعلوم افراد نے ٹرالر کو آگ لگادی جس کے باعث بکتر بند گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

اسی طرح چند ماہ قبل ٹرک سٹینڈ پر نامعلوم افراد کی جانب سے پرچیاں تقسیم کی گئیں تھیں جن کے ذریعے ایسے ٹرک مالکان کو دھمکیاں دیں گئیں تھیں جو افغانستان میں امریکی فوج کے لئے سازوسامان لے جارہے ہیں۔

پولیس کے ڈی آئی جی اقبال محمود نے کراچی میں طالبان کی موجودگی کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرک سٹینڈ پر جو واقعہ ہوا پولیس اس کی تحقیقات کررہی ہے۔

سپریم کونسل آف پاکستان آئل ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر یوسف شہوانی کا کہنا تھا کہ انہیں دھمکیاں ملتی رہتی ہیں لیکن وہ دھمکیوں کی وجہ سے کاروبار بند نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے ان سے کہا ہے کہ تیل کی رسد افغانستان تک جاری رکھی جائے لہذٰا تیل کی سپلائی ٹینکروں کے ذریعے جاری ہے تاہم انہوں نے شکایت کی کہ انہیں خاطر خواہ سیکیورٹی حاصل نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد