BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 September, 2008, 22:16 GMT 03:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان کے اندر بھی کارروائی ضروری ہے‘
مائیک مولن
امریکی کمانڈر نے کہا کہ طالبان نے اب زیادہ کارگر حملے شروع کر دیے ہیں
امریکہ کے ایک اعلیٰ فوجی کمانڈر نے کہا ہے کہ امریکہ طالبان سے متعلق اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر رہا ہے جس کے تحت اب سرحد پار کر کے پاکستان کے اندر طالبان پر بھی حملے ہو سکتے ہیں۔

چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے کہا کہ یہ تبدیلی افغانستان کی سرحد کے پار سے طالبان کے نہایت کارگر حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہے۔

دوسری طرف پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی نے کہا ہے کہ ملک کی حاکمیت اور سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا اور کسی بھی غیر ملکی فوج کو پاکستان کی حدود میں آپریشن کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

جنرل کیانی نے کہا ہے کہ اتحادی افواج کے ساتھ یہ بات صاف ہے کہ پاکستان کی سرحد میں آپریشن کا حق صرف پاکستان کا ہے۔

ایڈمرل مولن نے واشنگٹن میں کانگریس کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ وہ اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ امریکہ یہ جنگ جیت رہا ہے اگرچہ ’انہیں یقین ہے کہ امریکہ یہ جنگ جیت سکتا ہے۔‘

ایڈمرل مولن کا یہ بیان صدر بش کے افغانستان میں مزید 4,500 فوجی بھیجنے کے اعلان کے ایک دن بعد آیا ہے۔ افغانستان میں پہلے ہی 33,000 امریکی فوجی موجود ہیں۔

کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے ایڈمرل مولن نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان میں شدت پسند ایک مشترکہ لڑائی لڑ رہے ہیں۔

’میرے خیال میں دونوں ممالک ایک دوسرے کی سرحدوں کے پار سے ہونی والی ایک پیچیدہ بغاوت میں الجھے ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جب شدت پسند پاکستان سے سرحد عبور کر کے آتے ہیں تو ہم انہیں ڈھونڈ کر مار سکتے ہیں۔۔۔ لیکن جب تک ہم پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر ان پناہ گاہوں کو تباہ نہیں کر دیں گے جہاں سے وہ حملے کرتے ہیں، دشمن آتے رہیں گے۔‘

دریں اثناء وائٹ ہاؤس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں ناکامی سے امریکی فوجی اور انٹیلیجنس کارروائیوں کی بندشوں کا اندازہ ہوتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان دانا پرینو نے کہا کہ صدر بش کی القاعدہ کے رہنما کو قانون کے شکنجے میں دیکھنا چاہتے تھے لیکن امریکی حکام کے پاس ’سپر پاورز‘ نہیں ہیں۔

اسی بارے میں
مدرسے پر میزائل حملہ،20 ہلاک
08 September, 2008 | پاکستان
طالبان کے خلاف عوامی ردعمل
31 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد