پناہ گزین، لوٹے میں شربت اور تیرتے آلو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پلاسٹک کے لوٹے میں شربت، بڑے سے پیالے میں تیرتے دو آلو اور چند کھجوریں آج کل باجوڑ ایجنسی کے ستائیس سالہ اکرام اللہ کی افطاری ہے۔ اس برس اس کے لیے ماضی سے بالکل ہی مختلف ہے۔ نہ گزشتہ برسوں کی طرح خاندان کے تمام مردوں کا بڑے سے ہجرے میں اور عورتوں کا الگ کمرے میں اکھٹے افطاری کا انتظام ہے اور نہ ہی لمبے دسترخوان پر سجے درجنوں کھانے۔ نوشہرہ کے قریب پیرپیائی کے سرکاری ہائی سکول کے میدان میں درجنوں خیموں کے سامنے اکرام اللہ دیگر پناہ گزینوں کی طرح زمین پر بچھی ایک چادر پر افطاری میں مصروف ہیں۔ باجوڑ میں چارمنگ کے علاقے کے اس شخص کو یہ شکایت بھی ہے کہ گھربار سے دوری، پناہ گزینی کی زندگی، نوشہرہ کی گرم دھوپ اور گندے پانی نے ان کے لیے جینا دوبھر کر دیا ہے۔ ’شاید واپس اپنے گاؤں جاکر وہاں کا پانی پینے اور ہوا کھانے سے میرا رنگ اچھا ہوجائے گا۔‘ اکرام اللہ ان تقریباً تین لاکھ افغان پناہ گزینوں میں شامل ہے جنہوں نے باجوڑ میں گزشتہ ماہ کی پانچ تاریخ سے سکیورٹی فورسز کی جانب سے مقامی طالبان کے خلاف شروع ہونے والی فوجی کارروائی سے جان بچا کر محفوظ علاقوں کی جانب نقل مکانی کی۔
اپنی والدہ، بیوی، بچوں اور خاندان کی دیگر عورتوں اور بچوں کے ساتھ اکرام اللہ نے چھ گھنٹے تک پہاڑوں میں چل کر جان بچائی۔ اس کی والدہ گل ہارا نے نقل مکانی والے دن کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ اگرچہ دو دن سے ان کے گاؤں کے اردگرد لڑائی جاری تھی لیکن سات اگست کی صبح تک ان کے گاؤں کے بڑے بوڑھوں نے فیصلہ کیا تھا کہ چونکہ ان کا گاؤں محفوظ ہے لہٰذا کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ ’ہم عورتیں دوپہر کے کھانے کی تیاری میں مصروف ہوگئیں۔ ہم نے آٹا گوندھا اور سالن تیار کرنا شروع کیا۔ لیکن دس بجے اچانک کئی ہیلی اور جیٹ طیارے فضا میں نمودار ہوئے اور پھر دو زوردار دھماکوں نے ہمارے گاؤں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایسا محسوس ہوا کہ زلزلہ آیا ہے۔ بس پھر کیا تھا، برقعے ہاتھوں میں ہم نے بچوں کو اکھٹا کیا اور بھاگنا شروع کر دیا۔ ہمیں برقع اوڑھنے کا بھی وقت نہیں ملا ضروری سامان کیا اٹھاتے۔‘
پہاڑوں میں کئی گھنٹوں کا پیدل سفر کرنے کے بعد یہ لوگ ہمسایہ مہمند ایجنسی میں داخل ہوئے جہاں کے مقامی قبائل نے ان کے رات بسر کرنے کا بندوبست کیا۔ دوسرے روز انہوں نے گاڑیوں میں پشاور میں اپنے رشتہ داروں کا رخ کیا۔ لیکن چھ راتیں تنگ کمروں میں گزارنے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ مزید ان رشتہ داروں پر بوجھ نہیں بننا چاہتے اور پھر انہوں نے نوشہرہ کے کیمپ جانے کا فیصلہ کیا۔ حکومتی ادارے اور امہ فاونڈیشن جیسی امدادی تنظیمیں ان بےگھر لوگوں کی دیکھ بھال اپنے وسائل میں رہتے ہوئے کر رہی ہیں۔ پناہ گزینوں کو افطاری اور سحری مہیا کی جا رہی ہے۔ لیکن سہولتیں جتنی بھی ہوں پناہ گزینی کی زندگی کوئی آسان نہیں۔ جس سے ملیں شکایتیں ہی شکایتیں۔ پناہ گزینوں کی آمد کی وجہ سے پیرپیائی ہائی سکول موسم گرما کی تعطیلات کے ختم ہونے پر بھی نہیں کھل سکا ہے۔ طلبہ تو خوش ہیں لیکن اساتذہ کو فکر ہے کہ بچوں کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔ ایک استاد کا کہنا تھا ’سوات اور باجوڑ جیسے بعض علاقوں میں تو سکول جلائے جا رہے ہیں تعلیمی سلسلہ بند ہے لیکن وہاں سے آئے پناہ گزینوں کی وجہ سے ہمارا علاقہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔ سکول میں ہی ان لوگوں کو رکھنا کیا ضروری تھا؟‘ کیمپ میں مقیم پناہ گزینوں خصوصاً بچوں میں مختلف بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں۔ ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ قے اور دست کے علاوہ جِلد کی بیماریاں کافی سامنے آ رہی ہیں۔ سکول کے برآمدے میں ہسپتال کے دو بستر لگا کر ایسے بچوں کو ڈرپ لگائی جا رہی تھی۔ اکرام اللہ کا کہنا ہے کہ انہیں بعد میں معلوم ہوا کہ اس کے مکان کی چاردیواری گر چکی ہے جبکہ اس کے گاؤں کے تقریباً چھ سو مکانات میں سے اکثر بمباری سے متاثر ہوئے ہیں اور رہنے کے قابل نہیں۔ ’انہوں نے دو بم ہمارے گاؤں کے عین وسط میں گرائے جن سے کئی مکانات تو مکمل طور پر تباہ ہوئے جبکہ سینکڑوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔‘ حکومت کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کی خبر سُن کر نوشہرہ کے کیمپ کی اکثریت واپسی کے لیے تیار ہے۔ عارضی جنگ بندی کے کسی بھی وقت خاتمے کے خدشات کا مقابلہ کرنے کو یہ لوگ تیار ہیں لیکن کیمپ کے مصائب مزید برداشت نہیں کرنا چاہتے۔ واپسی کے لیے حکومتی اہلکاروں سے مذاکرات کی کامیابی کے بعد یہ متاثرین آئندہ چند روز میں واپس جانے کی تیاریوں میں لگے ہیں۔
نوشہرہ کے بعد مردان کا رخ کیا۔ لیکن وہاں مقیم تقریبا ساڑھے تین ہزار پناہ گزینوں کی سوچ نوشہرہ سے مختلف پائی۔ یہاں کے پناہ گزین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود انہیں باجوڑ سے مزید لڑائی کی اطلاعات مل رہی ہیں لہٰذا ان کا واپسی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ایک نجی ہاوسنگ کالونی شیخ یاسین کی چار دیواری میں قائم کیمپ میں گزشتہ دو ہفتوں سے مقیم عنایت کلے کے رحمت خان کا کہنا تھا کہ وہ یہاں بھوکے مرنے کو تیار ہیں لیکن بموں سے نہیں۔ دونوں کیمپوں کے پناہ گزینوں سے گفتگو میں ایک اور اہم بات یہ سامنے آئی کہ ہر کوئی حکومت کو ان کی مشکلات کا ذمہ دار ٹھراتے ہیں لیکن مقامی طالبان کے متعلق کچھ کہنے سے کتراتے ہیں۔ انہیں کریدنے پر کہ حکومت تو ان کو یہاں امداد بھی دے رہی ہے اور باجوڑ میں ان سے لڑ بھی رہی ہے توکیا اس کا شکریہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ان میں سے بعض کا کہنا تھا کہ وہ نہ حکومت کی عملداری چاہتے ہیں نہ طالبان انہیں صرف اور صرف امن چاہیے۔ واپس لوٹنے والے پناہ گزین پرامید ہیں کہ امن پائیدار ہوگا۔ تاہم گل ہارا سے پوچھا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو پھر وہ کیا کریں گی، ان کا جواب تھا ’اگر طاقت ہوئی تو واپس آجائیں گے ورنہ وہیں مرکھپ جائیں گے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||