دہشت گرد کے خلاف جنگ: سرحد کی دہلیز پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
(امریکہ میں گیارہ ستمبور کو ہونے والے خودکش حملوں کی ساتویں برسی کے موقع پر بی بی سی اردو سروس کی خصوصی کوریج کی پہلی کڑی) صوبہ سرحد کے عوام نے شاید پہلے کبھی یہ سوچا بھی نہ تھا کہ گیارہ ستمبر سن دو ہزار ایک کو امریکہ میں حملوں کی نتیجے میں شروع ہونے والی ’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘ ایک دن ان کی دہلیز تک بھی آپہنچی گی۔ ابتداء میں یہ جنگ افغانستان اور پھر قبائلی علاقے وزیرستان تک محدود رہی لیکن رفتہ رفتہ اس جنگ نے صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اب یہ لڑائی ماسوائے ہزارہ ڈویژن کے صوبہ سرحد کے تقریباً تمام اضلاع سوات، دیر، بونیر، شانگلہ، مردان، نوشہرہ، ٹانک، بنوں، ہنگو، کوہاٹ اور دیگر علاقوں تک پھیل چکی ہے۔ صوبہ سرحد کے سابق چیف سیکرٹری اور کابل میں پاکستان کے سابق سفیر رستم شاہ مہمند کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں فوج کی تعیناتی سے وہاں رائج پولیٹیکل نظام مفلوج ہوگیا ہے جبکہ انتظامی امور میں مقامی انتظامیہ کے عمل دخل کو محدود کرنے سے وہاں صورتحال خراب ہوگئی۔ ان کے مطابق اختیارات فوج کے ہاتھوں میں آنے سے ایک انتظامی خلاء پیدا ہوگیا ہے جس سے حکومت کی عملداری کمزور ہوتی گئی جبکہ اس کا اثر فاٹا کے نزدیک واقع صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں پر بھی پڑا۔
رستم شاہ مہمند نے بتایا کہ ’اس کشیدگی کو جرگہ اور مذاکرات کے ذریعے سے ختم کیا جاسکتا ہے لیکن طریقۂ کار میں تبدیلی ہونی چاہیے، جرگہ میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو نمائندگی دینی چاہیے اور جو فیصلے طے کیئے جائیں ان پر دونوں طرف سےسو فیصد عمل درامد ہونا چاہیے۔‘ قبائلی علاقوں کے بعد اس جنگ کی شدت سب سے زیادہ وادی سوات میں محسوس کی گئی جہاں تقریباً ایک سال سے فوج اور طالبان ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ ماضی میں پاکستان کا سب سے پرامن ضلع سمجھی جانے والی وادی سوات آجکل میدان جنگ کا منظر پیش کر رہی ہے۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سوات دوسرا وزیرستان بننے جارہا ہے۔ سوات میں غیر سرکاری تنظیم گلوبل پیس کونسل کے صدر ضیاء الدین یوسف زئی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سوات میں حالات اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ اسے اب معمول پر لانا اکیلے حکومت کی بس کی بات نہیں بلکہ لوگوں کو بھی حکومت کا ساتھ دینا ہوگا۔ ان کے بقول ’اگر سوات کے عوام واقعی امن چاہتے ہیں تو انہیں ایک وحدت کے طورپر طالبانائزیشن اور شدت پسندی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہونا ہوگا اور جس طرح دیگر اضلاع میں لوگ طالبان کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں اس طرح سوات میں بھی عوام کو شدت پسندوں کے خلاف سڑکوں پر نکلنا ہوگا اور یہی اس مسلے کا واحد اور دیرپا حل بھی ہے۔‘ بظاہر غیر ملکیوں کو کچلنے کےلیے شروع ہونے والی اس جنگ میں جب مسلسل طاقت کے استعمال کی حکمت عملی ناکام ہوئی تو حکومت نے طالبان سے مذاکرات کا آغاز کیا اور ان سے امن معاہدے بھی کیے۔ اگرچہ ایک طرف امن بات چیت سے تشدد کے واقعات میں کمی ہوئی تو دوسری طرف طالبان کوخود کو منظم کرنے کا ایک سنہری موقع ملا اور وہ قبائلی علاقوں سے نکل کر صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں میں پہنچے جہاں ان کی مسلسل طاقت میں اضافے سے حکومت کی رٹ کمزور ہوتی گئی۔ ایک ایسا وقت بھی آیا کے پولیس اور فوجی اہلکار طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنے لگے۔ سرحد حکومت کے ترجمان اور صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ حکومت اس جنگ کو مزید علاقوں تک پھیلنے سے روکنے کے لئے مذاکرات کی پالیسی پر عمل پیرا ہے لیکن اگر عسکریت پسند بات چیت پر آمادہ نہیں ہوتے تو پھر مجبورا ً امن کے قیام کےلیے حکومت کے پاس طاقت کا استعمال آخری آپشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے سوات اور مالاکنڈ میں امن کے لیے جن کوششوں کا آغاز کیا تھا اس کے اب اچھے نتائج برآمد ہو رہے ہیں اور سرحد کے کئی اضلاع میں عوام خود طالبان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور ان کو اپنے علاقوں سے نکال رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی طوالت کا اندازہ لگانا اگرچہ مشکل ہے لیکن مبصرین اور عام لوگوں میں یہ خیال زور پکڑتا جارہا ہے کہ اس لڑائی نے پاکستان کی سماجی، معاشی اور سیاسی حالات کے علاوہ ملکی کی سالمیت کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||