BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 September, 2008, 12:43 GMT 17:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حقانی امریکیوں کے لیے’اہم ہدف‘

جلال الدین حقانی(فائل فوٹو)
جلال الدین حقانی افغان جنگ میں اہم گوریلا کمانڈر تھے
پاکستان کے قبائلی علاقوں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سرحد پار سے مبینہ’امریکی میزائل حملوں‘ میں گزشتہ ڈھائی ہفتوں سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس دوران ہونے والے آٹھ حملوں میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں بعض عرب باشندوں کے علاوہ زیادہ تر عام شہری بتائے جاتے ہیں جس میں پانچ روز قبل جنوبی وزیرستان کے انگور اڈہ میں امریکی فوج کی مبینہ ’زمینی کاروائی‘ میں بیس عام لوگوں کی ہلاکت بھی شامل ہے۔

سرحد پار سے امریکی میزائل حملے ویسے توگزشتہ کئی سالوں سے تواتر کے ساتھ ہوتے رہے ہیں مگر نئی حکومت کے قیام اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بحری بیڑے پر امریکی فوج کے سربراہ سے ملاقات اور کابل میں ہونے والے سہ فریقی کمیشن کے اجلاس میں خصوصی شرکت کے بعد ان حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اگرچہ انگور اڈہ میں ہونے والی زمینی کارروائی پر پاکستانی فوج، وزارت خارجہ، گورنر ہاؤسں پشاور، قومی اسمبلی، پنجاب اور صوبہ سرحد کی اسمبلیوں نے مذمتی قراردادیں منظور کر کے سخت احتجاج کیا مگر اس احتجاجی آواز کی گونج فضاء میں ہی تھی کہ چوبیس گھنٹے بعد شمالی وزیرستان میں ایک اور میزائل حملہ کیا گیا جس سے باآسانی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج، وزارت خارجہ اورمنتخب اسمبلیوں کے احتجاج کو کتنی وقعت دیتا ہے۔

اپنی احتجاجی آواز کو صدا بہ صحرا ثابت ہوتے دیکھ کر پاکستانی فوج نے ایسے کسی بھی واقعہ کے متعلق اب میڈیا سے بظاہر’ جان چھڑانے‘ کے لیے محض تین جملوں کے ایک ’سدا بہار‘ بیان کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے کہ’ہمیں دھماکے کے بارے میں اطلاعات ملی ہیں مگر اس کی نوعیت معلوم کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور اس بارے میں بہت جلد تفصیلات جاری کر دی جائیں گی‘۔

 مولانا جلال الدین حقانی ضعیف العمری کی وجہ سے گوشہ نشین ہوچکے ہیں اور ان کی جگہ ان کے تنتیس سالہ بیٹے خلیفہ سراج الدین حقانی نے لے لی ہے اور امریکہ کا خیال ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سراج الدین حقانی ہی افغانستان میں موجود طالبان کو تربیت، اسلحہ اور خودکش حملہ آور مہیا کر رہے ہیں

گزشتہ تین ہفتوں کے دوران زیادہ حملے شمالی وزیرستا ن میں ہوئے ہیں جن کی تعداد پانچ بنتی ہے اور تازہ حملے میں طالبان کے کمانڈر جلال الدین حقانی کے مدرسے کو نشانہ بنایا گیا ہے جسے اب تک کا سب سے ’اہم ٹارگٹ‘سمجھا جا سکتا ہے۔

مولانا جلال الدین حقانی کا شمار امریکہ کو مطلوب سب سے اہم افراد میں کیا جاتا ہے۔ افغانستان میں انیس سو اناسی میں روسی فوج کے داخل ہونے کے بعد جن ’جہادی کمانڈروں‘ نے امریکہ، پاکستان اور بعض دیگر یورپی اور اسلامی ممالک کی مدد سے جہاد شروع کیا تھا ان میں مولانا جلال الدین حقانی سب سے اہم کمانڈر کے طور پر ابھر کے سامنے آئے تھے۔

انہوں نے افغانستان سے ہجرت کر کے شمالی وزیرستان میں سکونت اختیار کر لی تھی اور یہاں سے’مجاہدین کو تربیت اور اسلحہ‘ دے کر انہیں افغانستان بھیجا جانے لگا۔

قبائل میں انہیں انتہائی عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور سنہ انیس سو چھیانوے میں افغانستان پر طالبان کے دورِ حکومت میں انہیں قبائلی علاقوں اور سرحدوں کا وزیر مقرر کیا گیا۔

جلال الدین حقانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے پاکستان کے ساتھ انتہائی قریبی دوستانہ تعلقات ہیں۔ طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ شمالی وزیرستان میں ہی مقیم رہے جہاں پر ان کے کئی مدرسے ہیں۔

جب پاکستانی فوج غیر ملکیوں کے تعاقب میں قبائلی علاقوں میں داخل ہوئی تب سے مولانا جلال الدین حقانی اپنے خاندان کے ہمراہ روپوش ہیں۔

پاکستانی فوج نے میرانشاہ میں قائم ان کے دو خالی مدرسوں کو بھی بم دھماکوں سے اڑا کر تباہ کر دیا تھا۔ مولانا جلال الدین حقانی ضعیف العمری کی وجہ سے گوشہ نشین ہوچکے ہیں اور ان کی جگہ ان کے تنتیس سالہ بیٹے خلیفہ سراج الدین حقانی نے لے لی ہے۔

پاکستانی فوج نے بھی جلال الدین حقانی کے دو مدرسے تباہ کیے تھے

سوال یہ ہے کہ تازہ حملہ میں مولانا جلال الدین حقانی کے مدرسے کو کیوں نشانہ بنایا گیا ہے اور جواب ڈھونڈھنے کے لیے افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی مزاحمت پر ایک طائرانہ نظر دوڑانے کی ضرورت ہے۔

اس وقت پاکستان سے متصل افغانستان کے جنوب اور جنوب مشرق میں اتحادی افواج کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے اتحادی افواج نے افغانستان کو پانچ مختلف زونز میں تقسیم کیا ہے۔افغانستان کے جن علاقوں میں قدرے امن ہے وہاں پر جرمنی اور کینیڈا کے فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ جنوب اور جنوب مشرق میں اسّی فیصد امریکی فوج طالبان جنگجوؤں سے برسرِ پیکار ہے۔

امریکہ کا خیال ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سراج الدین حقانی ہی افغانستان میں موجود طالبان کو تربیت، اسلحہ اور خودکش حملہ آور مہیا کر رہے ہیں۔

پست قامت سراج الدین حقانی کا سرحد کے آرپار سرگرم طالبان میں اثرورسوخ بہت زیادہ ہے اور انہوں نے ہمیشہ طالبان گروپوں کے اندرونی اختلافاتات کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے کئی مواقع پر قبائلی علاقوں میں طالبان جنگجوؤں اور پاکستانی فوج کے درمیان ہونے والی بات چیت میں بذاتِ خود شرکت کر کے مصالحت کرائی ہے۔

سرکاری اور قبائلی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سال کے اوائل میں جب پاکستانی فوج نے جنوبی وزیرستان میں طالبان کے خلاف کارروائی شروع کی تو سراج الدین حقانی نے رزمک فوجی چھاؤنی میں بیٹھ کر فریقین کے درمیان مصالحت کرائی تھی۔

امریکی اور اتحادی افواج کا کہنا ہے افغانستان کے صوبہ خوست، پکتیا، پکتیکا اور غزنی میں انہیں جس مزاحمت کا سامنا ہے اس میں بقول ان کےپاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود سراج الدین حقانی کے نیٹ ورک کا ایک اہم کردار ہے۔

چند ماہ قبل کابل میں بھارتی سفارت خانہ پر جو خودکش حملہ ہوا تھا،اس وقت بھی امریکہ اور بھارت نے الزام لگایا تھا کہ مولانا جلال الدین حقانی کی مدد سے ہی پاکستان کی خفیہ ایجنسی’ آئی ایس آئی’ نے اس حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ تاہم پاکستان نے بارہا اس الزام کی تردید کی تھی۔

وزیرستان صورتحال
علاقے میں غیرملکیوں کی موجودگی حقیقت ہے۔
طالبان سے بات چیت
مذاکرات سے مسائل حل ہوتے نظر نہیں آ رہے
گائیڈڈ میزائل حملہگائیڈڈ میزائل حملے
قبائلی علاقوں میں گائیڈڈ میزائل حملوں میں اضافہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد