BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 September, 2008, 09:21 GMT 14:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمالی وزیرستان: بچے، عورتیں ہلاک

 وزیرستان (فائل فوٹو)
گزشتہ ایک ہفتے سے میرانشاہ، وانا اور ملحقہ علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں میں اضافہ ہوا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں افغان سرحد کے قریب امریکی جاسوس طیاروں سے میزائیلوں کے تین حملوں میں تین بچے اور دو خواتین ہلاک ہوگئی ہیں۔ حملے میں ایک مکان مکمل طور تباہ جبکہ دو مکانوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ علاقے میں خوف ہراس پایا جاتا ہے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جمعہ کو صبح نو بجے کے قریب شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے کوئی اسی کلومیٹر دور مغرب کی جانب علاقہ کرویک میں افغان سرحد کے قریب حکیم خان نامی قبائلی کے مکان پر جاسوس طیاروں سے تین میزائل گرائے گئے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ لوگوں نے ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو ملبہ سے نکال لیا ہے۔گزشتہ ایک ہفتے سے میرانشاہ، وانا اور ملحقہ علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں میں اضافہ ہوا ہے۔ لوگ ان طیاروں اور میزائل حملوں سے سخت پریشان ہیں۔

حادثہ یا حملہ
 اس پہلے بھی کئی بار قبائلی علاقوں میں نامعلوم مقام سے میزائل داغنے کے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔مقامی لوگ اس قسم کے واقعات کا الزام افغان حکومت یا امریکہ پر لگتے ہیں۔لیکن حکومت پاکستان اس قسم کے واقعات کو محض ایک حادثہ قرار دیتی ہے
اس واقعہ سے دو دن پہلے افغانستان سرحد کے قریب انگور اڈہ میں بدھ کو صبح تین بجے کے قریب افغانستان کے جانب سے تین امریکہ ہیلی کاپٹر انگور اڈہ کے مشرقی حصہ میں موسی نیکہ زیارت کے خالی میدان میں اترے تھے جن میں امریکی اور اتحادی فوجی اہلکار سوار تھے۔

مقامی لوگوں کے مطابق امریکی اور اتحادی فوجیوں کے اہلکار پاؤجان کے گھر میں داخل ہوگئے اور ارد گرد کے علاقے کو بھی اپنے گھیرے میں لے لیا تھا۔

مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پاؤجان کے گھر میں زبردست دھماکے شروع ہوگئے اور قریبی آبادی میں عورتوں اور بچوں نے چیخنا شروع کیا۔ اس دوران امریکیوں نے گھروں سے باہر آنے والے لوگوں پر بھی فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں بھی دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مقامی لوگوں نے بتایا تھا کہ پاؤجان کے گھر سے پاکستانی فوج کا ایک ٹھکانہ صرف تین یا چار سو میٹر کے فاصلے پر واقعہ ہے۔لیکن حکومت اپنے فوجی ٹھکانے کو پاؤجان کے مکان سے دو کلومیٹر دور بتاتی ہے۔

یادرہے کہ اس پہلے بھی کئی بار قبائلی علاقوں میں نامعلوم مقام سے میزائل داغنے کے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔مقامی لوگ اس قسم کے واقعات کا الزام افغان حکومت یا امریکہ پر لگتے ہیں۔لیکن حکومت پاکستان اس قسم کے واقعات کو محض ایک حادثہ قرار دیتی ہے۔گزشتہ روز جنوبی وزیرستان کے علاقہ انگور اڈہ میں امریکہ اور اتحادی فوج کے حملے میں بیس عام شہر ہلاک ہوگئے تھے۔

میران شاہ چوکی
ہمارے نامہ نگار ہارون رشید کی آپ بیتی
وزیرستان فوج قبائلی دلدل میں !
وزیرستان طالبان کے جال میں
لڑکیکھانےپینےکا مسئلہ
میران شاہ میں اشیائے خورد نوش کی قلت
میران شاہ میں فوجیہلاکتوں کی حقیقت
میران شاہ: لاشیں کہاں گئیں، وہ کون لوگ تھے؟
وزیرستان وزیرستان کا سچ
سرکار، قبائلی ملک اور ملا کا محتاج میڈیا
اسی بارے میں
’امریکی حملہ شرمناک ہے‘
04 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد