شمالی وزیرستان: بچے، عورتیں ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں افغان سرحد کے قریب امریکی جاسوس طیاروں سے میزائیلوں کے تین حملوں میں تین بچے اور دو خواتین ہلاک ہوگئی ہیں۔ حملے میں ایک مکان مکمل طور تباہ جبکہ دو مکانوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ علاقے میں خوف ہراس پایا جاتا ہے۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جمعہ کو صبح نو بجے کے قریب شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے کوئی اسی کلومیٹر دور مغرب کی جانب علاقہ کرویک میں افغان سرحد کے قریب حکیم خان نامی قبائلی کے مکان پر جاسوس طیاروں سے تین میزائل گرائے گئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ لوگوں نے ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو ملبہ سے نکال لیا ہے۔گزشتہ ایک ہفتے سے میرانشاہ، وانا اور ملحقہ علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں میں اضافہ ہوا ہے۔ لوگ ان طیاروں اور میزائل حملوں سے سخت پریشان ہیں۔
مقامی لوگوں کے مطابق امریکی اور اتحادی فوجیوں کے اہلکار پاؤجان کے گھر میں داخل ہوگئے اور ارد گرد کے علاقے کو بھی اپنے گھیرے میں لے لیا تھا۔ مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پاؤجان کے گھر میں زبردست دھماکے شروع ہوگئے اور قریبی آبادی میں عورتوں اور بچوں نے چیخنا شروع کیا۔ اس دوران امریکیوں نے گھروں سے باہر آنے والے لوگوں پر بھی فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں بھی دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مقامی لوگوں نے بتایا تھا کہ پاؤجان کے گھر سے پاکستانی فوج کا ایک ٹھکانہ صرف تین یا چار سو میٹر کے فاصلے پر واقعہ ہے۔لیکن حکومت اپنے فوجی ٹھکانے کو پاؤجان کے مکان سے دو کلومیٹر دور بتاتی ہے۔ یادرہے کہ اس پہلے بھی کئی بار قبائلی علاقوں میں نامعلوم مقام سے میزائل داغنے کے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔مقامی لوگ اس قسم کے واقعات کا الزام افغان حکومت یا امریکہ پر لگتے ہیں۔لیکن حکومت پاکستان اس قسم کے واقعات کو محض ایک حادثہ قرار دیتی ہے۔گزشتہ روز جنوبی وزیرستان کے علاقہ انگور اڈہ میں امریکہ اور اتحادی فوج کے حملے میں بیس عام شہر ہلاک ہوگئے تھے۔ |
اسی بارے میں ’امریکی حملہ شرمناک ہے‘04 September, 2008 | پاکستان امریکی حملے پر پاکستان کا احتجاج03 September, 2008 | پاکستان وزیرستان: کارروائی میں بیس ہلاک03 September, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||