BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 September, 2008, 03:11 GMT 08:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: کارروائی میں بیس ہلاک

فائل فوٹو
امریکیوں کی جانب سے پہلے کئی مرتبہ کارروائی کی جاچکی ہے۔
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے’امریکی اور اتحادی افواج‘ کی مبینہ کارروائی میں ’بیس‘ لوگوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے مطابق انہیں واقعہ کی اطلاع ملی ہے لیکن تفصیلات ابھی حاصل کی جارہی ہیں۔ فوج کےایک دیگر ترجمان میجر مراد نے کہا کہ پاکستان کے ایک گاؤں میں حملہ ہوا ہے اور اس سلسلےمیں جلدی ہی ایک پریس ریلیز جاری کی جائے گی۔

بعد میں گورنر سرحد کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد بیس ہے اور ان میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

عینی شاہدوں کے مطابق صبح تقریباً تین بجے ’تین ہیلی کاپیٹروں میں امریکی اور اتحادی فوج کے دستے موسی نیکہ کے علاقے میں اترے جو افغانستان کی سرحد پر انگور اڈہ کے قریب واقع ہے۔‘

پاکستان کےمشیر داخلہ رحمان ملک نے کل انکشاف کیا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے ایک مقام پر یقینی طور پر القائدہ کے رہنما ایمن الظواہری کا پتہ چلا لیا تھا لیکن انہیں گرفتار کرنے کا موقع ضائع ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر مہمند ایجنسی پر سکیورٹی فورسز نے اس وقت کارروائی کی جب اس علاقے میں ایمن الظواہری کی بیوی کو دیکھا گیا۔ تاہم ان دونوں میں سے کوئی پکڑا نہ گیا۔

مقامی لوگوں کے مطابق امریکی اور اتحادی فوجی پاؤجان نامی ایک شخص کے گھر میں داخل ہوگئے اور ارد گرد کے علاقے کو بھی اپنے گھیرے میں لے لیا۔

اطلاعات کے مطابق پاؤجان احمدزئی وزیر کے مکان میں آپریشن کے دوران بیس مقامی لوگ ہلاک ہوگئے جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔

مقامی انتظامیہ نے واقعہ کی تصدیق کی ہے۔ مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ پاؤجان کے گھر سے زبردست دھماکوں کی آوازیں آئیں اور قریبی آبادی میں عورتوں اور بچوں نے چیخنا شروع کر دیا۔ اس دوران امریکیوں کی فائرنگ سے ان میں سے پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ پاؤجان کے گھر کے ملبہ سے دس لاشیں نکالی گئی ہیں جن میں تین خواتین دو بچے اور پانچ مرد شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاؤجان کا مکان مکمل طور پر یباہ ہوگیا ہے۔ پاؤجان کے گھر سے پاکستان فوج کا ایک ٹھکانہ صرف تین سو میٹر کے فاصلے پر واقعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعہ سے پورے علاقے میں زبردست خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں کو دفنانے کی تیاری کی جارہی ہے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکی اور اتحادی افواج کی طرف سے پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حملے کی سخت مذمت کی ہے جس میں کئی بے گناہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ کسی کو پاکستان میں کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے اور حکومت پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمد غنی نے جنوبی وزیرستان میں ’اتحادی افواج کے حملے’ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی عوام مسلح افواج سےملک کی سلامتی کی خاطر اس قسم کے حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کی توقع کرتے ہیں۔

گورنر ہاؤس پشاور سے جاری ہونے والے ایک بیان کہا گیا ہے کہ اس حملے میں خواتین اور بچوں سمیت بیس عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

بدھ کو جاری ہونے والے اس بیان میں صوبہ سرحد کے گورنر نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اس سے ایک اشتعال انگیز قدم قرار دیا ہے۔ ان کے بقول یہ پاکستان کی سالمیت پر براہ راست حملہ ہے۔

ان مطابق قبائلی علاقوں کے منتظم کی حیثیت سے وہ خود کو ان علاقوں میں بسنے والے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔گورنر کا مزید کہنا ہے کہ’یہ پاکستان کی سالمیت پر براہ راست حملہ ہے اور پاکستانی عوام مسلح افواج سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ ملک کی سالمیت کے لیے اٹھ کھڑے ہونگے اور اس قسم کے حملوں کا منہ توڑ جواب دیں گے۔‘

گورنر سرحد نے اس حملے میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی پسماندگان کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ بھر پور کوشش کریں گے کہ مستقبل میں اس قسم کے بزدلانہ حملوں سے اپنے شہریوں کو تحظ فراہم کی جاسکے۔

اسی بارے میں
سوات:خودکش حملہ، ہلاکتیں
23 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد