افغان پولیس سربراہ کو قتل کر دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان حکام کے مطابق افغانستان کے صوبے قندھار میں ملک کی سب سے اعلیٰ خاتون پولیس افسر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ قندھار پولیس کے خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کے شعبہ کی سربراہ لیفٹیننٹ کرنل مالالائی کاکڑ کو اس وقت گولی مار دی گئی جب وہ اپنی کار میں دفتر جانے کے لیے نکلی تھیں۔ حملے میں ان کا بیٹا بھی شدید زخمی ہوا ہے اور اس کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ طالبان باغیوں نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ حملہ کیا تھا۔ یاد رہے جب طالبان برسرِ اقتدار تھے تو انہوں نے طالبان کی پولیس فورس میں شمولیت پر پابندی لگا دی تھی۔
طالبان کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم نے مالالائی کاکڑ کو مارا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’وہ ہمارا ٹارگٹ تھیں، اور ہم نے کامیابی سے اپنے ٹارگٹ کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا ہے۔‘ اطلاعات کے مطابق مالالائی کاکڑ کے چھ بچے ہیں اور ان کی عمر چالیس سال کے قریب تھی۔ مالالائی کاکڑ نے پولیس فورس میں شمولیت 1982 میں کی تھی۔ ان کے والد اور بھائی بھی پولیس میں تھے۔ تاہم جب طالبان اقتدار میں آئے تو مالالائی کاکڑ کو کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں یو این، شہری ہلاکتوں پر تشویش23 September, 2008 | آس پاس مشترکہ فوج کی تجویز23 September, 2008 | آس پاس افغانستان: چار فوجی ہلاک17 September, 2008 | آس پاس ’مزید دس ہزار فوجی چاہئیں‘17 September, 2008 | آس پاس قندھار:چوکی پر حملہ، آٹھ ہلاک04 July, 2008 | آس پاس بی بی سی پشتو کے نمائندے کی تدفین09 June, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||