یو این، شہری ہلاکتوں پر تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی سلامتی کانسل نے افغانستان میں بین الاقوامی فوج کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سلامتی کانسل نے افغانستان میں بین الاقوامی فوج کے مینڈیٹ میں ایک سال کی توسیع کرتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں کی ہلاکت کا امکان ختم کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ کانسل نے کہا کہ اسے طالبان سے بڑھتے ہوئے خطرے کا علم ہے۔ واضح رہے کہ افغان حکومت عام شہریوں کی ہلاکت پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتی رہی ہے۔ حال ہی میں بین الاقوامی فوج کی کارروائی میں نوے شہری ہلاک ہوگئے تھے جن ایک بڑی تعداد بچوں کی بتائی جاتی ہے۔ اس سے قبل فرانس کی پارلیمنٹ نے دو ہزار چھ سو فرانسیسی فوجیوں کی افغانستان میں تعیناتی جاری رکھنے کی منظوری دی حالانکہ حزب اختلاف کا مطالبہ تھا کہ انہیں واپس بلا لیا جائے۔ دوسری طرف افغانستان میں ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ منگل کے روز بگرام میں رکھے گئے قیدی پہلی مرتبہ اپنے خاندان والوں سے ملیں گے۔ ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ قیدی اپنے اہل خانہ کے ساتھ ایک گھنٹہ گزاریں گے۔ اس ملاقات کا فیصلہ ریڈ کراس اور امریکی حکام کے درمیان برسوں سے جاری بات چیت کے بعد کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں افغانستان: اکانوے عام شہری ہلاک22 August, 2008 | آس پاس امریکی حملہ، نشانہ بنے بچے، عورتیں11 July, 2008 | آس پاس افغانستان: ہلاکتیں، متضاد اطلاعات05 July, 2008 | آس پاس قندھارجیل پر حملہ، 340 طالبان فرار14 June, 2008 | آس پاس ’نیٹو افغان جنگ ہار بھی سکتی ہے‘19 January, 2008 | آس پاس کابل: قیدیوں کا عزیزوں سے رابطہ14 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||