کابل: قیدیوں کا عزیزوں سے رابطہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان دارالحکومت کابل کے قریب ایک امریکی جیل کے قیدیوں کو پہلی مرتبہ اپنے عزیزوں سے بات کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی ریڈ کراس کی جانب سے فراہم کیے گئے ویڈیو لِنک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تقریباً ساٹھ گھرانوں کے افراد نے بگرام کے فوجی اڈے پر قید اپنے عزیزوں سے بات چیت کی۔ بگرام کے اڈے پر اس وقت بھی چھ سو سے زائد افراد کو امریکہ نے دہشتگردوں سے رابطے ہونے کے الزام میں قید رکھا ہوا ہے۔ امریکی فوج نے بگرام اڈے پر یہ جیل سنہ دو ہزار ایک کے آخری مہینوں میں طالبان کی حکومت کو ختم کرنے کے بعد قائم کی تھی۔ بین الاقوامی ریڈ کراس کے اہلکار سنہ دو ہزار دو سے اس جیل کا معائنے کرتے رہے ہیں، تاہم تنظیم نے ابھی تک اس قید خانے کے اندر کے حالات پر کوئی رپورٹ شائع نہیں کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو ویڈیو کے ذریعے رابطے مہیا کرنے کی اجازت اسے برسوں کی کوششوں کے بعد ملی ہے۔ ویڈیو لِنک سے اپنے قید والد سے بات کرنے کے بعد ایک شخص سید نور احمد کا کہنا تھا کہ اپنے والد سے بات کرنا ان کے لیے ایک بہت جذباتی تجربہ تھا۔ ’میرا خیال تھا کہ ہمارے والد کا انتقال ہو چکا ہے، مجھے کوئی امید نہیں تھی کہ ہم انہیں دیکھ سکیں گے۔ ریڈ کراس نے یہ موقع فراہم کر کے ہماری امیدیں بڑھا دی ہیں۔ اب ہمیں امید ہے کہ ہمارے والد اللہ کی مدد سے رہا ہو جائیں گے۔‘
ریڈ کراس کی ایک نمائندہ نے اس موقع پر کہا کہ ’ہمیں احساس ہے کہ یہ قیدیوں کے گھر والوں کے لیے اپنے عزیزوں کو دیکھنے اور ان سے بات کرنے کا ایک پر مسرت موقع تھا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ کئی گھرانوں نے اپنے عزیزوں سے عرصے سے بات نہیں کی تھی۔ یہلا موقع ہے کہ ان گھرانوں کا آپس میں کوئی رابطہ ہوا ہے۔‘ ریڈ کراس نے بتایا ہے کہ تنظیم نے کابل میں اپنے دفتر میں جو ویڈیو کال سینٹر قائم کیا ہے اس سے اب تک ساٹھ گھرانے مستفید ہو چکے ہیں۔ بگرام کا فوجی اڈّہ کابل سے تقریباً چالیس کلومیٹر جنوب میں واقع ہے جو سوویت فوج نے انیس سو اسّی کی دہائی میں تعمیر کیا تھا۔ افغانستان پر امریکی قیادت میں اتحادی فوجوں کے حملے کے بعد سے یہ ان کا مرکزی اڈّہ ہے اور ملک کے مختلف حصوں سے پکڑے جانے والے افراد کو امریکی فوج اسی اڈّے پر قائم جیل میں رکھتی ہے۔ | اسی بارے میں افغانستان: مدارس کی اصلاح 12 January, 2008 | آس پاس سولہ افغان پولیس اہلکار ہلاک01 January, 2008 | آس پاس برطانوی اہلکار ملک بدر: افغانستان25 December, 2007 | آس پاس میرینز افغانستان تعیناتی، تجویز رد06 December, 2007 | آس پاس ’نیٹو بمباری سے افغان مزدور ہلاک‘28 November, 2007 | آس پاس افغان خود کش حملہ، 40 ہلاک07 November, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||