افغان خود کش حملہ، 40 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی افغانستان میں ایک خود کش بم حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ دھماکہ بغلان صوبے میں ایک شوگر فیکٹری کے قریب ہوا۔ حملے کا نشانہ ایک وفد تھا جس میں ارکان پارلیمنٹ شامل تھے اور اس وفد کا خیر مقدم کرنے سکول کے بچے آئے تھے۔ اس لیے ہلاک ہونے والوں میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ حکام کے مطابق ہلاک شدگان میں افغان پارلیمان کے چھ ارکان بھی شامل ہیں جو اس شوگر فیکٹری کے کھولے جانے کی تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ وفد میں شامل ایک رکن پارلیمنٹ صفیہ صدیقی بھی تھیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نے دھماکہ سنا اور سمجھ گئی کہ کچھ نہ کچھ ہوا ہے۔ میں کار کی طرف بھاگی۔ کچھ خوش قسمت تھے جو بچ گئے۔ کچھ خوش قسمت تھے جن کو بچالیا گیا لیکن میرا خیال ہے کہ افغانستان کے باشندے اس واردات کو بھلا نہیں پائیں گے۔‘
ہلاک شدگان میں رکنِ پارلیمان مصطفےٰ کاظمی بھی شامل ہیں جو کرزئی حکومت کے سابق وزیر، سابق مجاہد لیڈر اور مشہور اپوزیشن رہنما تھے۔ افغان صدر نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے دھماکے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ یہ اسلام کے خلاف دہشت گردی کا گھناؤنا ارتکاب ہے۔ ان کے علاوہ وائٹ ہاؤس اور اقوامِ متحدہ نے بھی دھماکے کی مذمت کی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ہماری تحریک اس حملے میں ملوث نہیں ہے۔ بگلان کے میئر کا کہنا ہے کہ بمبار کی صرف ٹانگیں ملی ہیں لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کی شناخت کیا۔ افغانستان میں تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں مقامی اور غیر ملکی افواج طالبان اور ان کے حلیفوں سے بر سرِ پیکار ہیں۔ شمالی افغانستان وہ علاقہ ہے جہاں شدت پسندوں کا کارروائیاں اس پیمانے پر نہیں ہوتیں جیسی جنوب یا مشرق میں۔ | اسی بارے میں خودکش حملے میں پندرہ ہلاک18 August, 2007 | آس پاس ’افغان صورتِ حال بد سے بدتر‘12 June, 2007 | آس پاس 80 طالبان ہلاک کرنے کا دعوٰی28 October, 2007 | آس پاس ہلمند: نیٹو حملہ، عام شہری ہلاک30 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||