بی بی سی پشتو کے نمائندے کی تدفین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صوبہ ہلمند میں ہلاک کیے جانے والے بی بی سی پشتو سروس کے نمائندے عبدالصمد روحانی کو سپردِ خاک کر دیا گیا ہے جبکہ افغان پولیس کے مطابق تاحال ان کے قاتلوں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ عبدالصمد روحانی کو سنیچر کو اغواء کیا گیا تھا اور ان کی لاش اتوار کی دوپہر لشکرگاہ کے علاقے سے ملی تھی۔ عبدالصمد روحانی بی بی سی کے کابل بیورو کے ساتھ کام کرتے تھے اور ہلمند میں بی بی سی کی پشتو سروس کے نمائندے کے طور پر کام کر رہے تھے۔ روحانی کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقے مرجع میں ادا کی گئی جس کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں دفنا دیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں مقامی آبادی کے سینکڑوں افراد کے علاوہ ہلمند کے گورنر نے بھی شرکت کی۔ ادھر افغان پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تاحال عبدالصمد روحانی کے اغوا کاروں اور قاتلوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں اور روہ اس عماملے کی تفتیش کر رہے ہیں۔ اس برس افغانستان میں کام کرنے والے صحافیوں کو متعدد بار حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور کابل سے تعلق رکھنے والے جنوبی ایشیائی میڈیا کمیشن کے مطابق سنہ 2007 میں پانچ افغان صحافیوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ یہ گزشتہ چند دنوں میں بی بی سی کے لیے کام کرنے والے کسی صحافی کی ہلاکت کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل صومالیہ میں مسلح افراد نے ہفتے کو بی بی سی اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے لیے کام کرنے والے نتیش ڈاہر کو ہلاک کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں افغانستان:نیٹو کے دو فوجی ہلاک20 May, 2008 | آس پاس ہلمند میں ’پچیس طالبان ہلاک‘28 February, 2008 | آس پاس ہلمند: دو برطانوی فوجی ہلاک 01 April, 2008 | آس پاس برطانیہ افغانستان تعلقات، دو دھاری تلوار07 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||