ہلمند میں ’پچیس طالبان ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ پولیس نے جنوبی صوبے ہلمند میں پچیس طالبان ہلاک کر دیے ہیں۔ پولیس اور طالبان کے درمیان جھڑپ بدھ کو اس وقت شروع ہوئی جب مبینہ طالبان نے پوست تلف کرنے والے ایک مشن پر حملہ کیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ ایک اعلیٰ کمانڈر ملا نجیب اللہ بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل تھے لیکن طالبان نے اس کی تردید کی ہے۔ ملا نجیب اللہ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ دہ بار قید سے فرار ہو چکے ہیں۔ ایک شخص نے اپنا نام ملا نقیب اللہ بتاتے ہوئے بی بی سی کو فون کر بتایا کہ ملا نجیب اللہ زندہ ہیں اور اس لڑائی میں شامل نہیں تھے۔ اسی دوران ایک اعلیٰ امریکی اہلکار مائیکل مکونل نے کہا ہے کہ طالبان نے اقتدار سے نکالے جانے کے چھ سال بعد افغانستان کے دس فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ افغانستان اور نیٹو کی افواج کو گزشتہ سال کے دوران از سر نو منظم ہوتے طالبان کا سامنا رہا ہے | اسی بارے میں دس فیصدافغانستان پر طالبان قابض28 February, 2008 | آس پاس ’سگنل بند کرو ورنہ کھمبے۔۔۔‘25 February, 2008 | آس پاس افغان گورنر کی برطانیہ پر تنقید21 February, 2008 | آس پاس بلوچستان: منصور داداللہ ’گرفتار‘11 February, 2008 | آس پاس امریکی حملے کا جواب دینگے: طالبان25 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||