بلوچستان: منصور داداللہ ’گرفتار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر قلعہ سیف اللہ میں گوال اسماعیل زئی کے مقام پر سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی میں مبینہ طور پر ملا منصور داد اللہ سمیت چھ افراد کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا ہے۔ گوال اسماعیل زئی کا علاقہ کوئٹہ ژوب روڈ پر واقع ہے جہاں مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ رات گئے سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر اعلان کیا ہے کہ یہاں حکومت کو مطلوب کچھ افراد روپوش ہیں اور انہیں فورسز کے حوالے کر دیں۔ فوج کے تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ صبح دس بجے کے قریب کچھ لوگ افغان سرحد پرموجود تھے جنہیں فرنٹیئر کور یعنی نیم فوجی دستے کے اہلکاروں نے چیلنج کیا ہے اور اس دوران دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ملا منصور داد اللہ سمیت چھ افراد کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ قلعہ سیف اللہ کے تحصیل ناظم مولوی عارف نے بتایا ہے کہ سرکاری سطح پر انہیں کوئی اطلاع نہیں دی گئی لیکن مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ رات بھر گھیراؤ کے بعد صبح سویرے دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ملا منصور داد اللہ کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں اور دوسرا یہ کہ انہیں زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار افراد کو بعد میں ژوب سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے نامعلوم مقام کی جانب لے جایا گیا ہے۔ اسلام آباد میں وزارت داخلہ کے ترجمان برگیڈیئر جاوید اقبال چیمہ نے مقامی صحافیوں کو بتایا ہے کہ ملا منصور داد اللہ شدید زخمی ہوئے ہیں۔ ملا منصور داداللہ اور ان کے ساتھی گوال اسماعیل زئی میں حاجی لالہ کے گھر میں موجود تھے جہاں آج صبح یہ کارروائی کی گئی ہے۔ ملا منصور داد اللہ کے حوالے سے گزشتہ دنوں یہ بیان سامنے آیا تھا کہ انہیں طالبان کے قائدین کے احکامات نہ ماننے پر گزشتہ سال دسمبر میں تنظیم سے نکال دیا گیا تھا لیکن ایک ہفتے پہلے ملا منصور داداللہ نے ان بیانات کو غلط قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ان کے دشمنوں کی سازش ہے۔ ملا منصور داد اللہ سابق طالبان کمانڈر ملا داد اللہ کے بھائی ہیں۔ ملا داد اللہ کو گزشتہ سال مئی میں ہلاک کر دیا گیا تھا جس کے بعد ملا منصور داد اللہ نے مبینہ طور پر جنوبی افغانستان میں طالبان کی قیادت سنبھالی تھی۔ | اسی بارے میں چھ امریکی، تین افغان فوجی ہلاک10 November, 2007 | آس پاس پاکستان:’آج کی دنیا کاخطرناک ترین ملک‘ 27 October, 2007 | آس پاس قندھار کے ضلع پر طالبان کا قبضہ19 June, 2007 | آس پاس دو ہزارخودکش بمبار تیار ہیں: طالبان17 February, 2007 | آس پاس ایران حکومت کی مدد کرے: عراق28 November, 2006 | آس پاس افغان انتخابات اور طالبان کا ’زور‘07 October, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||