BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 October, 2007, 07:01 GMT 12:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان:’آج کی دنیا کاخطرناک ترین ملک‘

طالبان(فائل فوٹو)
شدت پسندوں کی کارروائیاں دشوار گزار پہاڑی دیہات تک محدود نہیں
امریکی جریدے نیوز ویک کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں آج کی دنیا میں پاکستان کو دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آج کا پاکستان دنیا کے لیے عراق اور افغانستان سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جاری سیاسی عدم استحکام، اسلامی انتہاپسندوں کا قابلِ اعتماد نیٹ ورک، مغرب کے خلاف جذبات سے بھرپور نوجوان طبقہ، محفوظ تربیتی مراکز، بہترین الیکٹرانک ٹیکنالوجی تک رسائی، مغرب تک آسان فضائی رسائی اور ایسی سکیورٹی ایجنسیاں جو ہمیشہ وہ کام نہیں کرتیں جو انہیں کرنے چاہیئیں، وہ عناصر ہیں جو اسے اسامہ بن لادن جیسے شخص کی کارروائیوں کے لیے موزوں ترین بناتے ہیں۔

نیوز ویک کے مطابق ان تمام عناصر کے بعد سونے پر سہاگے کے موافق پاکستان کا جوہری پروگرام ہے۔ جریدے نے امریکی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سابق سینئر ڈائریکٹر بروس ریڈل کے حوالے سے کہا ہے کہ’دنیا میں وہ جگہ جہاں سے القاعدہ جوہری بم حاصل کر سکتی ہے خود انہی کے پچھواڑے میں ہے‘۔

رپورٹ کے مطابق وہ انتہاپسند جو خود پاکستانی رہنماؤں اور خفیہ ایجنسیوں کی تخلیق ہیں آج خود اسلام آباد کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ یہی وہ اسلامی انتہاپسند ہیں جو اب تک ان جنرل مشرف پر متعدد قاتلانہ حملے کر چکے ہیں جو کسی زمانے میں ان کے حلیف ہوا کرتے تھے اور یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے گزشتہ چھ برس کے دوران ایک ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے۔

 میں جب تک محاذ پر واپس نہیں چلا جاتا پاکستان میں خود کو محفوظ اور پر سکون محسوس کرتا ہوں۔
طالبان کمانڈر عبدالماجد

رپورٹ کے مطابق پاکستان کا متزلزل جوہری پروگرام اور قبائلی علاقوں میں دہشتگردوں کی موجودگی تو پرانی بات ہوگئی ہے لیکن اس حوالے سے تازہ ترین اور خوفزدہ کر دینے والی حقیقت یہ ہے کہ طالبان اور القاعدہ عناصر نے کچھ شہروں سمیت بیشتر پاکستانی علاقے کو ایک ایسے اڈے میں تبدیل کر دیا ہے جو ’جہادیوں‘ کو پاکستان اور اس سے باہر نقل و حرکت کے لیے سہولیات فراہم کرتا ہے۔

نیوزویک کا کہنا ہے کہ سنہ 2001 کے اواخر سے القاعدہ کے رہنماؤں کو پناہ دینے والے یہ پاکستان میں پلے بڑھے جنگجو اب دشوارگزار پہاڑی دیہات تک محدود نہیں بلکہ ان کی کارروائیوں کا دائرہ اب کراچی جیسے شہروں تک پھیل گیا ہے جبکہ ایسا لگتا ہے کہ خود کش حملوں کا شکار اور اپنے ہم وطنوں کے خلاف کارروائی سے گریزاں پاکستان کی فوج ان جہادیوں کی کارروائیاں روکنے میں ناکام رہی ہے۔

امریکی جریدے سے بات کرتے ہوئے افغانستان میں برطانوی فوج کے ساتھ جھڑپ میں زخمی ہونے کے بعد کراچی میں صحت یابی کے عمل سے گزرنے والے طالبان کمانڈر عبدالماجد کا کہنا ہے کہ ’میں جب تک محاذ پر واپس نہیں چلا جاتا پاکستان میں خود کو محفوظ اور پر سکون محسوس کرتا ہوں‘۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی صورت میں طالبان شدت پسندوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کی موجودگی ہمسایہ ملک افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف برسرِ پیکار امریکی اور نیٹو افواج کی مہم کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ یہ طالبان شدت پسند آزادانہ طور پر پاکستان آتے جاتے رہتے ہیں اور ان کے زخمیوں اور بیماروں کا علاج پاکستان کے نجی ہسپتالوں میں ہی ہوتا ہے۔

ایک طالبان کمانڈر ملا مومن احمد نے نیوز ویک کو بتایا کہ’پاکستان ہمارے لیے اس کندھے کی مانند ہے جس پر ہم گرینیڈ پھینکنے کے لیے اپنا راکٹ لانچر رکھتے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’پاکستان کے بناء ہم لڑ نہیں سکتے اور خدا کا شکر ہے کہ پاکستان ہمارے خلاف نہیں‘۔

امریکی جریدے کے مطابق پاکستان میں طالبان کی آزادنہ سرگرمیاں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں اور اگر اس کا تقابل سنہ 2002 سے کیا جائے تو واضح فرق نظر آتا ہے۔

 جنرل مشرف سرحد کے دونوں جانب موجود شدت پسندی کے خطرے کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کے لیے پاکستانی عوام کو ساتھ لے کر چلنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کی پالیسیوں نے پاکستانی عوام کویہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف لڑائی جنرل مشرف اور امریکہ کا دردِ سر ہے نا کہ ان کا۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود

رپورٹ کے مطابق سنہ 2002 میں جب مشرف حکومت نے شدت پسندوں کے خلاف پہلا کریک ڈاؤن کیا تھا تو پاکستان میں موجود طالبان کمانڈروں کو گرفتاری کے خوف سے ہر دوسرے دن اپنی پناہ گاہ بدلنی پڑتی تھی لیکن آج وہی طالبان کمانڈر جب افغانستان میں بر سرِ پیکار نہیں ہوتے تو پاکستان میں اپنے گھروں میں رہائش پذیر ہوتے ہیں۔

نیوز ویک کے مطابق پاکستان میں موجود طالبان شدت پسندوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے میزبانوں کو خفا نہیں کرنا چاہتے اور ان کے مطابق پاکستان میں فوجیوں کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان کے قبائلی ملوث ہیں جنہیں کبھی کبھار القاعدہ عناصر کی مدد حاصل ہوتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے انٹرنیشنل کرائسز گروپ کی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا ثمینہ احمد کا کہنا ہے کہ’اگر پاکستان کے سرحدی علاقوں کےباشندے طالبان کی حمایت ترک کر دیں تو امریکہ، نیٹو اور افغان حکومت کے لیے ان سے افغانستان میں نمٹنا آسان ہو جائےگا‘۔

پاکستان میں موجود شدت پسند اب قبائلی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ وادی سوات جیسی جگہیں بھی ان کے اثر سے محفوظ نہیں جہاں ملا فضل اللہ جیسے ’جہادی‘ اپنے سینکڑوں حامیوں سمیت پاکستانی فوج کی ناک تلے کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

طالبان(فائل فوٹو)
پاکستان طالبان شدت پسندوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ ثابت ہوا ہے

نیوز ویک کے مطابق جنرل مشرف کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کی فوج پاکستان میں جہادیوں کے پھیلاؤ کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ پاکستانی صدر نے یہ ثابت بھی کیا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو بروقت کارروائی کر سکتے ہیں۔گزشتہ فروری میں جب امریکی نائب صدر ڈک چینی مبینہ طور شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ ڈالنے پاکستان آئے تھے تو پاکستان کی ملٹری انٹیلیجنس نے اچانک کوئٹہ سے طالبان کے وزیرِ دفاع اور مّلا عمر کے نائبین میں سے ایک ملا عبیداللہ اخوند کو گرفتار کر لیا تھا۔ اس سے قبل پاکستانی حکام کی اطلاع پر ہی افغان علاقے میں امریکی فضائی کارروائی میں طالبان رہنما ملا اختر عثمانی مارے گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں طالبان کی مدد ان کے وہ حمایتی بھی کرتے ہیں جو پہلے تو ان کے شانہ بشانہ جنگ میں شریک تھے لیکن بعد ازاں پاکستانی شہریت اختیار کر کے پاکستان میں رہائش پذیر ہوگئے۔ تاہم ان افراد کا بھی ماننا ہے کہ ان کی کوئی بھی حرکت پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے پنہاں نہیں۔ پاکستان میں رہائش پذیر سابق طالب کمانڈر ملا شبیر احمد کا کہنا ہے کہ’ پاکستانی یہاں تک جانتے ہیں کہ ہم دوپہر اور رات کے کھانے میں کیا کھانے والے ہیں‘۔

پاکستان کے سابق لیفٹیننٹ جنرل اور عسکری تجزیہ کار طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف’ سرحد کے دونوں جانب موجود شدت پسندی کے خطرے کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کے لیے پاکستانی عوام کو ساتھ لے کر چلنے میں ناکام رہے ہیں‘۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنرل مشرف کی پالیسیوں نے پاکستانی عوام کویہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف لڑائی جنرل مشرف اور امریکہ کا دردِ سر ہے نا کہ ان کا۔

اتحادی فوج اور نیٹو دستےاتحادیوں کا جواز
’طافغان شہری ہلاکتوں کے ذمہ دار طالبان ہیں‘
سردی اور طالبان
کیا نیٹو کی حکمت عملی واقعی نئی ہے؟
طالبانطالبان کے ساتھ سفر
بی بی سی کے نامہ نگار کی خصوصی رپورٹ
کابل دس سال بعد
طالبان نے دس سال قبل کابل پر قبضہ کیا تھا
پوست کی کاشت پوست کی کاشت
طالبان پر پیسوں کیلیے پوست کی کاشت کا الزام
نیٹو فوج کی مشکل
افغانستان میں طالبان کا بڑھتا ہوا اثر
طالبان کا ہیڈکوارٹر
طالبان کا ہیڈکوارٹر کوئٹہ: برطانوی آفیسر
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد