مشترکہ فوج کی تجویز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے وزیرِ دفاع عبدالرحیم وردک نے کہا ہے افغانستان اور پاکستان کےسرحدی علاقوں میں کارروائیاں کرنے کے لیے ایک مشترکہ فوج بنانے پر پاکستانی حکام سے مذاکرات ہوئے ہیں۔ واشنگٹن میں اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ایسی مشترکہ فوج کی تشکیل کرنے پر غور کر رہی ہے جس میں افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے ارکان بھی شامل ہوں گے۔ انہوں نےکہا کہ پاکستان، افغانستان اور افغانستان میں تعینات نیٹو اور امریکی فوج کو مشترکہ دشمن کا سامنا ہے اور اس کے لیے مشترکہ فوج تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ امریکی اور افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کی کارروائیاں اس لیے زور پکڑ رہی ہیں کہ ان تنظیموں کے ارکان کی سرحد کے آر پار نقل و حمل میں کوئی روکاوٹ نہیں ہے۔ حال ہی میں امریکہ کی جائنٹ سٹاف کمیٹی کے چیف ایڈمرل مولن نے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں حکمت عمل تبدیل کرنے کی بات کی تھی۔ | اسی بارے میں سوات، گیس پلانٹ تباہ23 September, 2008 | پاکستان ’دہشتگردی، حکومتی پالیسی مبہم‘23 September, 2008 | پاکستان امریکی فوجیوں کو روکیں گے: صدر23 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||