’دہشتگردی، حکومتی پالیسی مبہم‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر سابق وزراءِ داخلہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہا پسندی پر قابو پانے کے لئے حکومت کی موجودہ پالیسی غیر واضح ہے۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا آغاز سات برس قبل کیا گیا جس میں پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دینے کا عزم کرتے ہوئے قبائلی علاقوں میں موجود انتہا پسندوں کا قلع قمع کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ پچھلے سات سال کے دوران پاکستان میں شدت پسندی کے خلاف کارروائیاں کی جاتی رہیں اور ملک میں اس کا ردعمل بم دھماکوں کی صورت میں سامنے آتا رہا اور ان واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے علاوہ معصوم شہریوں کو بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ گزشتہ حکومت کی طرح موجودہ حکومت نے بھی شدت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کاعزم کررکھا ہے اور مشیرِداخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں موجود شدت پسندوں کو چن چن کر نشانہ بنائے گی۔ سابق وزیرِ داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسی پچھلی حکومت کی پالیسی کا تسلسل ہے اور اس میں کوئی خاص فرق دیکھنے میں نہیں آتا تاہم کچھ ابہام ضرور ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے بعض اتحادی کہتے ہیں کہ وہ اس معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں جبکہ مشیرِداخلہ کا کہنا ہے کہ بھرپور آپریشن کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جیٹ طیارے جس طرح سے استعمال ہورہے ہیں اس سے بڑے پیمانے پر نقصان ہورہا ہے جو زیادہ خطرناک ہے مثلاً باجوڑ سے تقریباً چار لاکھ لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں، سوات میں آپریشن کا یہ چھٹا مہینہ ہے اور شدت پسندی کم ہونے کے بجائے مزید پھیلتی جارہی ہے۔ جس وقت امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کرتے ہوئے افغانستان پر حملہ کیا اور پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیتے ہوئے شدت پسندی کے خلاف اپنی پالیسی ترتیب دی اس وقت لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ معین الدین حیدر وزیرِ داخلہ تھے۔ وہ پچھلے اور موجودہ دور کا جائزہ لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں ایکشن تو ہوتے رہتے تھے اور امریکی میزائل اور گولے بھی پاکستان کی حدود میں گرتے رہتے تھے لیکن غیر ملکی زمینی فوج اس جمہوری دور میں پہلی مرتبہ ملکی حدود میں داخل ہوئی ہے جس میں امریکی کمانڈو ایکشن کے دوران معصوم جانیں ضائع ہوئیں جن میں عورتیں اور بچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اہلکاروں کے اقدامات میں جس قدر شدت اب آئی ہے وہ پچھلے دور میں نہیں تھی۔ ان کے بقول پہلے شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات بھی کیے گئے، جرگے بھی کیے گئے لیکن کچھ عرصے بعد کیے گئے وہ فیصلے ناکام ہوجاتے تھے اور پھر وہی کام شروع ہوجاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے ان تمام حقائق کو دیکھتے ہوئے غالبا صدر آصف علی زرداری کی سوچ یہ ہی لگتی ہے کہ پاکستان میں شدت پسندی کے باعث جو حالات پیدا ہوئے ہیں تو اب انتہا پسندی کو طاقت سے ہی نمٹا جانا چاہیے۔ سابق وزیرِ داخلہ فیصل صالح حیات کا کہنا ہے کہ چھ ماہ گزرجانے کے باوجود حکومت کی پالیسی اب تک غیر واضح ہے۔ فیصل صالح حیات نے کہا کہ ’اس حکومت کو برسرِ اقتدار آئے چھ ماہ ہوچکے ہیں لیکن اب تک یہ سمجھ نہیں آرہا کہ ان کی پالیسی ہے کیا، اس حکومت کی پالیسی کی کوئی سمت ہی نہیں ہے، چھ ماہ کے دوران باجوڑ، باڑہ، سوات اور جنوبی وزیرستان میں جو بھی اقدامات کیے گئے ہیں وہ سطحی نوعیت کے تھے‘ ان کے بقول ان اقدامات کی ذمہ داری نہ حکومت خود اپنے سر لینے کو تیار ہے اور نہ ہی فوج یا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ڈالنے کے لئے تیار ہے تو یہ ہی وجہ ہے کہ سیکیورٹی کے حوالے سے قوم اس ابتر صورتحال کا سامنا کررہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||