وی آئی پی اور میڈیا کے باعث ڈاکٹر مشکل میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں روایت ہے کہ کسی بھی بڑے حادثے کے بعد زخمی اور ان کے لواحقین تو قریبی ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں ہیں لیکن ساتھ میں صحافی اور وی وی آئی پی ان طبی مراکز کا رخ کرتے ہیں جس سے طبی عملے کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں میریئٹ ہوٹل پر خودکش حملے کے بعد بھی یہی دیکھا گیا۔ وزیر اعظم کے علاوہ وفاقی وزراء بھی ایک ایک کرکے پولی کلینک اور پمز ہسپتالوں میں زخمیوں کی عیادت کے لیئے پہنچ رہے ہیں جس سے عام لوگوں کے علاوہ طبی عملے کو شدید دشواریاں پیش آتی رہی ہیں۔ پولی کلینک ہسپتال میں ڈاکٹروں کو چیخ چیخ کر درجنوں کی تعداد میں موجود صحافیوں کو کافی کرخت لہجے میں کہنا پڑا کہ اندر نہ آئیں اور انہیں انسانی جانیں بچانے دیں۔ لیکن صحافیوں نے سنی ان سنی کر دی۔ ہر کیمرہ مین اور رپورٹر ہر زخمی اور مرنے والے کی تصاویر اور انٹرویو جیسے تیسے کرنا چاہتے ہیں۔ ساتھ میں زحمیوں کی عیادت کے لیئے آنے والے وفاقی وزراء نے ڈاکٹروں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائینسز کے پروفیسر آف سرجری ندیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتہ کی شام اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد ان کے کام میں سب سے بڑی رکاوٹ وی آئی پی شخصیات اور میڈیا نے ڈالی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو میڈیا کے سوالات کی بوچھاڑ ہوتی ہے دوسری طرف وی آئی پی شخصیات کے آتے ہی ایک ہجوم بن جاتا ہے۔ ’میڈیا کے آتے ہی ہرغیر متعلقہ شخص کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کیمرہ میں دکھائی دے‘۔ پروفیسر ندیم نے وی آئی پی شخصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اکثر اوقات تو ہسپتالوں میں ان وزارتوں سے بھی لوگ آنے لگتے ہیں جن کا اس وقت کوئی کام نہیں ہوتا اور ان کے آتے ہی ہسپتال میں سکیورٹی سخت کر دی جاتی ہے۔ ’مزید یہ کہ شخصیات کے ساتھ کم از کم بیس سے تیس افراد اور بھی ہوتے ہیں‘۔ انہوں نے اسلام آباد کے میریئٹ ہوٹل میں ہونے والے دھماکہ میں ایک شدید زخمی شخص کے بارے میں بتایا کے وہ آپریشن تھیٹر میں تڑپ رہا تھا اور متعلقہ ڈاکٹر کو سکیورٹی اہلکاروں نے یہ کہہ کر روک رکھا تھا کہ اندر وی آئی پی شخصیت موجود ہے لہذا اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ وفاقی وزراء کی ہسپتالوں میں آمد کا سلسلہ پیر کو بھی جاری رہا۔ وزیر قانون وانصاف فاروق ایچ نائیک نے حملے میں زخمی ہونے والوں کی پمز ہسپتال میں عیادت کی۔ وفاقی وزیر نے زخمیوں سے بات چیت کرتے ہوئے دہشت گردی کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر ہسپتال کے عملے کو زخمیوں کے بہترین علاج معالجے اور دیگر سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی۔ لیکن اسلام آباد کے پولی کلینک ہسپتال کے جوائینٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر شوکت حمید کیانی کا کا کہنا ہے کہ میڈیا ایک سہولت ہے کیونکہ میڈیا کی وجہ سے عام افراد تک اہم باتیں بہت جلد پہنچ جاتی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ میڈیا کی وجہ سے زخمیوں کو ایک وارڈ سے دوسرے میں منتقل کرنے میں دشواری ہوتی ہے اور اکثر اوقات زخمیوں کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ ان کی ویڈیو یا تصاویر نہیں بنائی جا سکتی۔ ’لیکن میڈیا والے اس بات کو سمجھتے ہی نہیں۔ صحافیوں کو چونکہ جلد از جلد خبریں چاہیے ہوتی ہیں تو وہ موقع نہیں دیکھتے۔ بس کہیں بھی روک کر سوال شروع کر دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ڈاکٹروں اور دیگر ہسپتال عملہ کے کام میں روکاوٹیں پیدا ہوجاتیں ہیں‘ ڈاکٹر شوکت نے وی آئی پی شخصیات کے متعلق محتاط انداز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی شخصیات تو اس وقت آتیں ہیں جب ڈاکٹرز اپنا کام ختم کر لیتے ہیں لہذا ان کے آنے سے کوئی خاص مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ |
اسی بارے میں ’بارود فوجی نوعیت کا استعمال ہوا‘21 September, 2008 | پاکستان ’عام جنگ نہیں گوریلا وار ہے‘21 September, 2008 | پاکستان میریئٹ: آگ پر قابو، ہلاکتیں اکتالیس، سکیورٹی سخت21 September, 2008 | پاکستان میریئٹ: آگ پر قابو، ہلاکتیں چون، سکیورٹی سخت21 September, 2008 | پاکستان حملہ القاعدہ کے خطرے کا مظہر:بش20 September, 2008 | پاکستان ’قوم درد کو طاقت میں بدل دے‘20 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||