بیورو رپورٹ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
| | دھماکے کے بعد میریٹ میں لگنے والی آگ سے عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی |
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع میریئٹ ہوٹل کے باہر ہونے والے زوردار بم دھماکے میں چالیس کے قریب افراد ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکے سے میریئٹ ہوٹل بری طرح تباہ ہوگیا اور اس کے عقب میں واقع پاکستان ٹیلی وژن اور دوسری عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ذیل میں دھماکے کے عینی شاہدین اور جائے وقوعہ کے قرب و جوار میں موجود افراد کی رائے دی جا رہی ہے
یہ ایک بہت زور دار دھماکہ تھا جس کے بعد آگ نے ہوٹل کی عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہوٹل کے ایک طرف میرا ’رینٹ اے کار‘ کا دفتر تھا جس کے کئی ملازم بھی دھماکے کی وجہ سے زخمی ہو گئے۔ میں نے تین زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا۔
| فیض الرحمان،بلوچستان ہاؤس |
میں نے دیکھا کہ میریئٹ کے سامنے ایک ٹرک کو آگ لگی ہوئی ہے۔ میں واپس مڑا کہ کچھ ہونے والا ہے اور ابھی تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ ایک زوردار دھماکہ ہوا اور بڑے بڑے پتھر گرے اور ایک پتھر مجھے بھی لگا۔
| ایوب منہاس ، پی ٹی وی ملازم |
ابھی افطاری کے بعد کام کرنا ہی شروع کیا تھا کہ اچانک دھماکہ ہو گیا۔ ہمیں لگا کہ یہ دھماکہ پی ٹی وی کے کمپاؤنڈ میں ہوا ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے ہم سب سکتے میں آ گئے۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ یہ میریئٹ ہوٹل میں ہوا ہے اور دھماکے کی شدت سے آس پاس کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔ جب ہم میریئٹ ہوٹل کے گیٹ پر پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ وہاں بیس فٹ گہرا اور پچاس فٹ چوڑا گڑھا بنا ہوا تھا۔
میں عشائیے کے لیے ہوٹل کی جانب جا رہا تھا۔ میں وہاں پہنچنے والا ہی تھا کہ دھماکہ ہوگیا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ آگ سے آسمان روشن ہوگیا۔ ایک درخت ٹوٹ کر میری گاڑی پر آ گرا۔ جب میں نے اپنی کار کا دروازہ کھولا تو ایک انسانی ہاتھ میری گاڑی کے پاس پڑا تھا۔
میں میریٹ سے ملحقہ عمارت میں کام کرتا ہوں۔ دھماکے کے وقت میں دفتر میں تھا۔ دھماکے کی شدت سے میں اپنی کرسی سے گرگیا۔ عمارت کی تمام کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور پہلے تو ایسا لگا کہ فضائی حملہ ہوا ہے۔ باہر نکلا تو میریٹ کی عمارت کو شعلوں میں گھرا دیکھا اور پھر مجھے ایک کار میں ہسپتال پہنچا دیا گیا۔
میں میریٹ کے قریب ہی رہتی ہوں۔ دھماکے کے وقت میں نے روزہ افطار ہی کیا تھا۔ اچانک فرش اور دیواریں ہلنے لگیں جیسے کہ زلزلہ آ گیا ہو۔ یہ کچھ 2005 کے زلزلے جیسی کیفیت تھی اور پھر دھماکے کی زوردار آواز آئی۔ | |  |