BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 July, 2008, 19:48 GMT 00:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کان بند ہوگئے، زمین ہلتی ہوئی ۔۔۔

دھماکہ کا شکار پولیس اہلکار
بال بنوا کر سیلون سے باہر نکلا تو اچانک ایک بڑا زوردار دھماکہ ہوا۔ کان بند ہوگئے، زمین ہلتی محسوس ہوئی اور عمارتوں کے شیشے ٹوٹتے دکھائی دیے۔

سڑک پر آیا تو آبپارہ تھانے کے سامنے پولی کلینک کے ساتھ واقع پارک میں تاش کھلینے والے پولیس اہلکار حواس باختہ نظر آئے۔ وزرات مذہبی امور اور جنرل پوسٹ آفس یعنی جی پی او کے درمیان والی گلی سے سڑک پر آ کر بائیں جانب دیکھا تو دھوئیں کے بادل نظر آئے، فٹ پاتھ پر پولیس اہلکار چیختے پکارتے رہے۔

دھماکے کی جگہ سے میں ایک سو گز سے بھی کم فاصلے پر تھا اور تھانہ آبپارہ سے پولیس اہلکار زخمیوں کی مدد کے لیے پہنچے۔ فٹ پاتھ پر سات لاشیں نظر آئیں، ایک لاش سڑک پر پڑی تھی اس کے ٹانگ اور بازو اڑے ہوئے تھے، دھڑ بری طرح کچلا ہوا تھا اور اس کی آنتیں باہر نکل آئیں تھیں، وردی جل چکی تھی صرف کندھوں پر پنجاب پولیس کی وردی والی کالی قمیض کے ٹکڑے نظر آئے۔

ساتھ ہی فٹ پاتھ پر درخت تلے پنجاب پولیس کی وردی میں ملبوس ایک اہلکار اپنی رائفل کو کندھے کے سہارے رکھ کر بیٹھا تھا۔ اس کی ٹانگ میں زخم آیا تھا، جب دو پولیس اہلکاروں نے اسے سہارا دینے کی کوشش کی تو اس نے کہا کہ ’مجھے چھوڑو دوسروں کو دیکھو۔‘

اس سے پوچھا کہ ہوا کیا ہے تو اس نے سڑک کنارے کھڑی موٹر سائیکل کی طرف اشارہ کیا، میں نے دیکھا تو اس پر دودھ کے بڑے ڈبے لدے ہوئے تھے اور پولیس اہلکار نے کہا کہ اس پر سوار ایک نوجوان اترا اور یہاں کھڑے پولیس اہلکاروں کے قریب پہنچا تو دھماکہ ہوگیا، پھر سمجھ نہیں لگی کیا ہوا۔

ان سے چند قدموں کے فاصلے پر ایک اور پنجاب پولیس کا نوجوان اہلکار دہاڑیں مار کر روتا سنائی دیا اور فٹ پاتھ پر پڑی لاشوں میں سے ایک طرف اشارہ کیا کہ میرا بھائی مرگیا۔

اس دوران اچانک دو پولیس موبائل سائرن بجاتے پہنچیں اور اس کے دو تین منٹ بعد دھماکے سے ڈیڑھ سے دو سو گز کے فاصلے پر واقع جی سکس ٹو سیکٹر کی گلی نمبر اکتیس میں واقع سی ڈی اے ہسپتال کی ایمبولینسز بھی پہنچ گئیں۔

فٹ پاتھ پر سات لاشیں میں نے گنیں جن میں چار نے اسلام آباد پولیس کی وردی اور تین نے پنجاب پولیس کی وردی پہنی ہوئی تھی۔ جبکہ سڑک پر برہنہ حالت میں مسخ شدہ لاش اس سے علیحدہ تھی۔

جی سکس ٹو سیکٹر کی گلی نمبر اکتیس کے دہانے پر اس دھماکے کے فوری بعد گھروں سے بچے، خواتیں اور مرد ننگے پاؤں چیختے چلاتے ہوئے اپنے گھر چھوڑ کر بھاگتے دکھائی دیے۔

جس جگہ پولیس اہلکاروں کی لاشیں بکھری پڑی تھیں اس کے عقب میں کھوکھا ہوٹل بھی ہے جہاں سے بھی بعد میں رضا کار پولیس اہلکار اور سادہ کپڑوں میں ملبوس زخمیوں کو اٹھا کر لاتے رہے۔ ہوٹل سے ایک چار پائی اٹھاکر سڑک پر لائی گئی جس پر سفید کپڑوں میں ملبوس ایک کافی صحتمند شخص کو لیٹایا گیا اور بعد میں انہیں ایمبولینس کے سٹریچر پر ڈال کر ہسپتال لے جایا گیا۔

ایک پولیس افسر ممتاز ملک نے کہا کہ یہ خود کش حملہ ہے ہمارے دس ساتھی مارے گئے اور جس جگہ پولیس اہلکاروں کا نشانہ بنایا گیا وہاں لال مسجد کی پہلی برسی کی وجہ سے پولیس اہلکاروں کو خصوصی طور پر تعینات کیا گیا تھا۔

دیکھتے ہی دیکھتے پولیس نے جائے حادثہ کو گھیر لیا اور وہاں موجود صحافیوں اور دیگر افراد کو پیچھے جانے کے لیے پولیس اہلکاروں نے دھکیلنا شروع کیا۔ اس دوران سڑک پر جگہ جگہ خون کے دھبے اور گوشت کے لوتھڑے نظر آئے۔ آبپارہ تھانہ کے دروازے بند کردیے گئے لیکن سڑک پر ہر طرف مسلح پولیس اہلکار تعینات نظر آئے۔

اس دوران لال مسجد میں ہونے والی کانفرنس کے شرکاء جن میں بیشتر نوجوان تھے، وہ ٹولیوں کی صورت میں آُس پاس سے گزرتے رہے۔ ان میں چار کے قریب سیاہ رنگ والے برقعوں میں ملبوس خواتین کی ٹولیاں بھی گزریں۔ لال مسجد کے ان شرکاء میں سے بعض مسکراتے ہوئے بھی نظر آئے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس طاقت کے زور پر اسلامی قوانین نافذ کرنے کے خواہاں لال مسجد کے نائب امام عبدالرشید غازی اور مسجد سے ملحقہ خواتین کے مدرسے جامعہ حفصہ کی طالبات اور ان کے ہم خیال طلباء کے خلاف جب آپریشن کیا گیا تھا تو اس میں ستر سے زائد مبینہ شدت پسند مارے گئے تھے۔

آج جب لال مسجد واقعہ کی پہلی برسی کے موقع پر زمین بوس مدرسہ جامعہ حفصہ کی جگہ پر متاثرہ افراد کے رشتہ داروں اور ہم خیال سخت گیر اسلامی سوچ کے حامل افراد نےکانفرنس منعقد کی تو حکومت نےانہیں نہیں روکا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد