اسلام آباد: کرنل کی بیوی، بچے قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کے علاقے سیکٹر ای نائن میں واقع فوجی علاقے نیشنل ڈیفنس کالونی میں اتوار کے روزایک فوجی افسر کی بیوی اور دو بچوں کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد انہیں آگ لگا دی گئی۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں جائے حادثہ سے ایک خنجر بھی ملا ہے جبکہ لاشوں پر زحموں کے نشانات بھی پائے گئے ہیں ۔ ان لاشوں کا پوسٹمارٹم کرنے والے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈاکٹر فرخ کا کہنا ہے کہ ان افراد کے گلے تیز دھار آلے سے کاٹے گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حقائق جاننے کے لیے ان افراد کے پوسٹ مارٹم کروائے جا رہے ہیں جن کے بعد صحیح صورتحال سامنے آئے گی۔ اس علاقے میں پاکستانی مسلح افواج کے اعلی افسران رہائش پذیر ہیں اور یہ سکیورٹی کے نقطہ نگاہ سے ایک اہم علاقہ ہے نیشنل ڈیفنس کالج بھی اسی علاقے میں واقع ہے۔ مقامی پولیس کے مطابق پاکستانی فوج کے افسر کرنل سلیم چیمہ کے اہلخانہ نیشنل ڈیفنس کالونی کے فلیٹ نمبر چودہ ایف میں رہائش پذیر تھے کہ اتوار کی صبح اُن کے ہمسائیوں نے دیکھا کہ کرنل سلیم چیمہ کے فلیٹ سے دھواں اٹھ رہا تھا جس کی اطلاع انہوں نے فوری طور پر فائر بریگیڈ کو اطلاع دی جس کے علمے نے جائے حادثہ پر پہنچ کر آگ بجھائی۔ اس دوران مقامی پولیس جب وہاں پہنچی تو کرنل سلیم کی بیوی فوزیہ اُن کے دو بیٹے آشر اور حمزہ بری طرح جھلس چکے تھے جب انہیں ہسپتال لے جایا گیا تو ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُن کی موت دو گھنٹے پہلے ہوچکی ہے۔ مقامی تھانے کی پولیس کے انچارج ملک نعیم اقبال کے مطابق پولیس کو جائے حادثہ سے ایک خنجر بھی ملا ہے اور لاشوں پر زخموں کے نشانات بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں سے ملنے والے شواہد سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نامعلوم ملزمان نے ان افراد کو قتل کرنے کے بعد آگ لگا دی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ کرنل سلیم چیمہ کسی ملٹری کورس کے سلسلے میں بیرون ملک گئے ہوئے ہیں جنہیں اس واقعہ کی اطلاع دے دی گئی ہے۔ پولیس نے کرنل سلیم کے گھریلو ملازم محمد شاہد کو حراست میں لے لیا ہے جو اُس وقت سرونٹ کوراٹر میں موجود تھا اور پولیس اُن سے اس واقعہ کے بارے میں پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ پولیس نے کمرے میں موجود دیگر اشیاء کو بھی قبضے میں لیکر انہیں ٹیسٹ کروانے کے لیے لیباٹری بھجوا دیا ہےتاکہ ان اشیاء پر ملزموں کی انگلیوں کے نشانات کا پتہ چلایا جا سکے۔ اس واقعہ کے بعد ملٹری پولیس نے جائے حادثہ کو گھیرے میں لے لیا اور انہوں نے میڈیا کے نمائندوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی۔ | اسی بارے میں پنجاب: پانچ عورتیں قتل کر دی گئیں02 August, 2006 | پاکستان شیخوپورہ: ایک خاندان کے 7 قتل08 May, 2006 | پاکستان شیخوپورہ: ایک ساتھ 8 افراد قتل04 September, 2006 | پاکستان اے اے جی پنجاب سمیت8 قتل12 January, 2007 | پاکستان ظل ہما قتل، ملزم کو سزائے موت20 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||