BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 March, 2007, 09:17 GMT 14:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ظل ہما قتل، ملزم کو سزائے موت

غلام سرور
غلام سرور نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ اس نے ظل ہما کو قتل کرکے جہاد کیا ہے
گوجرانوالہ میں پنجاب کی صوبائی وزیر ظلِ ہما کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے الزام میں ایک شخص غلام سرور کو انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے دو مرتبہ سزائے موت کی سزا سنائی ہے۔

گزشتہ ماہ بیس فروری کو ظل ہما کو اس وقت گولی مار دی گئی تھی جب وہ گوجرانوالہ میں مسلم لیگ ہاؤس میں کارکنوں سے ملاقات کر رہی تھیں۔ موقع پر موجود لوگوں نے اسی وقت غلام سرور کو گولی مارنے کے الزام میں پکڑ کر پولیس کے حوالہ کر دیا تھا۔

منگل کوگوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج عارف افتخار احمد نے ملزم پر قتل کا جرم ثابت ہونے اور انسداد دہشت گردی کی دفعہ سات کے تحت دو بار سزائے موت سنانے کا حکم دیا۔

جج نے غلام سرور کو دو سال قید، ایک لاکھ روپے جرمانہ اور ظل ہما کے ورثاء کو ایک لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔

پینتالیس سالہ مجرم غلام سرور کے خلاف استغاثہ نے سولہ گواہ پیش کیے تھے جن میں آٹھ پولیس اہلکار، تین ڈاکٹر، ایک نقشہ نویس اور چار عام شہری تھے۔

غلام سرور نے ابتدائی طور پر جج کے سامنے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے ظل ہما کو قتل کرکے جہاد کیا ہے لیکن بعد میں وہ اپنے اعترافی بیان سے منحرف ہوگیا تھا۔

غلام سرور کی طرف سے صفائی کے لیے پیش ہونے والے حکومت کے مقرر کردہ وکیل طارق محمود نے جج سے کہا تھا کہ پولیس کے دباؤ کی وجہ سے صفائی کے گواہ پیش نہیں ہوئے اور غلام سرور کے ورثا بھی عدالت میں نہیں آسکے۔

غلام سرور نے سزا سننے کے بعد جیل جاتے ہوئے صحافیوں کی طرف دیکھ کر انگلیوں سے وکٹری کا نشان بنایا۔

چند سال پہلے بھی غلام سرور پر چار عورتوں کے قتل کا الزام لگایا گیا تھا لیکن اسے مدعیوں کے دستبردار ہوجانے کی وجہ سے سزا نہیں ہوسکی تھی اور اسے ہیرو کے طور پر استقبال کرکے جیل سے گھر لایا گیا تھا۔

غلام سرور نو بچوں کا باپ ہے اور گوجرانوالہ میں ایک دکان چلاتا تھا۔

صوبائی وزیر ظل ہما کے قتل کا فیصلہ عدالت نے اٹھائیس دنوں میں سنایا ہے جو ملک کی تاریخ میں تیز ترین سماعت کیے جانے والا مقدمہ کہا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں
ظل ہما قتل کیس، تفتیشی ٹیم
24 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد