BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 March, 2007, 19:38 GMT 00:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ظلِ ہما کا مقدمہ عدالت میں

ملزم غلام سرور
ملزم غلام سرور اس سے پہلے بھی چار عورتوں کے قتل اور دو پر اقدام قتل کے الزام میں گرفتار ہوا تھا
پنجاب کی وزیر ظل ہما کے قتل کے مقدمے کا چالان واقعہ کے نو روز بعد گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔

جمعرات کو ہتھکڑی لگے ملزم غلام سرور کو پولیس کے کڑے پہرے میں سنٹرل جیل سے خصوصی عدالت میں لایاگیا، جہاں جج کے استفسار پر ملزم نے بتایا کہ اس نے اپنا کوئی وکیل مقرر کیا ہے اور نہ وہ ایسا کرنا چاہتا ہے۔

تاہم عدالت کے اصرار پر ملزم نے سرکاری خرچے پر وکیل قبول کرنے کی حامی بھر لی۔

صوبائی وزیر ظل ہما کو بیس فروری کی صبح گوجرانوالہ میں سر میں گولی مار کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ملزم غلام سرور کو موقع سے گرفتار کیا گیا اور بعد میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ ملزم نے اعتراف جرم کر لیا ہے کہ وہ عورت کی حکمرانی کے خلاف ہے اور اسی لیے اس نے قتل کیا ہے۔

عدالت میں پیش کیے گئے چالان میں اٹھارہ گواہوں کے بیانات بھی شامل ہیں۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج طارق افتخار احمد نے پولیس فائل کے گواہوں کے بیانات کی نقول ملزم کو فراہم کرنے کی ہدایت کی اور ملزم کو بتایا کہ کل تک اس کا وکیل مقرر ہوجائے گا۔

حکومت کا عہد
 حکومت اس مقدمہ کی اعلیٰ عدالتوں میں بھی پیروی کرے گی
صوبائی وزیر قانون

ملزم غلام سرور اس سے پہلے بھی چار عورتوں کے قتل اور دو پر اقدام قتل کے الزام میں گرفتار ہوا تھا اور اس نے پولیس کے روبرو اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے ایسی عورتوں کو قتل کیا جو معاشرے میں برائی کی جڑ ہیں۔

پولیس نے ان عورتوں کو اپنی تفتیش میں ’کال گرلز ‘ قرار دیا تھا۔ تاہم غلام سرور کو بعد میں ان تمام عورتوں کے قتل کے الزام سے بری کر دیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق قتل اور زخمی ہونے والی تمام چھ عورتوں کے ورثاء اور گواہ اپنے بیانات سے منحرف ہوگئے تھے۔گوجرانوالہ پولیس اب اس بات کی تحقیقات بھی کر رہی ہے کہ پولیس نے ایسی واقعاتی شہادتیں کیوں اکٹھی نہیں کی تھیں جو اس مقدمہ میں ملزم کو سزا دلوانے کے لیے کافی ہوتیں۔

اب جمعرات کو صوبائی وزیر کے قتل کا جوچالان عدالت میں پیش کیا گیا ہے اس میں پوسٹ مارٹم کے متعلق رپورٹیں، خون آلود مٹی، ان کے جسم سے نکلنے والی گولی اور پستول کی لیبارٹری رپورٹ بھی شامل ہے۔

جن اٹھارہ گواہوں کے بیانات شامل کیے گئے ہیں ان میں سے گیارہ سرکاری ملازم اور پولیس اہلکار ہیں۔

گواہوں میں سرکاری ملازم
 جن اٹھارہ گواہوں کے بیانات شامل کیے گئے ہیں ان میں سے گیارہ سرکاری ملازم اور پولیس اہلکار ہیں

جمعرات کو پنجاب اسمبلی کی کارروائی کے دوران صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے ایوان کو بتایا کہ اس مقدمہ کی روزانہ سماعت ہوگی اور حکومت جلد سے جلد فیصلہ کروانے کی کوشش کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس مقدمہ کی اعلیٰ عدالتوں میں بھی پیروی
کرے گی اور کوشش کرے گی کہ ملزم کو قانون کے مطابق سزا مل سکے۔

گوجرنوالہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم کو ایک روزہ ریمانڈ پر واپس جیل بھجوا دیا ہے اور جمعہ کو اسے دوبارہ عدالت پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسی بارے میں
ظل ہما قتل کیس، تفتیشی ٹیم
24 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد