BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 September, 2008, 09:44 GMT 14:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان، حالات خراب ہی ہوئے ہیں

طالبان
القاعدہ اور طالبان اگرچہ زیر عتاب رہے ہیں لیکن اب تک اپنے رہنماؤں کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہے ہیں

پاکستان میں اخبارات اٹھا کر دیکھیں تو روزانہ قبائلی علاقوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا ذکر پڑھنے کو ملتا ہے۔ کہیں دس تو کہیں بیس ہلاک جبکہ زخمیوں کی تو کوئی گنتی ہی نہیں ہے۔ قبائلی علاقوں میں جنگ جاری ہے بلکہ پھیلتی جا رہی ہے۔

سات برس قبل امریکہ میں ٹوئِن ٹاورز پر گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے پاکستان کے قبائلی علاقے تو شدت پسندی سے متاثر تھے ہی حالیہ برسوں میں صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقے بھی اس کے نرغے میں آچکے ہیں۔ دو تین اضلاع ہی ایسے ہوں گے جہاں طالبان کی سرگرمیاں نہیں دیکھی جا رہیں، باقی تمام صوبہ اس سے متاثر ہے۔


قبائلی علاقوں میں پہلی مرتبہ باجوڑ کے عوام نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ لاکھوں نے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر قائم کیمپوں کو اپنا عارضی مسکن بنایا۔

اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی نئی حکومت کو بھی اس بڑھتی ہوئی ’طالبانائزیشن’ کا احساس ہے۔ نئے صدر آصف علی زرداری اعتراف کرچکے ہیں کہ اس وقت شدت پسندوں کو برتری حاصل ہے۔ تاہم حلف اٹھانے کے فوراً بعد انہوں نے اپنے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ شدت پسندوں کو ایک انچ زمین پر بھی قبضہ کرنے نہیں دیں گے۔

 لندن میں گزشتہ دنوں مزید ایسے کئی افراد کو عدالت نے سزائیں سنائی ہیں جن پر دو ہزار چھ میں پرواز کے دوران طیارے تباہ کرنے کے الزامات تھے۔ ان افراد کے تانے بانے ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی پاکستان سے جوڑے گئے ہیں۔

القاعدہ اور طالبان اگرچہ زیر عتاب رہے ہیں لیکن اب تک اپنے رہنماؤں کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ مغربی ممالک پاک افغان سرحد کے علاقے میں ان کی موجودگی کا شک ظاہر کرتے رہے ہیں لیکن جاسوس طیاروں کی مدد سے بھی اب تک ان کو پکڑنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسی وجہ سے الزام ہے کہ یہ تنظیمیں اس علاقے سے مغربی ممالک پر مزید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

جاسوس طیاروں کی مسلسل پروازوں کے ذریعے امریکہ اسامہ یا مولوی عمر کو تو اب تک نہیں ڈھونڈ پایا ہے لیکن بغیر پائلٹ کے طیاروں کے ذریعے وقتاً فوقتاً قبائلی علاقوں میں حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں حالیہ دنوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ ایسے تازہ چار حملوں میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں مبینہ طور پر موجود دہشت گردی کے نیٹ ورک کے روابط بیرون ملک بھی بدستور ظاہر ہو رہے ہیں۔ لندن میں گزشتہ دنوں عدالت میں کچھ افراد کو قصوروار قرار دیا گیا جو دو ہزار چھ میں پرواز کے دوران طیارے تباہ کرنے کے مقدمات میں ملزم تھے۔ ان افراد کے تانے بانے ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی پاکستان سے جوڑے گئے ہیں۔ لیکن ان پر طیارے تباہ کرنے کی سازش کا الزام ثابت نہیں ہو سکا۔

 پاکستان نے اگرچہ نائن الیون کے بعد قلابازی کھاتے ہوئے طالبان کی حمایت بند کر دی تھی لیکن بعض مغربی خصوصاً امریکی حکام کو آج بھی شک ہے کہ بعض پاکستانی ادارے جیسے کہ آئی ایس آئی شدت پسندوں کی سرپرستی جاری رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان نے اگرچہ نائن الیون کے بعد قلابازی کھاتے ہوئے طالبان کی حمایت بند کر دی تھی لیکن بعض مغربی خصوصاً امریکی حکام کو آج بھی شک ہے کہ بعض پاکستانی ادارے جیسے کہ آئی ایس آئی شدت پسندوں کی سرپرستی جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستانی حکام اس الزام کی بار بار تردید کرتے آئے ہیں لیکن شکوک و شبہات میں بظاہر کوئی کمی نہیں آئی ہے۔

آج صورتحال یہ ہے کہ اگرچہ پاکستان کے ایک لاکھ سے زائد فوجی افغان سرحد پر نظر رکھے ہوئے ہیں لیکن زیادہ کوشش اس کی ملک کے اندر شدت پسندی کو روکنے پر مرکوز ہے۔ وہ باجوڑ اور سوات میں لڑ رہی ہے تاہم القاعدہ کی تلاش اور خاتمے کا مشن اس نے امریکہ کے حوالے کر دیا ہے۔ وہی بغیر پائیلٹ کے طیاروں یا پھر جہاں ضرورت ہو انگور اڈا کی طرز پر زمینی کارروائی بھی کرنے لگا ہے۔

 اراکین پارلیمان حکومت سے بار بار انہیں بند کمرے کے اجلاس میں ہی سہی بریفنگ کے ذریعے اعتماد میں لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ فوجی قیادت بھی اس اہم موضوع پر ایوان میں بحث کے حق میں ہے لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے ایسی کسی تیاری کے آثار نہیں ہیں۔

مقامی قبائلیوں کے بعد اس وقت کوئی مشکل میں ہے تو وہ ہیں صحافی۔ گیارہ ستمبر کے بعد سے قبائلی علاقوں تک رسائی غیرمقامی پاکستانی صحافیوں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بنا ہے۔ ابتدائی دنوں میں تو ہر کوئی قبائلی علاقے پہنچ جاتا تھا۔ حکومت تو پہلے بھی صحافی کے جانے پر اس کے تحفظ کی ضمانت دینے سے قاصر تھی لیکن اب تو مقامی طالبان نے بھی ان کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

قبائلی علاقوں کی کوریج محض فریقین کے بیانات اور دعووں کی بنیاد پر ہو رہی ہے۔ نہ تو حکومت اور نہ ہی طالبان کی شاید خواہش ہے کہ اصل صورتحال سے دنیا آگاہ ہوسکے۔

امید کی ایک کرن اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششیں ہوسکتی ہیں۔ اراکین پارلیمان حکومت سے بار بار انہیں بند کمرے کے اجلاس میں ہی بریفنگ کے ذریعے اعتماد میں لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ فوجی قیادت بھی اس اہم موضوع پر ایوان میں بحث کے حق میں ہے لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے ایسی کسی تیاری کے آثار نہیں ہیں۔

دو ہزار ایک سے لے کر اب تک دہشت گردی کے خلاف جنگ کے خاتمے کے آثار پیدا نہیں ہوئے ہیں۔ حالات صرف خراب ہی ہوئے ہیں۔ ایسے میں شدت پسندی پر مستقبل قریب میں جلد قابو پانے کے امکانات کم ہی ہیں۔

وزیرستان صورتحال
علاقے میں غیرملکیوں کی موجودگی حقیقت ہے۔
طالبان(فائل فوٹو)’قبائلی رپورٹنگ‘
’طالبان صرف ایک بار پیار سے تنبیہ کرتے ہیں‘
طالبان سےمعاہدہ
پاکستان کی سرزمین سے طالبان کے حملے؟
طالبان سے مفاہمت کی کوشش (فائل فوٹو)مفاہمت کہاں تک؟
طالبان سے مفاہمت کی بیل منڈھے چڑھے گی؟
طالبان وال چاکنگاسلام آباد میں طالبان
دارالحکومت میں طالبان کے حق میں وال چاکنگ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد