’طالبان بڑے پیار سے تنبیہ کرتے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کا قبائلی علاقہ پچھلی تین دہائیوں سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر خبروں کا محور بنا ہوا ہے۔ ان تین دہائیوں میں میں جتنی توجہ افغانستان پر مرکوز تھی اتنی ہی توجہ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر بھی تھی۔ جہاں غیر قبائلی علاقوں کے صحافی رپورٹنگ کرنے میں سرگرم تھے وہاں قبائلی علاقوں کے صحافی بھی پیچھے نہ رہے۔ آج کے دور کو دیکھا جائے تو پاکستان میں ٹیلی وژن چینلز بڑی تعداد میں آئے ہیں اور ہر چینل کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر سب سے پہلے بریک کریں اور ایسی خبر نشر کی جائے جو صرف اس چینل کے پاس ہی ہو۔ کچھ یہی حال پاکستان کی اخبارات کا ہے۔ دوسری طرف عالمی میڈیا پاکستان کے قبائلی علاقوں سے آنے والی خبر کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے صحافی قومی اور بین الاقوامی ٹیلیویژن اور اخبارات کے لیے کام کر رہے ہیں اور انہی کی بنائی ہوئی خبریں پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ انہی کی خبروں پر ایک اخبار یا ٹیلیویژن چینل دوسرے پر سبقت لے جانے کے دعوے کرتے ہیں۔ لیکن یہی ٹیلیویژن اور اخبارات کیا ان صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دینے مشکلات پیش آنے پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان کے قبائلی علاقوں کے صحافیوں سے ملاقات کا موقع ملا۔ تمام قبائلی علاقوں کی ایجنسیوں کے صحافی حال ہی میں اسلام آباد میں ایک ورکشاپ میں شرکت کے لیے آئے ہوئے تھے اور ان سے ملنے کا موقع ملا۔ موقع ملا کہ ان سے معلوم کیا جا سکے کہ دشوار اور خطرناک حالات میں صحافت کرنے میں کیا مشکلات درپیش آتی ہیں اور ان کے ادارے ان کی فلاح و بہبود کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔ بات چیت کا آغاز باجوڑ میں قتل ہونے والے صحافی ابراہیم خان کے حوالے سے ہوا۔ اس پر تمام صحافی نہ صرف افسردہ بلکہ غصے میں بھی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انکوائری کمیٹی بنانے کا کیا فائدہ کیونکہ اس قسم کی کمیٹی اور ان کی رپورٹ میں کچھ نہیں ہوتا۔
ان کی بات بھی درست ہے کیونکہ اسلام آباد میں لال مسجد کے واقع کے پہلے دن ہی ایک کیمرہ مین اپنا کام کرتے ہوئے گولی کا نشانہ بنا اور ہلاک ہو گیا جبکہ ایک اور نجی ٹی وی کا کیمرہ مین گولی لگنے سے مفلوج ہو گیا۔ اس وقت ایک بحث شروع ہوئی کہ صحافیوں کی حفاظت کے لیے میڈیا اداروں نے کیا اقدام کیے ہیں اور کیا ان اداروں نے اپنے کارکنوں کی انشورنس کرائی ہے یا نہیں۔ اس بحث کا فائدہ کم از کم پاکستان کے بڑے علاقوں میں یہ ہوا کہ میڈیا اداروں نے اپنے کارکنان کو بلٹ پروف جیکٹس مہیا کیں۔ قبائلی علاقوں کے صحافیوں سے بات ابراھیم خان کی ہوئی تو میں نے ان سے سوال پوچھا کہ ان کو ان کے اداروں کی طرف سے بلٹ پروف جیکٹ دی گئیں ہیں۔ جواب میں پہلے انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر ایک صحافی نے کہا ’ہم صرف ایک جیکٹ کو جانتے ہیں اور وہ ہے خودکش جیکٹ۔’ ان صحافیوں میں پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز کے لیے کام کرنے کے ساتھ ساتھ غیر ملکی چینلز کے لیے بھی کام کرنے والے تھے۔ ایک غیر ملکی ٹی وی چینل کے لیے کام کرنے والے صحافی نے بتایا کہ اس چینل کے لوگوں کی تربیت کے لیے گورے آئے تھے۔ ’جن حالات میں میں رپورٹنگ کرتا ہوں سن کر انہوں نے کہا کہ آپ تو جنگ سے بھی مشکل حالات میں کام کرتے ہو۔ اس کے بعد انہوں نے پلٹ کر کے بھی نہیں پوچھا‘۔ قبائلی علاقوں کی مختلف ایجنسیوں سے آئے صحافیوں کا پولیٹیکل ایجنٹوں کے حوالے سے مختلف آراء تھیں۔ ایک ایجنسی کے صحافیوں نے اگر کہا کہ ان کی ایجنسی کا پولیٹیکل ایجنٹ ان کی خبر کے حوالے سے بڑی مدد کرتے ہیں تو دوسری ایجنسی کے صحافیوں نےکہا کہ ان سے رابطہ کرنا فضول ہے۔ لیکن جس بات پر سب متفق تھے وہ یہ تھی کہ خبر سے اگر انتظامیہ خوش ہو جائے تو مقامی طالبان ناراض ہو جاتے ہیں اور اگر وہ مطمئن ہوں تو انتظامیہ ناراضگی کا اظہار کرتی ہے۔ ’ایسی صورتحال میں آپ ہی بتائیں کہ ہم خبر کیسے لکھیں۔’ ایک پشاور کے اخبار کے نمائندے نے کہا ’چلیں میری خبر پر طالبان ناراض ہو تو میں اس بارے میں کچھ کر بھی سکتا ہوں۔ لیکن اگر مجھے کسی اور کی خبر کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا جائے تو پھر میں کیا کر سکتا ہوں۔ مجھے ایک بار پکڑ لیا کہ دوسری اخبار میں ہمارے خلاف چھپا ہے۔ چونکہ تم اس نمائندے کو جانتے ہو اس لیے تم بھی ذمہ دار ہو۔ ایسے موقع پر ہم کیا کریں۔’ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے اداروں کو اس بات کا علم ہے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ کئی بار بتا چکے ہیں لیکن مالکان کے لیے کارکنوں سے زیادہ خبروں کی اہمیت ہے۔ ’ان اداروں سے کیا توقع کی جائے جو خبروں کے منتظر تو ہوتے ہیں لیکن قبائلی علاقوں میں اپنے نامہ نگاروں کو اتنے پیسے بھی نہیں دیتے کہ وہ اپنے فون اور فیکس کا خرچہ ہی پورا کرسکیں۔’ اس بات پر ایک صحافی نے کہا ’میں آپ کو قصہ سناتا ہوں کہ ادارے اپنے نامہ نگاروں کا کتنا خیال رکھتے ہیں۔ پشاور سے ایک نجی ٹی وی کی ٹیم آئی اس واقعہ کی فلم بنانے جس میں طالبان نے نماز جنازہ کے بعد ایک مقامی شخص کو سر عام گولی ماری تھی۔’ انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ نامہ نگار مقامی تھا اس لیے کیمرہ لیا اور فلم بندی شروع کی۔ ’اس ہلاکت نے اس کے ذہن پر اتنا اثر کیا کہ وہ ادھر ہی گر گیا۔’ انہوں نے مجھ سے سوال پوچھا کہ میرے خیال میں اس کے بعد کیا ہوا۔ میرے جواب دینے سے پہلے ہی انہوں نے کہا کہ پشاور سے آئی ٹیم نے اپنا کیمرہ اٹھایا اور گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے۔ ’اس کیمرہ مین کو وہاں کے مقامی افراد نے اٹھایا۔ وہ صحافی اپنے پیسوں سے علاج کرا رہا ہے کیونکہ اس نے جب اپنے ادارے سے علاج کی بات کی تو اس کو یہ کہہ کر خاموش کرا دیا گیا کہ تم مذاق کر رہے ہو۔’ ایک دوسرے صحافی نے کہا کہ اندازہ لگائیں کہ اس نجی ٹی وی نے پورا دن اس واقع کی فلم اپنی خصوصی فلم کہہ کر چلائی لیکن اس صحافی کو ادھر ہی پھینک کر آ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اداروں کو اپنے نامہ نگاروں کی اتنی فکر نہیں ہے کیونکہ وہ اپنا مفاد دیکھتے ہیں۔ ’صحافی جب مر جائے تو ادارہ اپنے مفاد کی خاطر اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ لیکن جب وہ زندہ ہوتا ہے تو اس کو تنخواہ بھی دینا گوارہ نہیں کرتے۔’ تو آخر اس کا کیا حل ہے؟ اس کا حل انہوں نے یہ نکالا ہے کہ اپنی جان بچانے کے لیے وہ صرف وہ حقائق خبر میں ڈالتے ہیں جن سے ان کی جان کو خطرہ نہ ہو۔ ایک صحافی نےکہا ’میں اپنی خبر میں صرف تیس سے چالیس فیصد حقائق ڈالتا ہوں اور باقی ’پی‘ جاتا ہوں۔ کیونکہ مجھے اپنی جان پیاری ہے کیونکہ طالبان صرف ایک بار بڑے پیار سے تنبیہ کرتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ پولیٹیکل ایجنٹ اگر ان پر دباؤ نہ ڈال سکیں تو وہ ان کے خاندان والوں پر دباؤ ڈالتے ہیں۔’ایف سی آر کا استعمال کرتے ہوئے ان کو پورے خاندان سمیت ایجنسی بدر کر دیتے ہیں۔ میں خود کئی بار ایجنسی بدر ہو چکا ہوں لیکن ہم ان تمام مشکلات کے باوجود خوش رہتے ہیں کیونکہ ہمیں خوش رہنے سے کوئی نہیں روک سکتا‘۔ | اسی بارے میں باجوڑ میں صحافی گولیوں سے چھلنی22 May, 2008 | پاکستان قبائلی صحافی قتل23 May, 2008 | پاکستان باجوڑ:مقتول صحافی کی تدفین23 May, 2008 | پاکستان ’طالبان کے دیس میں‘27 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||