قبائلی صحافی قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صحافی کی زندگی بھی عجیب ہو تی ہے۔ ساری عمر خبروں کے پچھے بھاگتا ہے اور آخر میں خود بھی ایک خبر بن جاتا ہے۔ یہی کچھ قبائلی صحافی ابراہیم خان کے ساتھ بھی ہوا۔ گزشتہ روز بظاہر تو وہ کسی بڑی خبر کی تلاش میں نکلے تھے لیکن خود ہی ایک خبر بن گئے۔ قبائلی علاقوں میں صحافیوں کے لیے آزادانہ رپورٹنگ کرنا ہمیشہ سے موت سے کھیلنے کے مترادف رہا ہے۔ صحافیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات سب سے پہلے جنوبی وزیرستان میں دیکھنے میں آئے۔ فروری دو ہزار پانچ میں وانا میں صحافیوں کی ایک گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی جس میں دو صحافی اللہ نور اور امیر نواب ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے۔ اس گاڑی میں ہمارے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر بھی سوار تھے تاہم خوش قسمتی سے وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔ سال دو ہزار چھ میں شمالی وزیرستان میں ایک اور قبائلی صحافی حیات اللہ کو نامعلوم افراد نے اغواء کیا اور چھ ماہ تک وہ لاپتہ رہے۔ پھر اچانک ایک دن ان کی میرعلی کے قریب گولیوں سے چھلنی لاش ملی۔ حیات اللہ کے قتل کے خلاف ملک بھر میں زبردست احتجاج ہوا۔ حکومت نے اس کی قتل کی تحقیقات کےلیے تین انکوائری کمیشن مقرر کیے لیکن آج تک کسی کمیشن کی تحقیقات منظر عام پر نہیں آسکی ہیں اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ اسی طرح گزشتہ سال باجوڑ ایجنسی میں بھی ایک مقامی صحافی نور حکیم ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ سال دوہزار چار اور پانچ میں وزیرستان میں صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں ایک وقت میں اتنا اضافہ ہوا کہ کئی صحافیوں کو صحافت کے شعبے کو خیر آباد کہنا پڑا، کئی کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا اور کچھ کے بھائی اور رشتہ داروں کو جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اب تازہ صورتحال یہ ہے کہ وزیرستان میں چند صحافی رہ گئے ہیں لیکن وہ بھی چوری چھپے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد قبائلی صحافیوں کے خلاف تشدد کا جو ایک سلسلہ شروع ہوا تھا وہ بدستور جاری ہے ۔ ابراہیم خان سے واقفیت تقربناً تین سال پہلے اس وقت ہوئی جب باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا۔ ابراہیم ایک نہایت ہی شریف اور دھیمے مزاج کے آدمی تھے۔ ان کے مقامی طالبان اور انتظامیہ دونوں سے اچھے مراسم تھے۔ جب بھی کسی خبر کے حوالے سے فون کیا تو انہیں ہر وقت تیار پایا۔ اپنے علاقے سے انہیں جنون کی حد تک محبت تھی۔ وہ اکثر اوقات اس بات پر پریشان رہتے کہ کہیں باجوڑ ایجنسی کا حال بھی وزیرستان جیسا نہ ہو جائے۔ مجھے یاد ہے ڈمہ ڈولہ میں مدرسے پر حملے میں جب اسّی کے قریب افراد ہلاک ہوئے تو اس دن محمد ابراہیم بہت زیادہ خفا تھے۔ وہ کہتے تھے کہ بعض قوتین نہیں چاہتیں کے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حالات پُرامن ہوں۔ وہ مقامی صحافیوں کے سرگرم رہنما بھی تھے۔ ان کا شمار قبائلی صحافیوں کی تنظیم ٹرائبل یونیئن آف جرنلسٹس کے اہم رہنماؤں میں ہوتا تھا جبکہ باجوڑ ایجنسی میں نامہ نگاروں کے جنرل سیکرٹری بھی تھے۔ باجوڑ کے مقامی صحافی بتاتے ہیں کہ ابراہیم خان نے کبھی پولیٹکل انتظامیہ کی گاڑی میں سفر نہیں کیا بلکہ وہ ہر وقت اپنی موٹر سائیکل پر جانا پسند کرتے تھے۔ مرحوم نے پسماندگان میں بیوہ، تین بیٹیاں اور دو بیٹے چھوڑے ہیں۔ |
اسی بارے میں باجوڑ میں صحافی گولیوں سے چھلنی22 May, 2008 | پاکستان باجوڑ:مقتول صحافی کی تدفین23 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||