باجوڑ:مقتول صحافی کی تدفین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ روز نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے مقامی صحافی ابراہیم خان کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد ابائی علاقے میں سپرد خاک کردیا گیا ہے۔ نماز جنازہ میں تحریک طالبان کے مرکزی نائب امیر مولوی فقیر محمد اور مرکزی ترجمان مولوی عمر کے علاوہ علاقے کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے مولوی فقیر محمد نے مقامی صحافی کی قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ تحریک طالبان اس قتل کی تحقیقات کرے گی اور ملزمان کو گرفتار ہونے پر سرعام سزا دی جائےگی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نماز جنازہ میں کسی سرکاری اہلکار نے شرکت نہیں کی۔ صحافیوں کا احتجاج اس سلسلے میں جمعہ کو پشاور میں خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کے زیراہتمام ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا جس میں سول سوسائٹی اور وکلاء کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ مظاہرہ پشاور پریس کلب سے شروع ہوا اور گورنر ہاؤس کی طرف جانے والی سڑک پر اختتام پذیر ہوا۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جنپر ’مقتول صحافی کے قاتلوں کو فوری گرفتار کرو اور صحافیوں کو تحفظ دو‘ کے نعرے درج تھے۔ نامہ نگاروں نے اس موقع پر ’ قاتل قاتل حکومت قاتل‘ جیسےنعرے بھی لگائے۔ مظاہرین سے خطاب میں پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض اور کے ایچ یو جے کے جنرل سیکرٹری خالد خان خیشگی نے کہا کہ حکومت صحافیوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہوگئی ہے لہذا اسے فوری طورپر مستعفی ہوجا نا چاہیے۔ ادھر قبائلی صحافیوں کی تنظیم ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس نے بھی محمد ابراہیم کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور حکومت سے صحافی کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ باجوڑ ایجنسی میں بھی مقامی صحافیوں نے ابراہیم خان کے قتل کے خلاف احتجاجاً ہر قسم کے صحافتی سرگرمیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ باجوڑ کے اخبارنوسیوں کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس وقت تک رپورٹنگ نہیں کرینگے جب تک حکومت کی طرف سے انہیں مکمل تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا۔ واضح رہے کہ نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے نمائندہ اور سنئیر مقامی صحافی محمد ابراہیم خان کو گزشتہ روز باجوڑ ایجنسی میں نامعلوم مسلح نقاب پوشوں نے گولیاں مار ہلاک کیا تھا۔ ایکسپریس نیوز کی انتظامیہ کے مطابق محمد ابراہیم مولوی عمر کا انٹرویو کر کے واپس آرہے تھے کہ عنایت کلی بائی پاس کے قریب مسلح نقاب پوشوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے وہ موقع ہی پر جان بحق ہوگئے۔ مرحوم کی نماز جنازہ جمعہ کی شام چار بجے ان کے آبائی علاقے میں ادا کی جائے گی۔ مقتول صحافی باجوڑ ایجنسی میں ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری تھے۔ مرحوم نے اپنے پسماندگان میں ایک بیوہ، چار بیٹیاں اور دو بیٹے سوگوار چھوڑے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی باجوڑ ایجسنی میں مقامی صحافی نور حکیم ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ |
اسی بارے میں باجوڑ میں صحافی گولیوں سے چھلنی22 May, 2008 | پاکستان خیبرایجنسی میں مذہبی کمانڈر قتل20 May, 2008 | پاکستان میڈیا پر پابندی کی مذمت13 May, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||