میڈیا پر پابندی کی مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں صحافیوں کی تنظیموں نے پاکستان سپریم کورٹ کی طرف سے میڈیا پر لگائي جانیوالی پابندیوں کے احکامات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں میں نیویارک کی کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس اور امریکہ میں پاکستانی صحافیوں کی تنظیم کولیشن فار پاکستانی جرنلسٹس بھی شامل ہیں۔ صحافیوں اور میڈیا کی آزادی کے تحفظ کے لیے کام کرنیوالی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس یا سی پی جے نے پاکستان میں سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کی میڈیا کوریج پر کنٹرول رکھنے کی کوششیں ترک کردے۔ نیویارک میں اپنے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں سی پی جے نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے ملک کے مقبول ترین نشریاتی ادارے جیو اور اسکے جنگ گروپ کو حکم دیا کہ وہ تین نومبر دو ہزارسات سے لیکر صدر جنرل مشرف کے ہاتھوں معزول ججوں کی بحالی کے متنازعہ مسئلے کے تعلق اپنی تمام وڈیو اور اخباری مضامین کا ریکارڈ عدالت میں پیش کریں۔ سی پی جے نے کہا ہے کہ روزنامہ’جنگ‘ اور ٹی وی چینل ’جیو‘ نے گذشتہ دنوں یہ خبر دی تھی کہ سپریم کورٹ کے جسٹس نواز عباسی سمیت ہائیکورٹ کے ججوں اور حکومت کے وزراء کے درمیاں اجلاس ہوا تھا۔ سی پی جے کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جس عدالت نے حالیہ احکامات جاری کیے ہیں وہ مشرف کے مقررہ ججوں کے کنٹرول میں ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کورٹ نے اپنا وہ حکم واپس لے لیا جس کے دور رس اثرات مرتب ہونے تھے جس میں اس نے جیو اور جنگ کو ججوں کی بحالی کے تمام مسئلے کو سرے سے ہی نشر و شائع کرنے سے روکدیا تھا۔ عدالت نے کل یعنی پیر کے روز اپنا ایسا اصل حکم واپس لے لیا جب بہت سےصحافیوں نے ایسی ہدایات کی خلاف ورزی کرنے کے اعلان کیا۔ سی پی جے کے کوآرڈینیٹر برائے ایشیا بوب زیئیٹ کا کہنا ہے ’سپریم کورٹ کا حالیہ حکم اس پریس کی آزادیء نوکا پیچھے کی طرف قدم ہے جو آزادیاں گذشتہ اٹھارہ فروری کو پاکستان میں انتخابات کے بعد حاصل ہوئی تھیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’کورٹ کو پاکستان میں پریس کی آزادیوں کو یقینی بنانےکیلیے کام کرنا چاہیے نہ کہ پریس کو تب خاوش کرنے کیلیے جب بھی پاکستان میں متنازعہ مسئلہ ابھرتا ہو۔‘ دوسری طرف امریکہ میں پاکستانی صحافیوں کی تنظیم کولیشن آف جرنلسٹس کے صدر مسعود حیدر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں جنرل مشرف کی مقرر کردہ ججوں کی طرف سے پریس کی آزادی پر قدغن اور صحافیوں کی زبان بندی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں پریس کی آزادی خیرات میں نہیں ملی بلکہ گذشتہ اٹھارہ فروری کے انتخابات میں عوام نے فوجی حکمرانوں کیخلاف فیصلہ دیا۔ جیو اور جنگ کیخلاف احکامات پاکستان میں آنیوالے مزید مخدوش حالات کا پیش خیمہ ہے۔ نیویارک میں پاکستانی صحافیوں کے رہنما نے کہا کہ سپریم کورٹ کا کام پریس کی آ زادی کو مضبوط کرنا ہے نہ کہ اس کا گلا گھونٹنا۔انہوں نے اپنے صحافی ساتھیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ معزول ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کی جدوجہد میں شامل ہوجائيں۔ | اسی بارے میں ’میڈیا پر پابندی، دھمکیاں نہیں‘12 May, 2008 | پاکستان خبروں پر پابندی لگا کر واپس لے لی12 May, 2008 | پاکستان کراچی: صحافیوں کا مشعل بردار جلوس03 May, 2008 | پاکستان میڈیا بل قومی اسمبلی میں پیش 11 April, 2008 | پاکستان میڈیا قوانین کا خاتمہ یا ترامیم09 April, 2008 | پاکستان ’پیمرا کو ہی ختم کیا جائے‘29 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||