BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 May, 2008, 07:49 GMT 12:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خبروں پر پابندی لگا کر واپس لے لی

سپریم کورٹ(فائل فوٹو)
سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی
سپریم کورٹ نے ایک نجی ٹیلی ویژن کمپنی کے خلاف مقدمے کی سماعت الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا کو حکم دیا ہے کہ وہ گزشتہ برس تین نومبر کے بعد ذارئع ابلاغ میں ججوں سے متعلق نشر اور شائع ہونے والی تمام خبروں کا ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کرے۔

عدالت نے مقدمے کے فیصلے تک ججوں سے متعلق کوئی بھی خبر، پروگرام یا تصویر نشر اور شائع نہ کرنے کا حکم بھی دیا تھا لیکن عدالت میں موجود صحافیوں کے احتجاج پر یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔

جسٹس نواز عباسی کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے پیر کو ایک نجی ٹی وی چینل جیو کی جانب سے ایک خبر پر از خود نوٹس لیتے ہوئے چینل کے اسلام آباد کے بیورو چیف ابصار عالم کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ اس کے علاوہ عدالت نے روزنامہ جنگ کے ایڈیٹر اور پبلیشر کو بھی طلب کیا تھا۔

صحافیوں کا احتجاج
 کسی ایک چینل کی خبر کو بنیاد بنا کر تمام دیگر ذرائع ابلاغ پر یہ پابندی نہیں عائد کی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا تو اس وقت آئین کے تحفظ کی جنگ لڑ رہا ہے اور سب کو معلوم ہے کہ آئین کی خلاف ورزی کس نے کی تھی۔
مظہر عباس
نجی ٹی وی چینل اور مذکورہ اخبار نے آٹھ مئی کو ایک خبر نشر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس نواز عباسی اور فقیر محمد کھوکھر نے سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ سے ملاقات کی ہے جبکہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی طرف سے اس کی تردید کی گئی تھی۔

جسٹس نواز عباسی نے سماعت کے دوران مقدمے کے فیصلے تک ججوں سے متعلق کوئی بھی خبر، پروگرام یا تصویر نشر اور شائع نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے پیمرا سے کہا کہ وہ تین نومبر کے بعد عدلیہ سے متعلق نشر اور شائع ہونے والی تمام خبروں اور پروگراموں کا ریکارڈ پیش کرے۔

اس پر وہاں موجود پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکٹری جنرل مظہر عباس نے اس فیصلے کی مخالفت کی اور کہا کہ کسی ایک چینل کی خبر کو بنیاد بنا کر تمام دیگر ذرائع ابلاغ پر یہ پابندی نہیں عائد کی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا تو اس وقت آئین کے تحفظ کی جنگ لڑ رہا ہے اور سب کو معلوم ہے کہ آئین کی خلاف ورزی کس نے کی تھی۔

جسٹس نواز عباسی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل انیس کے تحت میڈیا کو مادر پدر آزادی نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عدلیہ کی تضحیک کی جا رہی ہے، جو جس کی مرضی ہو اس کی پگڑی اچھال دیتا ہے۔

سینئر وکلاء شریف الدین پیرزادہ، عبدالحفیظ پیرزادہ اور وسیم سجاد بھی عدالت میں پیش ہوئے جنہیں عدالت نے معاونت کے لیے طلب کیا تھا۔ حفیظ پیرزادہ نے اس موقع پر کہا کہ آرٹیکل انیس کی تشریح کی جانی چاہیے کیونکہ یہ ایک اہم معاملہ ہے۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سنیٹر بابر اعوان نے عدالت کو یاد دلایا کہ توہین عدالت کے ساٹھ سے زائد دیگر مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔ ان کے بارے میں بھی کوئی فیصلہ کیا جانا چاہیے۔

ابصار عالم نے عدالت سے اپنے وکیل فخرالدین جی ابراہیم سے مزید مشاورت کا وقت طلب کیا۔ آج کی کارروائی کے بعد عدالت نے سماعت بائیس مئی تک ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں
کیا حکومت بوکھلا گئی ہے؟
01 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد