BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 May, 2008, 22:54 GMT 03:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: صحافیوں کا مشعل بردار جلوس

کراچی مشعل بردار مظاہرہ
شرکاء نے صحافیوں کے قتل کی مذمت کی اور میڈیا کے خلاف عائد سرکاری پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا
صحافیوں کے عالمی دن کے موقع پر سنیچر کی رات کو کراچی کے صحافیوں نے کراچی پریس کلب سے مشعل بردار جلوس نکالا جس میں انہوں نے پاکستان میں صحافیوں کے قتل کی مذمت کی اور میڈیا کے خلاف عائد سرکاری پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

مشعل بردار جلوس مختلف شاہراہوں سے ہوتا ہوا پہلے ڈان اخبار کے دفتر اور پھر جنگ اخبار کے دفتر پر اختتام پذیر ہوا۔ جلوس میں شامل شرکاء نے میڈیا کے خلاف عائد پابندیوں کے خلاف نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ میڈیا پر عائد پابندیوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

جلوس کے شرکاء سے کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر خورشید تنویر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ برس پندرہ اور اس برس اب تک آٹھ صحافیوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کا واحد خطرناک ترین ملک بن کر سامنے آیا ہے جہاں اتنے صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے، یہ انتہائی شرمناک ہے جس کی کراچی یونین آف جرنلسٹس سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

انہوں نے موجودہ حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ حکمرانوں نے آزاد پریس کو کچلنے کی کوشش کی تو ہم ان کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گے۔

صحافیوں کا مشعل بردار جلوس
مشعل بردار جلوس مختلف شاہراہوں سے ہوتا ہوا پہلے ڈان اخبار کے دفتر اور پھر جنگ اخبار کے دفتر پر اختتام پذیر ہوا
انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ماضی میں حکومت اور اخباری مالکان کے درمیان گٹھ جوڑ کے باعث صحافیوں کی تنخواہوں کا قانون ویج ایوارڈ کے ذریعے کئی برس سے نافذ نہیں ہوسکا ہے اور اگر موجودہ حکومت نے بھی ویج ایوارڈ نافذ نہیں کرایا تو صحافیوں کی جدوجہد جاری رہے گی۔

جلوس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کراچی پریس کلب کے صدر نجیب احمد نے کہا کہ اس ملک میں ڈکٹیٹروں نے حکومت زیادہ عرصے کی ہے اور اس دور میں بھی صحافیوں نے اپنے فرائض کوڑے کھاکر اور جیلوں میں جاکر بھی ادا کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پرنٹ میڈیا کی آزادی ہم نے جدوجہد کے بعد حاصل کی ہے اور اب ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ الیکٹرونک میڈیا کے خلاف پیمرا آرڈیننس ختم کیا جائے اور اگر الیکٹرونک میڈیا کے خلاف کالے قوانین ختم نہ کیے گئے تو جیسا صحافی ماضی میں فوجی ڈکٹیٹروں کے خلاف جدوجہد کرتے رہے اب سول ڈکٹیٹروں کے خلاف بھی ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

جلوس کے اطراف پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ بعدازاں جلوس کے شرکاء پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

دوسری طرف لاہور میں سینئر صحافیوں نےآزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن یعنی سیفما کے زیر اہتمام ہونے والے سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے بغیر صحافت کی یا عدلیہ کی آزادی کا تصور کرنا ممکن نہیں ہے۔

سنیچر کے روز سیمینار میں پاکستان میں صحافیوں کو پیشہ وارنہ فرائض کی انجام دہی کے دوران پیش آنے والی مشکلات کا جائزہ لیا گیااور سیمینار میں میڈیا، عدلیہ اور جمہوریت کے آپس میں تعلق کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سیفما کے سیکرٹری جنرل امتیاز عالم نے اپنے خطاب میں کہا کہ میڈیا، عدلیہ اور جمہوریت کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور جمہوریت ہی اصل چیز ہے جو صحافت کو لمبے عرصے تک آزاد رکھ سکتی ہے اور آزاد عدلیہ بھی جمہوریت کی ہی مرہون منت ہے اور جمہوریت کے بغیر صحافت کی یا عدلیہ کی آزادی کا تصور کرنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ابھی شہریوں کو مکمل طور معلومات کا حق حاصل نہیں ہے کیونکہ صحافیوں کے لئے سرکاری اداروں میں جا کر فائلیں نکلوانا اور لوگوں باخبر کرنا بہت مشکل کام ہے۔

اُنہوں نے میڈیا مالکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اخباری مالکان نے
صحافتی اداروں میں مُدیر کے عہدے کو ختم کر دیا اور خود ایڈیٹر بن چکے ہیں جو قابل افسوس ہے۔

سینئر صحافی حسین نقی نے کہا کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ اشتہاروں کی مد میں کروڑوں روپے کماتے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس لحاظ سے ورکنگ جرنلسٹس کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جاتا ہے۔

ان کے بقول گزشتہ ایک برس میں بارہ صحافی مارے گئے ہیں ۔حسین نقی کا کہنا ہے کہ میڈیا مالکان نے اپنے کیمروں کی انشورنس تو کروا رکھی لیکن صحافیوں کا بیمہ کبھی نہیں کرایا جاتا ۔

نامور صحافی اور کالم نگار آئی اے رحمان نے کہا کہ جمہوریت کےبغیر عدلیہ اور صحافت کی آزای ممکن نہیں ہے۔

اُن کے بقول ’اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ پاکستان میں جمہوریت آ چکی ہے کیونکہ جو نئی جمہوریت آئی ہے اس کی سرشت میں ابھی آمریت گھسی ہوئی ہے ورنہ یوسف رضا گیلانی فوجیوں کے سامنے جا کر یہ نہ کہتے کہ فوج پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی ضامن ہے۔

ادھر پنجاب یونین آف جرنلسٹس نے پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں صحافیوں کے علاوہ وکلا اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر پنجاب یونین جرنلسٹس کے صدر شہزاد بٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ویج بورڈ ایوارڈ کا نفاذ نہ کیا تو صحافی دفتروں میں بیٹھ کر کام کرنے کے بجائے پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر کام کرنا جانتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد