BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 March, 2008, 16:23 GMT 21:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی میں صحافیوں کا احتجاج

 کراچی یونین آف جرنلسٹس
کراچی یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام احتجاجی جلسہ
کراچی میں صحافیوں کی تنظیم نےگزشتہ روز پریس کلب کے باہر صحافیوں پر تشدد کا ذمہ دار نگران صوبائی حکومت کو قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔

کراچی پریس کلب اور کراچی یونین آف جرنلسٹ کے زیر اہتمام جمعرات کی شام احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا جس میں صحافیوں پر تشدد اور انہیں کئی گھنٹے تک ہراساں کرنے کی مذمت کی گئی۔

پریس کلب کے صدر نجیب احمد نے کہا کہ صحافی نہ ماضی میں ڈرے ہیں اور نہ اب ڈریں گے، صحافی بنا رنگ و نسل اور مذہب ایک ہی ہیں مگر جو ماضی کے مظلوم تھے اب بدل چکے ہیں۔’اب وہی مظلوم ڈکٹیٹروں کے ساتھ ہیں اور ان کی سِول فوج بنے ہوئے ہیں۔۔۔ جس کو چاہتے ہیں اسے اٹھاتے ہیں، تشدد کرکے ہاتھ پاؤں توڑ کر چھوڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس بار تو چھوڑ دیا ہے آئندہ تمہارے ساتھ کیا ہونے والا ہے یہ فکر کرنا‘۔

پریس کلب کے سیکریٹری جنرل امتیاز فاران کا کہنا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین اسمبلی نے پریس کلب آکر ان واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور کہا تھا کہ اس میں کوئی تیسرا ہاتھ ملوث ہے۔

جماعت کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے اس واقعے کو تنظیم کی مقبولیت کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ واقعہ ان کے لیے اچھنبے کی بات ہے یہ ایک سازش ہوئی ہے، کچھ عناصر نے ایک بڑے عرصے کے بعد حقیقی کو زندہ کرنے کی کوشش کرکے متحدہ قومی موومنٹ کی برسوں کی کوششوں پر پانی پھیرنے کی کوشش کی ہے تاکہ اس پر پرانے بہتان اور الزام عائد کیے جائیں۔‘

کراچی میں خواتین اور پریس کے خلاف تشدد ہوا
امتیاز فاران کا کہنا تھا کہ صحافیوں کا کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ پریس کلب دیوار گریہ ہے جو بھی آتا ہے، یہاں سینہ لگا کر لوگ روتے ہیں، آج کوئی اور رو رہا ہے ہوسکتا ہے جو روک رہے ہیں کل وہ خود بھی روئیں اس لیئے اگر یہ دروازہ بند ہوگیا تو پھر کیا ہوگا۔

کراچی یونین آف جرنلسٹ کے صدر خورشید تنویر نے پولیس کو اس جرم میں برابر کا شریک قرار دیا۔’اس واقعے کے وقت تک پولیس موجود رہی مگر خاموش تماشائی بنی رہی پھر غائب ہوگئی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی نگران حکومت اس واقعے کی ذمہ دار ہے کراچی یونین آف جرنلسٹ یہ حق محفوط رکھتی ہے کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروائے ۔

کراچی پولیس کے سربراہ نیاز صدیقی کا کہنا ہے کہ پریس کلب کے باہر خواتین کا آپس میں جھگڑا ہوا تھا، صحافیوں پر تشدد سے وہ لاعلم ہیں۔
ان کا کہنا تھا ’پولیس اس سے باہر موجود ہوتی ہے، بدھ کے روز بھی پولیس دور تھی اور خواتین آپس میں لڑ پڑی جنہیں الگ کیا گیا۔

نیاز صدیقی کا کہنا تھا کہ پریس کلب کے باہر نہ فائرنگ ہوئی اور نہ ہی کوئی ہلاک یا زخمی ہوا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد