کراچی میں صحافیوں کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں صحافیوں کی تنظیم نےگزشتہ روز پریس کلب کے باہر صحافیوں پر تشدد کا ذمہ دار نگران صوبائی حکومت کو قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔ کراچی پریس کلب اور کراچی یونین آف جرنلسٹ کے زیر اہتمام جمعرات کی شام احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا جس میں صحافیوں پر تشدد اور انہیں کئی گھنٹے تک ہراساں کرنے کی مذمت کی گئی۔
پریس کلب کے سیکریٹری جنرل امتیاز فاران کا کہنا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین اسمبلی نے پریس کلب آکر ان واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور کہا تھا کہ اس میں کوئی تیسرا ہاتھ ملوث ہے۔ جماعت کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے اس واقعے کو تنظیم کی مقبولیت کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ واقعہ ان کے لیے اچھنبے کی بات ہے یہ ایک سازش ہوئی ہے، کچھ عناصر نے ایک بڑے عرصے کے بعد حقیقی کو زندہ کرنے کی کوشش کرکے متحدہ قومی موومنٹ کی برسوں کی کوششوں پر پانی پھیرنے کی کوشش کی ہے تاکہ اس پر پرانے بہتان اور الزام عائد کیے جائیں۔‘
کراچی یونین آف جرنلسٹ کے صدر خورشید تنویر نے پولیس کو اس جرم میں برابر کا شریک قرار دیا۔’اس واقعے کے وقت تک پولیس موجود رہی مگر خاموش تماشائی بنی رہی پھر غائب ہوگئی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی نگران حکومت اس واقعے کی ذمہ دار ہے کراچی یونین آف جرنلسٹ یہ حق محفوط رکھتی ہے کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروائے ۔ کراچی پولیس کے سربراہ نیاز صدیقی کا کہنا ہے کہ پریس کلب کے باہر خواتین کا آپس میں جھگڑا ہوا تھا، صحافیوں پر تشدد سے وہ لاعلم ہیں۔ نیاز صدیقی کا کہنا تھا کہ پریس کلب کے باہر نہ فائرنگ ہوئی اور نہ ہی کوئی ہلاک یا زخمی ہوا ہے۔ | اسی بارے میں ’متحدہ کے بیان کی مذمت کرتے ہیں‘07 March, 2008 | پاکستان متحدہ کےخلاف ملک گیرمظاہرے13 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||